Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کبیرہ نمبر198:         

دوسرے کی بیع پربیع کرنا

کبیرہ نمبر199:         

دوسرے کی خرید پرخرید کرنا

                ان تینوں کو بھی کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے کیونکہ ان میں غیر کوعظیم نقصان دینا پایا جاتا ہے اور ا س میں کوئی شک نہیں کہ غیر کا نقصان کرنا جس کا عادۃً احتمال نہیں ہوتاکبیرہ گناہ ہے، نیز یہ مکر اور دھوکے میں سے ہے اور عنقریب آئے گا کہ یہ کبیرہ ہے لیکن الروضۃ میں ہے:  ’’ ذخیرہ اندوزی کرنا، اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرنا، سوم یعنی سودے پرسوداکرنا، اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پرپیغامِ نکاح دینا، شہری کا دیہاتی کے لئے بیع کرنا، باہرسے جو غلہ وغیرہ کے آنے والے قافلوں کو بستی سے باہرجا کر ملنا،کثرت کا وہم دلانے کے لئے دودھ نہ دوہنا، عیب والی شئے عیب بیان کئے بغیر بیچنا، اس کتے کو رکھنا جس کی کمائی جائز نہ ہو، غیرحرام شراب کو روکنا، مسلمان غلام کافرکوبیچنا،اسی طرح قرآنِ پاک اور تمام علم شرعی کی کتابیں وغیرہ کافرکوبیچناصغیرہ گناہ ہیں ۔ ‘‘  اگرچہ ان میں سے اکثرمحلِ نظرہیں بہرحال یہ سب اسی وقت کبیرہ ہو سکتے ہیں جبکہ کبیرہ کی تعریف یوں کی جائے کہ ’’ جس میں سزا ہو وہ کبیرہ ہے۔ ‘‘  

                اور اس تعریف کی بناء پر جس میں شدید وعید ہو وہ کبیرہ نہیں لیکن چونکہ دھوکا،ایذائے مسلم اور ذخیرہ اندوزی وغیرہ میں شدیدوعید ہے،  لہٰذامناسب یہی تعریف ہے کہ ’’ کبیرہ گناہ وہ ہے جس میں شدید وعید ہو۔ ‘‘

                پھر میں نے علامہ اذرعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے کلام کو دیکھا کہ انہوں نے ارشاد فرمایا:  ’’  الروضۃ میں بعض کومطلقاً صغیرہ قرار دینا محلِ نظر ہے۔ ‘‘ گویا میں نے جس بات کا تذکرہ کیا ہے اور علامہ اذرعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے بھی جس کی جانب اشارہ کیا ہے یہی وہ سبب ہے جس کی بناء پر میں نے اختصار سے کام لیتے ہوئے الروضۃ کی مذکورہ مثالوں میں سے بعض کو حذف کر دیا۔

                نجشسے مراد یہ ہے کہ کسی کاخودخریدنے کاارادہ نہ ہولیکن دوسرے گاہک کودھوکادینے کے لئے قیمت میں اضافہ کرے۔

                بیع علی البیع یہ ہے کہ کوئی شخص خیار کے زمانے میں خریدنے والے سے کہے:  ’’ یہ واپس کر دے اور میں تجھے اس سے اچھی چیز اسی قیمت میں یا اس جیسی اس سے کم قیمت میں فروخت کرتاہوں ۔ ‘‘

                شراء علی الشراء یہ ہے کہ خیار کے زمانے میں بیچنے والے سے کہے:  ’’ بیع فسخ کر دے تاکہ میں یہ چیز  زیادہ قیمت میں تجھ سے خریدلوں ۔ ‘‘   ([1])

                ہمارے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ارشاد فرمایا ہے:  ’’  دوسرے کے سودے پراس کی اجازت کے بغیر سودا کرنا حرام ہے یعنی قیمت طے ہو جانے کے بعد قیمت میں اضافہ کرنا یا خریدنے والے کو اچھی چیز دکھانا۔ بیع طے ہونے کے بعد ایسا کرنا حرام ہے اور بیع لازم ہونے سے قبل ایسا کرنا اس سے بھی زیادہ حرام ہے، اور یہی دوسرے کی بیع پر بیع اوراُس کی شراء پر شراء کرنا ہے۔

ہاں اگردھوکے والا مال ہو تو سیدناابن کج رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے نزدیک یہ بیع جائز ہے۔

                مناسب یہی ہے کہ ان کے اطلاق کے مطابق ہی ہو نیز حدیثِ پاک میں بھی کوئی فرق نہیں ، نیز ایک شخص کا بیع کے لزوم سے قبل مشتری کو کوئی چیز بیچنا اسی طرح ہے کہ اس نے اس سے وہ چیز کم قیمت میں خریدی ہو جیسا کہ بیع علی البیع کی تعریف ہے اور مشتری سے بیع کے لزوم سے قبل زیادتی کا مطالبہ کرنا بھی شراء علی الشراء کی طرح ہے کیونکہ یہ دونوں صورتیں فسخ کی طرف لے جاتی ہیں اور نقصان حاصل ہوتا ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر200:                            

بیع وغیرہ میں دھوکاد ینا

جیسے تصریہ یعنی خریدارکوکثرت کا وہم دلانے کے لئے دود ھ والے جانور کا دودھ نہ دوہنا۔

{1}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے ہم پر اسلحہ اٹھایاوہ ہم میں سے نہیں اور جس نے ہمیں دھوکادیاوہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب الایمان ،باب قول النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممن غشنا فلیس منا ،الحدیث:  ۲۸۳ ، ص ۶۹۵)

{2}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک اناج کے ڈھیرکے پاس سے گزرے، آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی انگلیاں تر  (یعنی گیلی)  ہو گئیں تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اے اناج والے!  یہ کیا ہے؟ ‘‘  اس نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  اس پر بارش ہوئی تھی۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’  تم نے بھیگے ہوئے اناج کواُوپر کیوں نہ رکھا کہ لوگ دیکھ لیتے ،جس نے ہمیں دھوکادیاوہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘            (المرجع السابق،الحدیث:  ۲۸۴ ، ص ۶۹۵)

{3}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘  (جامع الرمذی،ابواب البیوع، باب ماجاء فی



[1] ۔۔۔۔ صدر الشریعہ، بدرالطریقہ مفتی محمدامجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  القَوِی بیع علی البیع اور شراء علی الشراء کاحکم بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :’’ایک شخص کے دام چکالینے کے بعددوسرے کودام چکاناممنوع ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ بائع ومشتری ایک ثمن پرراضی ہوگئے صرف ایجاب وقبول ہی یامبیع کواٹھاکردام دے دیناہی باقی رہ گیاہے دوسراشخص دام بڑھاکرلیناچاہتاہے یادام اتناہی رہے گامگردکاندارسے اس کامیل ہے یایہ ذی وجاہت شخص ہے دکانداراسے چھوڑکرپہلے شخص کونہیں دے گا۔‘‘

                مزید فرماتے ہیں :’’جس طرح خریدارکے لئے یہ صورت ممنوع ہے بائع کے لئے بھی ممانعت ہے۔مثلاًایک دکاندارسے دام طے ہوگئے دوسرا کہتاہے میں اس سے کم میں دوں گایاوہ اس کاملاقاتی ہے کہتاہے میرے یہاں سے لو میں بھی اتنے ہی میں دوں گایااجارہ میں ایک مزدورسے اجرت طے ہونے کے بعددوسراکہتاہے میں کم مزدوری لوں گایامیں بھی اتنی ہی لوں گایہ سب ممنوع ہیں ۔‘‘ (بہارِشریعت،ج۲،حصہ۱۱،ص۷۴)



Total Pages: 320

Go To