Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کم تولنے کے بارے میں حکایت:

                ایک شخص کا بیان ہے:  ’’ میں ایک مریض کے پاس گیا جس پر موت کے آثار نمایاں تھے، میں نے اسے کلمہ شہادت کی تلقین شروع کر دی لیکن اس کی زبان پر کلمہ جا ری نہیں ہو رہا تھا، جب اسے افاقہ ہوا تو میں نے کہا:  ’’ اے بھائی! کیا وجہ ہے کہ میں تجھے کلمۂ شہادت کی تلقین کر رہا تھا لیکن تمہاری زبان پر کلمہ جاری نہیں ہو رہا تھا؟ ‘‘ اس نے بتایا:  ’’ اے میرے بھائی!  ترازوکے دستے کی سوئی میری زبان پر تھی جو مجھے بولنے سے مانع تھی۔ ‘‘  میں نے اسے کہا:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ!  کیاتم کم تولتے تھے؟ ‘‘  اس نے کہا:  ’’ نہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!  مگر میں نے کچھ مدت تک اپنے ترازو کابٹ  (یعنی پتھر)  صحیح نہ کیا۔ ‘‘  پس یہ اس کا حال ہے جو اپنے ترازو کا پتھر صحیح نہ کرے تواس کا کیا حال ہو گا جو تولتا ہی کم ہے۔

کم تولنے والوں کی مذمت:

{6}…حضرت سیدنا نافع رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ حضرت سیدنا عبداللہ  بن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  ایک بیچنے والے کے پاس سے گزرتے ہوئے یہ فرما رہے تھے:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ڈر!  اور ماپ تول پورا پورا کر!  کیونکہ کمی کرنے والوں کومیدانِ محشر میں کھڑا کیا جائے گایہاں تک کہ ان کا پسینہ ان کے کانوں کے نصف تک پہنچ جائے گا۔ ‘‘  (تفسیرالبغوی،سورۃ المطففین،تحت الآیۃ: ۳،ج۴،ص۴۲۸)

                جیسا کہ ماپنے اور تولنے والے کے بارے میں گزر چکا ہے کہ جب تاجر بیچتے وقت پیمانے کو کھینچ کر رکھے اور خریدتے وقت ڈھیلا چھوڑ دے تو یہی کپڑا بیچنے والے فاسقوں اور تاجروں کی عادت ہے۔

                کسی نے کتنی اچھی بات کہی ہے:  ’’ ہلاکت ہو پھرہلاکت ہو اس کے لئے جو ایک دانہ بیچتاہے جو اس کی جنت کو کم کر دیتا ہے، جس کی چوڑائی زمین و آسمان جتنی ہے اور ایک دانہ خریدتا ہے جو جہنم کی وادی میں اضافہ کر دیتا ہے جو دنیا کے پہاڑوں اور جو کچھ ان میں ہے اسے پگھلا کر رکھ دے۔ ‘‘

 

٭٭٭٭٭٭

باب القرض

قرض کا بیان

کبیرہ نمبر204:                         

حصولِ نفع کے لئے قرض دینا

                اسے کبیرہ گناہوں میں ذکر کرنا ظاہر ہے کیونکہ یہ حقیقت میں سود ہے پس سود کے باب میں جتنی وعیدیں ذکر کی گئی ہیں وہ سب اس کو شامل ہیں ۔

٭٭٭٭٭٭

باب التفلیس

کنگال یادیوالیہ ہونیکابیان

کبیرہ نمبر205:         

ادا نہ کرنے کی نیت سے قرض لینا

کبیرہ نمبر206:         

ادائیگی کی امید نہ ہونا

یعنی وہ مجبور نہ ہو اور نہ ہی اس سے پورا ہونے کی ظاہری صورت ہو نیز قرض دینے والا اس کے حال سے بے خبر ہو۔

{1}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے تلف کرنے کے ارادے سے لوگوں کا مال لیا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس پر تلف کر دے گا۔ ‘‘  (یعنی نہ ادا کرنے کی توفیق ہوگی نہ بروزِقیامت قرض خواہ راضی ہوگا)

 (صحیح البخاری، کتاب الاستقراض والدیون، باب من اخذاموال الناس الخ، الحدیث:  ۲۳۸۷،ص۱۸۷)

{2}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے ادائیگی کی نیت سے قرض لیا قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کی طرف سے ادا کر دے گا  (یعنی قرض خواہ کو راضی کردے گا) اور جس نے ادا نہ کرنے کے ارادے سے قرض لیا اور مر گیا تو قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے ارشاد فرمائے گا:  ’’ تو نے یہ گمان کیاکہ میں اپنے بندے کوکسی دوسرے کے حق  (کودبانے) کی وجہ سے نہیں پکڑوں گا۔ ‘‘ پس اس کی نیکیاں لے لی جائیں گی اور دوسرے کی نیکیوں میں ڈال دی جائیں گی اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو دوسرے کے گناہ لے کر اس پر ڈالے جائیں گے۔ ‘‘

 (کنزالعمال، کتاب الدَیْن والسلم،قسم الاقوال، فصل الثالث فی نیۃ المستدین الخ، الحدیث:  ۱۵۴۳۸،ج۶،ص۹۲)

{3}…حضورنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جو بھی آدمی اس عزم سے قرض لیتا ہے کہ اد انہ کرے گا تووہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے چوربن کر ملے گا۔ ‘‘  (سنن ابن ماجہ،ابواب الصدقات ، باب من ادان دینالم ینوقضاء ہ ،الحدیث:  ۲۴۱۰،ص۲۶۲۱)

{4}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جو بھی آدمی کسی عورت سے شادی کرے اور اس کا مہر ادا نہ کرنے کی نیت ہو تو وہ زانی مرے گا، جو بھی آدمی کسی آدمی سے کوئی چیز خریدے اور اس کی قیمت ادا نہ کرنے کی نیت ہو تو وہ خائن مرے گا اور خیانت کرنے والا جہنمی ہے۔ ‘‘       (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۷۳۰۲،ج۸،ص۳۵)

{5}…سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جو اس حال میں مرا کہ اس پر درہم یادینار قرض تھے تو   (اس قرض کو) اس کی نیکیوں سے پورا کیا جائے گا کیونکہ اس دن درہم یا دینار نہ ہو گا۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجۃ، ابواب الصدقات ، باب التشدیدفی الدین ،الحدیث:  ۲۴۱۴،ص۲۶۲۱)

{6}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ قرض دو قسم کے ہیں :  (۱) جو اس حال میں مرا کہ اس کی قرض ادا کرنے کی نیت تھی تو میں اس کا ولی ہوں اور  (۲) جو اس حال میں مرا کہ اس کی ادائیگی کی نیت نہ تھی تو یہ اس کی نیکیوں سے پورا کیاجائے گا اس دن درہم یا دینار نہ ہو گا۔ ‘‘

 (الترغیب والترہیب، کتاب البیوع، باب الترہیب من الدین وترغیب المستدینالخ،الحدیث:  ۲۸۰۳،ج۲،ص۳۸۱)

 



Total Pages: 320

Go To