Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

دین اور وقار ہو اور جو اپنی موت کے بعد اپنی اولاد کے بارے میں بھی ڈرتاہو پس وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرے گا اور اس سوال میں مذکور ملاوٹ کی تمام صورتوں کو چھوڑ دے گا اور جان لے گا کہ یہ دنیا فانی ہے اور بے شک حساب حقیر اور معمولی چیزوں پر بھی واقع ہو گا اور عملِ صالح ہی اولاد کو نفع دے گا، تحقیق اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان موجود ہے:

وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًاۚ-  (پ۱۶، الکھف: ۸۲)

ترجمۂ کنز الایمان : اور ان کا باپ نیک آدمی تھا۔

                حالانکہ وہ شخص ماں کی طرف سے ساتواں دادا تھا، پس اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے صدقے اس کے یتیم بچوں کو نفع دیا اور برا عمل بھی اولاد کے حق میں مؤثر ہوتا ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:

وَ  لْیَخْشَ   الَّذِیْنَ  لَوْ  تَرَكُوْا  مِنْ  خَلْفِهِمْ  ذُرِّیَّةً  ضِعٰفًا  خَافُوْا  عَلَیْهِمْ   ۪-  فَلْیَتَّقُوا  اللّٰهَ  وَ  لْیَقُوْلُوْا  قَوْلًا  سَدِیْدًا (۹)   (پ۴، النساء: ۹)

ترجمۂ کنز الایمان : اور ڈریں وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہیے کہ اللہ  سے ڈریں اور سیدھی بات کریں ۔

                پس جو اس آیتِ مبارکہ میں غور کرے گا تو اپنے برے اعمال کی وجہ سے اولاد کے بارے میں ڈرے گا اور ان سے رُک جائے گا یہاں تک کہ اس کی مزید نظیر نہ مل سکے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی سیدھی راہ کی رہنمائی فرمانے والاہے اور اسی کی طرف سے طاقت و قوت ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر201:                 

جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنا

{1}…حضرت سیدنا ابو ذر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ مَحبوبِ ربُّ العٰلَمِین، جنابِ صادق وامین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ تین شخص ایسے ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ان کی طرف نہ تو نظرِ رحمت فرمائے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تین بار یہ بات کہی تو میں نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  خائب و خاسر ہونے والے وہ لوگ کون ہیں ؟ ‘‘  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’  (۱) تہہ بند لٹکانے والا  (۲) احسان جتلانے والا اور  (۳) جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والا۔ ‘‘    (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم اسبالالخ، الحدیث: ۲۹۳،ص۶۹۶)

{2}…جبکہ ایک اور روایت میں اس طرح ہے:  ’’ اپنے تہہ بند کو گھسیٹنے والا اور اپنی بخشش کو جتلانے والا۔ ‘‘

 (سنن النسائی، کتاب الزکاۃ ، باب المنان بمااعطی، الحدیث: ۲۵۶۴،ص۲۲۵۳)

{3}… تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ تینشخص ایسے ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن ان کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا:  (۱) بوڑھا زانی  (۲) تکبر کرنے والافقیر اور  (۳) ایسا آدمی جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے مال دیا اور وہ جھوٹی قسمیں کھا کرخریدتا اوربیچتاہے۔ ‘‘                             (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۶۱۱۱،ج۶،ص۲۴۶)

{4}… مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نہ تو ان سے کلام فرمائے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہو گا۔ ‘‘    (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۵۵۷۷،ج۴،ص۱۶۳)

{5}… مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ تین شخص ایسے ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکل (بروزِقیامت)  ان کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا:  (۱) بوڑھا زانی (۲) وہ شخص جو اپنا سامان ہرجائز اور ناجائز  (جھوٹی )  قسمیں کھا کر بیچتا ہے اور  (۳) تکبر کرنے والا فقیر۔ ‘‘                    (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۴۹۲،ج۱۷،ص۱۸۴)

{6}…سرکارِ مدینہ، راحت ِقلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ تین شخص ایسے ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّان کی طرف قیامت کے دن نہ تو نظرِ رحمت فرمائے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہو گا:  (۱) جو بیابان میں اپنے فالتو پانی سے مسافروں کو روکتا ہے۔ایک اور روایت میں ہے: اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے ارشاد فرمائے گا:  ’’ آج میں تم سے اسی طرح اپنافضل روک لوں گا جس طرح تم نے اس چیز کا فضل روکا تھا جس میں تمہارے ہاتھوں نے کچھ نہیں کیا تھا،  (۲) وہ آدمی جو عصر کے بعد اپنا مال بیچے اور قسم اٹھائے کہ میں نے اتنے اتنے میں لیا ہے اور خریدار اُسے سچا سمجھے حالانکہ اس نے اتنے کا نہ خریدا ہو اور  (۳) ایسا شخص جو کسی امام (حکمران)  کی دنیا کی خاطر بیعت کرے اگر وہ اسے اس کی خواہش کے مطابق کچھ دے تو اس سے وفا کرے اوراگر کچھ نہ دے تووفا نہ کرے۔ ‘‘

 (صحیح البخاری، کتاب المساقاۃ،باب اثم من منع ابن السبیل من المائ، الحدیث:  ۲۳۵۸،ص۱۸۴)

 (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم الخ، الحدیث:  ۲۹۷،ص۶۹۶)

            اور ایک روایت میں وہ تین شخص یہ ہیں :  ’’  (۱) ایسا شخص جو مال کے بارے میں قسم اٹھاتا ہے کہ مجھے اس کی قیمت  اس سے زیادہ مل رہی تھی حالانکہ وہ جھوٹاہے  (۲) ایسا شخص جو عصر کے بعد جھوٹی قسم کھاتا ہے تاکہ اس سے مسلمان بندے کا مال ختم کرے اور  (۳) ایسا شخص جوفالتو پانی روکے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے فرمائے گا:  ’’ آج میں تم سے اسی طرح اپنافضل روک لوں گا جس طرح تم نے وہ زائد چیز روک  لی تھی جسے تم نے پیدا نہیں کیا تھا۔ ‘‘  (صحیح البخاری، کتاب المساقاۃ،باب من رای ان صاحب الحوضالخ،الحدیث: ۲۳۶۹،ص۱۸۵)

{7}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ چارآدمی ایسے ہیں جن پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ غضب فرمائے گا:  (۱) جھوٹی قسمیں کھا کر بیچنے والا  (۲) متکبر فقیر (۳) بوڑھا زانی اور  (۴) ظالم حکمران۔ ‘‘

 (سنن النسائی، کتاب الزکاۃ ، باب الفقیرالمحتال، الحدیث:  ۲۵۷۷،ص۲۲۵۴