Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{3}…حضورنبی ٔکریم  ،رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمان عبرت نشان ہے :  ’’ دھوکے باز جنت میں داخل نہ ہو گا اور نہ ہی بخیل اور احسان جتلانے والا۔ ‘‘   (المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی بکر الصدیق، الحدیث: ۲ ۳،ج۱،ص۲۷)

{4}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ مؤمن سیدھا سادہ، کرم کرنے والا جبکہ فاسق مکار، کمینہ ہے۔ ‘‘      (جامع الترمذی،ابواب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی البخل،الحدیث:  ۱۹۶۳،ص۱۸۴۹)

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ منافقین کے بارے میں فرماتاہے:

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-  (پ۵، النساء: ۱۴۲)

ترجمۂ کنز الایمان : بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ  کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کر کے مارے گا۔

                یعنی جس طرح وہ اپنے گمان میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں تو اسی کی مثل قیامت کے دن انہیں بھی اس کی سزا دی جائے گی اور وہ اس طرح کہ پہلے انہیں ایک نور دیا جائے گا جس طرح کہ بقیہ تمام مؤمنین کو دیا جائے گا، جب وہ اسے لے کر پل صراط سے گزرنے لگیں گے تو وہ نور بجھا دیا جائے گا اوروہ تاریکی میں ہی بھٹکتے رہیں گے۔

{5}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ پانچ قسم کے لوگ جہنمی ہیں ۔ ‘‘  ان میں اس آدمی کا بھی ذکر کیا جو صبح و شام تیرے اہل یامال میں تجھ سے دھوکا کرتاہے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الجنۃ والنعیم،باب الصفات التی یعرف بھاالخ، الحدیث:  ۷۲۰۷،ص۱۱۷۴)

تنبیہ:

                اس کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے جس کی بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے وضاحت کی ہے اور جو سابقہ ملاوٹ کی احادیثِ مبارکہ اور ان موجودہ احادیثِ مبارکہ سے بھی ظاہر ہے، کیونکہ مکر اور دھوکے کے جہنم میں ہونے سے مراد یہ ہے کہ مکر کرنے والااور دھوکا دینے والا جہنم میں جائے گا اور یہ ایک سخت وعید ہے۔

 

 

 

 

 

٭…٭…٭…٭…٭…٭

کبیرہ نمبر203        

ناپ ،تول یاپیمائش میں کمی کرنا

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ (۱) الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ (۲) وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ (۳)

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ (۴) لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ (۵) یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ (۶)   (پ۳۰، المطففین: ۱تا۶)

 

ترجمۂ کنز الایمان : کم تولنے والوں کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ماپ لیں پورا لیں اور جب انہیں ماپ تول کر دیں کم کر دیں کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے ایک عظمت والے دن کے لئے جس دن سب لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔

                یعنی لوگ قیامت کے دن اپنی قبروں سے ننگے پاؤں ، ننگے جسم اور بغیر ختنے کے اٹھیں گے، پھر انہیں میدانِ حشر میں لایا جائے گا، ان میں سے بعض بجلی سے بھی تیز سوار ہو کر جا رہے ہوں گے، بعض اپنے قدموں پر چل رہے ہوں گے، بعض گھٹنوں کے بل چل رہے ہوں گے اور چہرے کے بل گر رہے ہوں گے، کبھی چلیں گے کبھی ٹھوکریں کھائیں گے اور کبھی سرگرداں اونٹ کی طرح بھٹک رہے ہوں گے اور ان میں کچھ ایسے بھی ہوں گے جو چہرے کے بل چل رہے ہوں گے اور یہ سب لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہوں گے یہاں تک کہ وہ اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے تا کہ اپنے اعمال کا حساب دیں اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزاء ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو جزاء بھی بری ہو گی۔

                سیدنا سدی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا قول ہے اس آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ ’’ جب ہمارے رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدینہ شریف میں تشریف لائے تو وہاں پر ایک شخص تھا جس کا نام ابو جہینہ تھا اس کے دو پیمانے تھے ایک کے ساتھ دیتا اور دوسرے کے ساتھ لیتا تھا،تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔ ‘‘

{1}…حضرت سیدنا عبداللہ  بن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے:  ’’ جب خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدینہ شریف تشریف لائے تو وہ لوگ ماپ تول کے اعتبار سے سب لوگوں سے برے تھے، تواللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے یہ سورت نازل فرمائی، پس اس کے بعد انہوں نے پیمانے اچھے کر لئے۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجہ،ابواب التجارات ، باب التوقی فی الکیل والوزن، الحدیث :  ۲۲۲۳،ص۲۶۱۰)

{2}…نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پیمائش اور وزن کرنے والوں سے ارشاد فرمایا:  ’’ بے شک تمہیں ایسا کام سونپاگیا ہے جس  میں تم سے پہلی اُمتیں ہلاک ہو گئیں ۔ ‘‘  (جامع الترمذی، ابواب البیوع،باب ماجاء فی المکیال والمیزان،الحدیث:  ۱۲۱۷،ص۱۷۷۳)

{3}…حضرت سیدنا عبداللہ  بن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہماسے مروی ہے کہ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے پاس تشریف لائے اورارشاد فرمایا:  ’’ اے گروہ مہاجرین! جب تم پانچ خصلتوں میں مبتلاکردئیے جاؤاورمیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّسے تمہارے اِن میں مبتلا ہونے سے پناہ مانگتا ہوں :  (۱) جب کسی قوم میں فحاشی ظاہر ہوئی اور انہوں نے اعلانیہ اس کا اِرتکاب کیا تو ان میں طاعون اور ایسی بیماری پھیل گئی جو ان کے پہلے لوگوں میں نہ تھی۔  (۲) انہوں نے ماپ تول میں کمی کی تو قحط سالی میں مبتلا ہو گئے اورسخت بوجھ اور بادشاہ کے ظلم کا شکار ہو گئے  (۳) انہوں نے اپنے مال کی زکوٰۃ نہ دی تو آسمان سے بارش روک دی گئی اور اگر چوپائے نہ ہوتے توان پر بارش نہ ہوتی  (۴) انہوں نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا عہد توڑا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ان پر دشمن مُسلَّط کر دئیے جنہوں نے ان سے وہ سب لے لیا جو کچھ ان کے قبضہ میں تھا اور  (۵) ان کے حکمرانوں نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کیا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے قانون میں سے کچھ لیااورکچھ چھوڑدیاتو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اُن کے



Total Pages: 320

Go To