Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

یہ مقام فکر ہے لہٰذا یہاں خوب غور کرنا چاہئے۔

                 جب لوگ علم سے دورہوئے تو انہوں نے اپنے اعمال کو ملاحظہ کیا تو یہ پایاکہ ان میں سے کچھ افراد سے اتفاقا ًکچھ ایسے اُمور صادر ہورہے ہیں جو کرامات کے مشابہ ہیں ، لہٰذا انہوں نے مختلف قسم کے دعوے کرنے شروع کردیئے اور سلف صالحین کے دعوی نہ کرنے کے طریقے کی پیروی چھوڑ دی، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص نے یہاں تک کہہ دیا:   ’’ میں چاہتا ہوں کہ قیامت جلدہی قائم ہوجائے تا کہ میں جہنم پراپنا خیمہ نصب کر سکوں ۔ ‘‘  تو ایک شخص نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تواس نے جواب دیا :   ’’ مجھے یقین ہے کہ جب جہنم مجھے دیکھے گی تو اس کی آگ بجھ جائے گی اور اس طرح میں مخلوق پر رحمت کا سبب بن جاؤں گا۔ ‘‘  

                یہ انتہائی بدترین او ربرا کلام ہے، کیونکہ اس میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے بیان کردہ جہنم کے عظیم معاملہ کی تحقیر پائی جاتی ہے، حالانکہاللہ  عَزَّ وَجَلَّنے جہنم کے اوصاف کثرت سے بیان فرمائے ہیں ، چنانچہ فرمانِ باری تعالٰیہے:  

فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ ۚۖ-  (پ۱، البقرۃ:  ۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان:  تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔

ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:  

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا (۱۲)   (پ ۱۸، الفرقان :  ۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: جب وہ انہیں دور جگہ سے دیکھے گی توسنیں گے اس کا جو ش مارنا اور چنگھاڑنا۔

{89}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تم جو آگ جلاتے ہو یہ جہنم کی  آگ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔ ‘‘ صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!  اگر جہنم ہماری یہی دنیوی آگ بھی ہوتی تب بھی کافی تھی۔ ‘‘  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جہنم کی آگ کو دنیوی آگ سے اُ نہتَّر9 6گنا زیادہ تیز کیا گیا ہے اور ان میں سے ہر جزو کی گرمی دنیوی آگ کی طرح ہے۔ ‘‘   (جامع الترمذی، کتاب صفۃ الجہنم، باب ماجاء ان نارکم ھذہالخ،الحدیث: ۲۵۸۹،ص۱۹۱۲)

{90}…حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن جب جہنم کو لایا جائے گا تو اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی، ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے پکڑ کر کھینچتے ہوں گے۔ ‘‘   (جامع الترمذی، کتاب صفۃ الجہنم،باب ماجاء فی صفۃ النار،الحدیث: ۲۵۷۳،ص۱۹۱۱)

چراغ کی لو پر اُنگلی رکھ دی

                ایک نیک بزرگ کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا، ہوا یوں کہ وہ کسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے قریب ہی ایک چراغ جل رہا تھا، اچانک ان کے دل میں گناہ کا خیال آیا تو وہ اپنے نفس سے کہنے لگے :  ’’ میں اپنی انگلی اس چراغ کی بتی پر رکھتاہوں اگر تو نے اس پر صبر کر لیا تو میں اس گناہ کو کرنے میں تیری بات مان لوں گا۔ ‘‘  پھر جب انہوں نے اس بتی پر اپنی انگلی رکھی تو بے قرار ہو کر چیختے ہوئے کہنے لگے:   ’’ اے دشمنِ خدا عَزَّ وَجَلَّ !  جب تو دنیا کی اس آگ پر صبر نہیں کر سکا جسے ستر مرتبہ بجھایا گیا ہے تو جہنم کی آگ پر کیسے صبر کرے گا؟ ‘‘  

                امیرالمؤ منین حضرت سیدنا عمر بن خطا ب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے حضرت سیدنا کعب الاحبار رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے ارشاد فرمایا:   ’’ اے کعب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ !  ہمیں ڈر والی کچھ باتیں سنائیں ۔ ‘‘  تو حضرت سیدنا کعب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی :  ’’ اے امیر المؤمنین!  اگر آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  قیامت کے دن ستر انبیاء کرام علَیھمُ السّلام کے عمل لے کر بھی آئیں تو قیامت کے احوال دیکھ کر انہیں حقیر جاننے لگیں گے۔ ‘‘  اس پرامیر المؤمنین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے کچھ دیرکے لئے سرجھکا لیا پھر جب افاقہ ہوا توارشاد فرمایا:   ’’ اے کعب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ !  مزید سنائیں ۔ ‘‘  تو انہوں نے عرض کی :  ’’ اے امیرالمؤمنین!  اگر جہنم میں سے بیل کے ناک جتنا حصہ مشرق میں کھول دیا جائے تو مغرب میں موجود شخص کا دماغ اس کی گرمی کی وجہ سے اُبل کر بہہ جائے۔ ‘‘  اس پرامیر المؤمنین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے کچھ دیرکے لئے سرجھکا لیا پھر جب افاقہ ہوا تو ارشاد فرمایا:   ’’ اے کعب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ !  اورسنائیں ۔ ‘‘  تو انہوں نے پھر عرض کی:   ’’ اے امیر المؤمنین!  قیامت کے دن جہنم اس طرح بھڑکے گا کہ کوئی مقرَّب فرشتہ یانبی ٔمرسَل ایسا نہ ہو گا جو گھٹنوں کے بل گر کر یہ نہ کہے:   رَبِّ!  نَفْسِیْ!  نَفْسِیْ!   (یعنی اے رب عَزَّ وَجَلَّ !  آج میں تجھ سے اپنی بخشش کے علاوہ کچھ نہیں مانگتا) ۔ ‘‘

                 حضرت سیدنا کعب الاحبار رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے مزید بتایا :  ’’ جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اولین وآخرین کو ایک ٹیلے پر جمع فرمائے گا، پھر فرشتے نازل ہو کر صفیں بنائیں گے۔ ‘‘  اس کے بعد اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا:   ’’ اے جبرائیل  (علیہ ا لسلام) !  جہنم کو لے آؤ۔ ‘‘  تو حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام جہنم کو اس طرح لے کر آئیں گے کہ اس کی ستر ہزار لگاموں کو کھینچا جا رہا ہو گا، پھر جب جہنم مخلوق سے سو برس کی راہ پر پہنچے گی تو اس میں اتنی شدید بھڑک پیدا ہو گی کہ جس سے مخلوق کے دل دہل جائیں گے، پھر جب دوبارہ بھڑک پیدا ہوگی تو ہر مقرب فرشتہ اور نبی مرسل گھٹنوں کے بل گر جائے گا، پھر جب تیسری مرتبہ بھڑکے گی تو لوگوں کے دل گلے تک پہنچ جائیں گے اورعقلیں گھبرا جائیں گی، یہاں تک کہ حضرت سیدنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عرض کریں گے :  ’’ میں تیرے خلیل ہونے کے صدقے سے صرف اپنے لئے سوال کرتاہوں ۔ ‘‘  حضرت سیدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عرض گزار ہوں گے:   ’’ یا الٰہی عَزَّ وَجَلَّ !  میں اپنی مناجات کے صدقے صرف اپنے لئے سوال کرتا ہوں ۔ ‘‘  حضرت سیدنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عرض کریں گے:   ’’ یاالہٰی عَزَّ وَجَلَّ !  تُو نے مجھے جو عزت دی ہے اس کے صدقے میں صرف اپنے لئے سوال کرتا ہوں اس مریم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  کیلئے سوال نہیں کرتا جس نے مجھے جناہے۔ ‘‘  

{91}…رسول کریم ،رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اے جبرائیل (عَلَیْہِ السَّلَام) !  کیا بات ہے کہ میں نے میکائیل  (عَلَیْہِ السَّلَام)  کو کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا؟ ‘‘ تو انہوں نے عرض کی :  ’’ جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ہے میکائیل  (عَلَیْہِ السَّلَام) کبھی نہیں ہنسے اور جب سے جہنم پیدا ہوئی، میری آنکھ اس خوف سے خشک نہیں ہوئی کہ کہیں میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی نہ کر بیٹھوں اور وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا عبداللہ  بن رواحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کو ایک دن روتے ہوئے دیکھ کر پوچھا گیا :  ’’ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کو کس چیز نے رُلایا ہے؟ ‘‘  تو انہوں نے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ مجھے جہنم پر پیش کیاجائے گا مگر یہ خبر نہیں پہنچی کہ میں وہاں سے نجات پا کر نکل بھی سکوں گا۔ ‘‘  

                جب ملائکہ ، انبیاء علی نبینا و علیہم ا لصلوٰۃ والسلام اورصحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کے جہنم سے خوف کایہ عالم ہو گا حالانکہ یہ ہستیاں گناہوں کی گندگیوں سے پاک وصاف ہیں تو اس وقت دھوکا کھائے ہوئے دعویدار کی ذلت ورسوائی کا کیا عالم ہو گا اور جسے اس کے نفس نے یہ کہہ کر گمراہ کر دیا کہ تیرا یہ خیمہ جہنم کی آگ بجھا دے گا اور جو اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلے میں قطعی نجات یافتہ سمجھتا ہے، حالانکہ قطعی نجات تو صرف انہیں دس خوش نصیبوں کو حاصل ہوگی جنہیں نجات دہندہ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جنت کی بشارت عطا فرمائی ہے، اس کے باوجود ان کے خوف کایہ عالم تھا کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  جیسے جلیل القدر صحابی تک یہ کہہ اٹھے :  ’’ کاش!  میں کسی مؤمن کے سینے کا بال ہوتا۔ ‘‘  اور حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماگئے :  ’’ اگر عمر کی



Total Pages: 320

Go To