Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                اسی طرح جدائی والی حدیثِ پاک اس آیتِ مبارکہ سے مخصص ہے:

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ  (پ۲۷، الطور: ۲۱)

 ترجمۂ کنز الایمان :  اور جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملا دی۔

                جدائی کی حرمت کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ لونڈی اور اس بچے کے درمیان ہو جو چھوٹا یا مجنون ہونے کی وجہ سے ناسمجھ ہو مثلاً (بچہ) ایسے شخص کو بیچناجو اسے آزاد نہ کرے یا تقسیم کر دے یا فسخ کر دے، اگرچہ اس کی ماں راضی ہی ہو کیونکہ بچے کا بھی کچھ حق ہے اور یہ تصرف باطل ہو جائے گا اور باپ،دادا،دادی اورنانا،نانی ماں کی عدم موجودگی میں ماں کی طرح ہی ہوتے ہیں اگرچہ دور کا رشتہ ہی ہو۔

                باپ یاداداکے ساتھ بچے کوبیچنا جائزہے اور اسی طرح جب وہ تمیزاورسمجھ والاہویعنی اکیلاکھاپی لیتاہو اوراستنجاء کرلیتا ہو اور اس میں عمرکی کوئی قیدنہیں کبھی تو5سال میں یہ چیزحاصل ہو جاتی ہے اور کبھی 7سال سے بھی مؤخر ہوجاتی ہے اور (تمیزنہ ہونے کی صورت میں ) جدائی ڈالنا مکروہ ہے اگرچہ بلوغت کے بعد ہی ہو اوراسی طرح اگر ان دونوں  (یعنی ماں ،باپ) میں سے کوئی آزادبھی ہو توجدائی ڈالنامکروہ ہے۔

                لونڈی اور اس کے ناسمجھ بچے کے درمیان اور بیوی اور اس کے بچے کے درمیان سفرکے ذریعے جدائی ڈالنا بھی حرام ہے البتہ! طلاق یافتہ عورت اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈال سکتے ہیں ۔اسی طرـح جانور کے بچے کو بیچنا اگروہ (ماں کے)  دودھ کا محتاج نہ ہویامحتاج توہولیکن ذبح کرنے کے لئے خریدا توایسی بیع جائزہے اور اگر وہ دودھ کا محتاج ہواورخریدنے والے کاذبح کرنے کا ارادہ بھی نہ ہوتواسے خریدنا حرام ہے اور ایسی بیع باطل ہے۔

 

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر190:           

شراب بنانے والے کوانگوراورکشمش بیچنا [1]

کبیرہ نمبر191:           

امرد سے بدکاری کرنے والے کواَمردبیچنا

کبیرہ نمبر192:           

بد کاری پر اکسانے والے کو لونڈی بیچنا

کبیرہ نمبر193:           

لہو و لعب کے آلات بنانے والے کو لکڑی بیچنا

کبیرہ نمبر194:           

دشمنانِ اسلام کو بطورِامداد اَسلِحہ بیچنا

کبیرہ نمبر195:           

شراب پینے والے کو شراب بیچنا

کبیرہ نمبر196:           

بھنگ پینے والے کو بھنگ بیچنا

                ان سات کو بھی کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے کیونکہ ان کا ضرر بہت عظیم ہے اور قاعدہ ہے کہ وسائل کے لئے بھی مقاصد کا ہی حکم ہوتا ہے اور چونکہ ان تمام کے مقاصد کبیرہ گناہ ہیں ، لہذا وسائل کا حکم بھی یہی ہوناچاہئے۔

                کتاب الطہارۃ کے شروع میں مذکور حدیث پاک اس کی شہادت دیتی ہے:  ’’ جس نے برا طریقہ ایجاد کیا اس پر اس کا گناہ ہو گا اور قیامت کے دن تک اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ ہو گا۔ ‘‘

                یہاں ظن بھی حرمت کی جانب نسبت کے اعتبار سے علم یقینی کی طرح ہی ہے، اور ان گناہوں کے کبیرہ ہونے کا جہاں تک تعلق ہے تو اس میں ذہن تردد کا شکار ہے اور اسی طرح ذہن اس میں بھی متردد ہے کہ اگر ایک شخص نے اپنی لونڈی ایسے شخص کو  بیچی جو اسے بدکاری پر اکساتا ہے اور اسلحہ باغیوں کو بیچاتا کہ وہ مسلمانوں سے جنگ کرنے پر مدد حاصل کریں اور مرغ اور بیل اس شخص کو بیچے جو اِن کی لڑائی کراتا ہے تو ان تمام صورتوں میں ذہن ان کے کبیرہ ہونے کے بارے میں متردد ہو جاتا ہے، ہاں البتہ ان میں سے بعض بعض سے زیادہ کبیرہ ہونے کے قریب ہیں ، پھر میں نے شیخ الاسلام علائی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکو دیکھا کہ انہوں نے ارشاد فرمایا:  ’’ ہمارے اصحاب نے نص قائم کی ہے کہ شراب کا بیچنا کبیرہ گناہ ہے اوریہ اپنے عادی کو فاسق کر دیتی ہے اور اسی طرح اس کے خریدنے، قیمت کھانے، لدوانے اور اس میں کسی قسم کی کوشش کرنے کا بھی یہی حکم ہے۔ ‘‘

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر197:         

نجش[2]  یعنی دھوکے سے قیمت میں زیادتی کرنا

 



[1] ۔۔۔۔ فتاوی عالمگیری میں فتاوی قاضی خان سے ہے:’’سراج الامہ حضرت سیدناامام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے نزدیک اُس شخص کوانگورکاشیرہ فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں جواس سے شراب بنائے گاجبکہ صاحبین (یعنی امام ابویوسف وامام محمد)رحمہمااللہ  تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ایساکرنامکروہ ہے۔‘‘اورسیدناامام اعظم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے قول کے مطابق بھی اس وقت مکروہ ہے جب وہ کسی ذمی (کافر) کواتنے دام میں بیچے کہ اتنے دام میں مسلمان نہ خریدے اوراگرمسلمان بھی اتنے دام میں خریدنے پرراضی ہوتواس وقت شراب بنانے والے کوانگورکاشیرہ بیچنامکروہ ہے اوریہ ایساہی ہے جیسے کوئی انگورکاباغ بیچے اوراسے معلوم بھی ہے کہ خریدارانگوروں سے شراب بنائے گا،اس صورت میں اگربیچنے سے اس کی نیت محض ثمن (یعنی قیمت)حاصل کرناہے توبیچنے میں کوئی حرج نہیں اوراگراس کامقصودیہ ہے کہ اس سے شراب حاصل کی جائے تومکروہ ہے اوریہی تفصیل انگورکاباغ لگانے میں ہے کہ اگروہ شراب حاصل کرنے کی نیت سے اُگاتاہے تومکروہ ہے اوراگرمقصود انگورحاصل کرناہوتومکروہ نہیں ،اورافضل یہ ہے کہ شراب بنانے والے کوانگورکاشیرہ نہ بیچاجائے۔واللہ  تعالیٰ اعلم       (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الاشربہ،الباب الثانی فی المتفرقات،ج۵،ص۴۱۶۔۴۱۷)

[2] ۔۔۔۔ صدرالشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ  القوی فرماتے ہیں :’’نجش مکروہ ہے حضوراقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے منع فرمایا۔نجش یہ ہے کہ مبیع کی قیمت بڑھائے اورخودخریدنے کاارادہ نہ رکھتاہواس سے مقصودیہ ہوتاہے کہ دوسرے گاہک کورغبت پیداہواورقیمت سے زیادہ دے کرخریدلے اوریہ حقیقۃًخریدارکودھوکادیناہے جیساکہ بعض دکانداروں کے یہاں اس قسم کے آدمی لگے رہتے ہیں گاہک کودیکھ کرچیزکے خریداربن کردام بڑھادیاکرتے ہیں اوران کی اس حرکت سے گاہک دھوکاکھاجاتے ہیں ۔گاہک کے سامنے مبیع کی تعریف کرنااوراس کے ایسے اوصاف بیان کرناجونہ ہوں تاکہ خریداردھوکا کھا جائے یہ بھی نجش ہے۔‘‘ (بہارِشریعت،ج۲،حصہ۱۱،ص۷۳۔۷۴)



Total Pages: 320

Go To