Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{18}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِالْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ مقروض کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ قرض ادا کر دے جب تک وہ ایسے کام میں نہ پڑے جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ناپسند فرماتا ہو۔ ‘‘        (المستدرک ، کتاب البیوع،باب ان اللہ  مع الدانالخ، الحدیث: ۲۲۵۲،ج۲،ص۳۱۹)

{19}…حضرت سیدنا عبد اللہ  بن جعفر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اپنے خزانچی سے فرمایا کرتے:  ’’ جاؤ اور میرے لئے قرض لے آؤ کیونکہ  میں ناپسند کرتا ہوں کہ ایک رات بھی ایسی گزاروں جس میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ میرے ساتھ نہ ہو کیونکہ میں نے شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مندرجہ بالافرمانِ عالیشان سنا ہے۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجۃ،ابواب الصدقات،باب من ادان دیناالخ، الحدیث: ۲۴۰۹،ص۲۶۲۱)

{20}…جب اُم المؤمنین حضرت سیدتنامیمونہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  کی توجہ ان کے کثرت سے قرض لینے کی جانب کرائی گئی توآپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا نے ارشادفرمایاکہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  کا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’  میری اُمت میں سے جس کسی نے قرض لیاپھر اس کی ادائیگی کی کوشش کی لیکن ادا کرنے سے پہلے مر گیا تو میں اس کا ضامن ہوں ،جب کوئی آدمی قرض لیتا ہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ دیکھ رہا ہے کہ اس کا ادا کرنے کا ارادہ بھی ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ دنیاہی میں اس کی طرف سے ادا کر دیتا ہے۔ ‘‘  (المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللہ  عنہا ، الحدیث:  ۲۵۲۶۶،ج۹،ص۴۹۶)

 (الترغیب والترہیب، کتاب البیوع، باب الترہیب من الدین الخ،الحدیث:  ۲۷۹۹،ج۲،ص۳۸۰)

{21}…جب اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا کی توجہ ان کے کثرت سے قرض لینے کی جانب کرائی گئی توآپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا نے کشادگی آنے کے بعدارشادفرمایا کہسیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس بندے کی بھی قرض ادا کرنے کی نیت ہوتی ہے اسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے مدد حاصل ہوتی ہے۔ ‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  نے ارشاد فرمایا:  ’’ لہٰذا میں اسی مدد اور نصرت کی طلب میں رہتی ہوں ۔ ‘‘

 (المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدہ عائشۃ رضی اللہ  عنہا ، الحدیث:  ۲۴۴۹۳،ج۹،ص۳۴۶)

{22}…حضرت سیدنا امام طبرانی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی روایت  کے الفاظ یہ ہیں :  ’’ اسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے مدد اور رزق کا وسیلہ عطا ہوتاہے۔ ‘ ‘            (المعجم الاوسط، الحدیث: ۷۶۰۸،ج۵،ص۳۶۰)

{23}…سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی حدود میں سے کسی حد میں کمی کرنے کی سفارش کی تو اس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کی مخالفت کی،جوقرض کی حالت میں مرگیاپھرنہ دینار چھوڑے اور نہ ہی درہم،البتہ! آخرت میں اس کے درہم ودیناراس کی نیکیاں اور برائیاں ہیں ،جس نے جاننے کے باوجود باطل کام میں جھگڑا کیا وہ ہمیشہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ اسے ختم کرے اورجس نے کسی مؤمن کے بارے میں ایسی بات کہی جو اس میں نہ تھی تواسے جہنمیوں کی بد بواورپیپ میں بندکردیاجائے گایہاں تک کہ اپنے قول سے براء ت کا اظہار کرے۔ ‘‘     

 (المستدرک، کتاب البیوع، باب من حالت شفاعتہ دون حدالخ، الحدیث:  ۲۲۶۹، ج۲،ص۳۲۶)

{24}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن جن کا قرض پورا کرے گا وہ یہ ہیں :  (۱) جس کی قوت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے راستے میں کمزور تھی لہذا اس نے قرض لیا تا کہ اس کے ذریعے اپنے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے دشمن پر قوت حاصل کرے (۲) جس کے ہاں کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور قرض لئے بغیر اس کا کفن دفن نہ کر سکے اور  (۳) وہ شخص جسے غیر شادی شدہ رہنے کا خوف ہوا لہذا اس نے اپنے دین پر خوف کرتے ہوئے نکاح کر لیا۔ ‘‘                               (شعب الایمان ، باب فی قبض الید الخ،الحدیث:  ۵۵۵۹،ج۴،ص۴۰۴،بتغیرٍقلیلٍ)

{25}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق وامین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!  اگر کوئی آدمی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں قتل کیا جائے پھر زندہ ہو پھر قتل کیا جائے پھر زندہ ہو پھر قتل کیا جائے اور اس کے ذمہ قرض ہو تو وہ جنت میں داخل نہ ہو گا یہاں تک کہ اس کا قرض ادا کر دیا جائے۔ ‘‘

 (المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث عبداللہ  بن جحش،الحدیث: ۲۲۵۵۶،ج۸،ص۳۴۸)

{26}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ امن کے بعد اپنی جانوں کو خوف میں نہ ڈالو۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  وہ کیا ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ قرض۔ ‘‘                (السنن الکبری للبیہقی، کتاب البیوع، باب ماجاء من التشدید فی الدین، الحدیث:  ۱۰۹۶۶،ج۵،ص۵۸۲)

{27}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ کم گناہ تجھ پر موت آسان کریں گے اور کم قرض تجھے آزاد رکھے گا۔ ‘‘                                (شعب الایمان ، باب فی قبض الید الخ،الحدیث:  ۵۵۵۷،ج۴،ص۴۰۴)

{28}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ قرض زمین میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا جھنڈا ہے جب وہ کسی کو ذلیل کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی گردن میں رکھ دیتا ہے۔ ‘‘

 (المستدرک،کتاب البیوع، باب الدین رایۃ اللہ الخ، الحدیث:  ۲۲۵۷، ج۲