Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

تھے۔ ‘‘

جواب:  یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ایسے اموال بھی ہیں جن کو ذخیرہ کرنا حرام نہیں جیسے کپڑے، لہذا حضرت سیدنا سعید رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کی روایت کو اس پر محمول کیا جائے گا، جبکہ حرمت کی شرط کھانے کی ذخیرہ اندوزی کرنے میں ہے، لہذا ان شروط کے پائے جانے کی بناء پر اب ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ حضرات ذخیرہ اندوزی کرتے تھے، نیز حضرت سیدنا سعید رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اور سیدنا معمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  دونوں مجتہد ہیں تو احتمال کی وجہ سے نہ ان پر اور نہ ہی کسی دوسرے پر اعتراض کیا جاسکتا ہے، پھر سیدنا ابن عبد البر رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاور دوسری جماعت کو میں نے دیکھا کہ انہوں نے کہا:  ’’  حضرت سیدنا سعید رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اور سیدنا معمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  دونوں تیل ذخیرہ کرتے تھے اور تیل غذا نہیں ، اسی پر سیدنا امام شافعیرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اور سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  وغیرہ نے محمول کیا ہے اورسیدنا امام قرطبی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا:  ’’ یہی سیدنا امام مالک رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کا مشہور مذہب ہے۔ ‘‘

                حضرت سیدنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کا جواب :  ’’ معمررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ بھی ذخیرہ کرتے تھے ۔ ‘‘  اس پر محمول ہے کہ وہ  ایسی چیزیں ذخیرہ کرتے تھے جو لوگوں کو نقصان نہیں دیتیں جیسے تیل، سرکہ اور کپڑے وغیرہ۔

                علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ارشاد فرمایا:  ’’ ذخیرہ اندوزی کی حرمت میں حکمت عام لوگوں سے ضرر کو دور کرناہے جیسا کہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر ایک آدمی کے پاس کھانا ہو اور لوگوں کو اس کی سخت حاجت ہو تو ان سے ضرر دور کرنے کے لئے اسے بیچنے پر مجبور کیا جائے گا۔ ‘‘

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر189:         

ماں اورنا سمجھ بچے کے درمیان جدائی ڈالنا

یعنی بچے کو بیچ کراس کی ماں اور اس بچے کے درمیان جدائی ڈالنا کبیرہ گناہ ہے لیکن اگریہ جدائی آزادی یا وقف سے ہو توکبیرہ نہیں

{1}…حضرت سیدنا ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے،میں نے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:  ’’ جس نے ماں اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈالی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس کے اور اس کے پیاروں  ( جن سے وہ محبت کرتا ہے) کے درمیان جدائی ڈالے گا۔ ‘‘

 (جامع الترمذی ،ابواب السیر ،باب فی کراھیۃ التفریق بین السبی، الحدیث:  ۱۵۶۶ ، ص ۱۸۱۳)

{2}…حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے:  ’’ جس نے ماں اوراس کے بیٹے یادو بھائیوں کے درمیان جدائی ڈالی اللّٰہ کے رسول عَزَّ وَجَلَّ  و  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس پر لعنت فرمائی۔ ‘‘

 ( سنن ابن ماجہ ،ابواب التجارات ،باب النہی عن التفریق بین السبی ،الحدیث:  ۲۲۵۰ ، ص ۲۶۱۱ )

{3}…دار قطنی کی ایک روایت میں ہے:  ’’ جس نے تفریق کی وہ ملعون ہے۔ ‘‘

 ( سنن الدار قطنی ، کتاب البیوع ، الحدیث:  ۳۰۲۵ ، ج ۳ ، ص ۸۱)

                سیدنا ابو بکر بن عیاش رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ یہ روایت مبہم ہے اوریہ حکم ہمارے نزدیک قیدی اور والد کے درمیان ہے۔ ‘‘

تنبیہ:

                ان احادیثِ مبارکہ کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے، اگرفرض کر لیا جائے کہ اس میں پہلی روایت ہی صحیح  ہے تو اس میں بھی شدید وعید پائی جاتی ہے کیونکہ اس دن انسان اور اس کے پیاروں کے درمیان جدائی ڈالنا نفس پر بہت گراں گزرے گا۔

            مَیں  (مصنفرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہ)  کہتاہوں :  جس طرح کہ وہ اس سے مذکورہ تفریق کی حرمت مراد لیتے ہیں ، کیونکہ انہوں نے اس سے وعید سمجھی، اسی طرح ہم بھی اس سے اس کا کبیرہ ہونا مرادلیتے ہیں کیونکہ جب وعید کا مفہوم مسلّم ہو تو وہی وعید، جس پر اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے، شدید وعید ہو جائے گی۔

اعتراض:  اس میں وعید کی کیا وجہ ہے؟حالانکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ (۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ (۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ (۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ (۳۷)

وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ مُّسْفِرَةٌۙ (۳۸)   (پ۳۰، عبس: ۳۴تا۳۸)

ترجمۂ کنز الایمان : اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اورماں اور باپ اور جورو اور بیٹوں سے ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے۔

                اس آیت کا ظاہر تقاضا کرتا ہے کہ یہ معاملہ ہر ایک کے لئے ہو گا تو اس سے وعید کیسے سمجھی جاسکتی ہے؟

جواب: حدیثِ پاک اس کے وعید ہونے کے بارے میں نص ہے اور جس طرح یہ حدیثِ پاک ہے کہ،

{4}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں نہ پہن سکے گا اور جس نے دنیامیں شراب پی وہ پوری سزاپاتے ہوئے آخرت میں نہ پی سکے گا۔ ‘‘

 ( المستدرک  ،کتاب الاشربہ ، باب من لبس الحریر الخ ، الحدیث:  ۷۲۹۸، ج۵ ، ص ۱۹۵،بدون  ’’  جزاء وفاقا  ‘‘ )

                قیامت کے دن سے مراد جنت ہے اور آیتِ مبارکہ میں میدانِ محشر میں لوگوں کی حالت کی نقشہ کشی کی گئی ہے جبکہ حدیثِ پاک میں جنت کے بارے میں بتایا گیا ہے جس طرح ریشم کے بارے میں وارد حدیثِ پاک کی وجہ سے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ریشم پہننے کو حرام قرار دیا اسی طرح ہم جدائی کے بارے میں وارد حدیثِ پاک سے یہ مراد لیتے ہیں کہ یہ کبیرہ گناہ ہے کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک عمل پر اس کے مطابق جزاء ہے۔

                نیزجس طرح ریشم کی حدیثِ پاک اس فرمان عالیشان سیمُُخَصَّص  (یعنی جسے کسی دلیل سے خاص کیا گیا ہو)  ہے:

وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ (۲۳)   (پ۱۷، الحج: ۲۳)

 ترجمۂ کنز الایمان : اور وہاں اُن کی پوشاک ریشم ہے۔

 



Total Pages: 320

Go To