Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

‘‘  

                آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے دونوں کو بلا بھیجا، وہ دونوں حاضر ہوئے تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:  ’’ تمہیں مسلمانوں کے کھانے کو روکنے کا اختیار کس نے دیا ہے؟ ‘‘  انہوں نے عرض کی:  ’’ اے امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ! ہم اپنے اموال سے خریدتے اور بیچتے ہیں ۔ ‘‘  حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: میں نے شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:  ’’ جس نے مسلمانوں پر ان کا کھانا روک لیا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے کوڑھ اور افلاس میں مبتلا کردے گا۔ ‘‘  پس اسی وقت حضرتِ سیدنا فروخ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی:  ’’ اے امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ !  میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے اور آپ سے عہد کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی بھی کھانے کو ذخیرہ نہ کروں گا۔ ‘‘  لہٰذا انہوں نے اسے مصر کی طرف بھیج دیا جبکہ حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کے آزاد کردہ غلام نے کہا:  ’’ ہم اپنے اموال سے خریدتے اور بیچتے ہیں ۔ ‘‘  بہرحال حضرت ابو یحییٰ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہ (اس روایت کے راوی)  فرماتے ہیں :  ’’ میں نے حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کے اس غلام کو کوڑھ کی حالت میں دیکھا ہے۔ ‘‘                                   ( المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند عمر بن الخطاب،الحدیث:  ۱۳۵ ، ج۱ ،ص ۵۵)

سب سے برا ذخیرہ اندوز کون ؟

{7}…امام طبرانی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے روایت کیا ہے کہ مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق وامین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ سب سے برا ذخیرہ اندوز وہ ہے کہ اگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیمتیں کم کر دے تو غمگین ہوتا ہے اور اگر قیمتیں زیادہ کر دے تو خوش ہوتا ہے۔ ‘‘                     ( المعجم الکبیر ، الحدیث:  ۱۸۶ ، ج ۲۰ ،ص ۹۵)

{8}…ایک اور روایت میں یوں ہے:  ’’ اگر قیمت کی کمی کا سنتا ہے تو اسے برا لگتا ہے اور قیمت کی زیادتی کا سنتا ہے تو اسے خوشی ہوتی ہے۔ ‘‘                                                                                 ( المعجم الکبیر ، الحدیث:  ۱۸۶ ، ج۲۰ ،ص ۹۵)

{9}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دِلوں کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اہلِ مدائن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے ذخیرہ کرتے، لہٰذا وہ نہ تو غذاء ذخیرہ کرتے اور نہ ہی قیمتیں بڑھاتے، پس جس نے ان پر 40دن تک کھانا روکے رکھا پھر صدقہ بھی کر دیا تو یہ اس کا کفارہ نہیں ہو سکتا۔ ‘‘   ( الترغیب والترھیب ،کتاب البیوع ، باب الترھیب من الاحتکار ، الحدیث:  ۲۷۶۲، ج ۲ ،ص ۳۷۱)

{10}…سیدنا رزین رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے:  ’’ ذخیرہ کرنے والے اور جانوں کو قتل کرنے والے قیامت کے دن ایک ہی درجے میں اکٹھے کئے جائیں گے اور جس نے مسلمانوں کی مالی چیزوں میں سے کسی کو مہنگا کیا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے قیامت کے دن ضرور بڑی آگ میں عذاب دے گا۔ ‘‘   ( کنز العمال ،کتاب البیوع ،قسم الاقوال ، باب الثالث فی الاحتکاروا لتعسیر ، الحدیث:  ۹۷۳۵ /  ۹۷۳۳،ج ۴، ص ۴۲ )

{11}…سیدنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے:  ’’ حضرت سیدنا معقل بن یسار رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ بیمار ہو گئے تو عبیداللہ  بن زیاد ان کی عیادت کے لئے آیااور ان سے پوچھا:  ’’ اے معقل رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ !  کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے کوئی حرام خون بہایا ہے؟ ‘‘  انہوں نے جواب دیا:  ’’ میں نہیں جانتا۔ ‘‘  تو اس نے دوبارہ پوچھا:  ’’ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے مسلمانوں کی مالی چیزوں میں سے کوئی چیز مہنگی کی ہے؟ ‘‘  تو انہوں نے کہا:  ’’ میں نہیں جانتا۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے لوگوں سے ارشاد فرمایا:  ’’ اسے  میرے پاس بٹھاؤ۔ ‘‘  اور اس سے ارشاد فرمایا:  ’’ اے عبید اللہ !  سنو، میں تمہیں ایسی چیز بیان کرتا ہوں جو میں نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے صرف ایک یا دو بار نہیں سنی ،میں نے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:  ’’ جس نے مسلمانوں کی مالی چیزوں میں کوئی دخل اندازی کی تا کہ وہ مہنگی ہو جائیں تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے قیامت کے دن ضرور بڑی آگ کامزاچکھائے گا۔ ‘‘  اس نے پوچھا:  ’’ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے یہ بات خودسرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے سنی؟ ‘‘ توآپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارشادفرمایا:  ’’ ہاں ! ایک، دوسے بھی زیادہ مرتبہ۔ ‘‘  (المسندللامام احمدبن حنبل،معقل بن یسار،الحدیث: ۲۰۳۳۵،ج۷،ص۲۸۹)

{12}…امام طبرانی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے معجم کبیر اور معجم اوسط میں یہ الفاظ نقل کئے:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے قیامت کے دن ضرور بڑی آگ میں دھکیلے گا۔ ‘‘  ( مجمع الزوائد کتاب البیوع ، باب الاحتکار ، الحدیث:  ۶۴۷۸،ج۴ ، ص ۱۸۱)

{13}… امام حاکم رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ان الفاظ سے مختصراً روایت کیا :  ’’ جس نے مسلمانوں کی مالی چیزوں میں سے کسی چیز کو ان پر مہنگاکیا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے ضرور جہنم میں سر کے بل نیچے گرائے گا۔ ‘‘

 ( المستدرک،کتاب البیوع ، باب الجالب الی سوقنا کالمجاھد فی سبیل اللہ  ،الحدیث:  ۲۲۱۴ ، ج۲ ، ص۳۰۵)

{14}…سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ مکہ مکرمہ میں کھانا روکنا الحاد ہے۔ ‘‘

 (مجمع الزوائد،کتاب البیوع ، باب الاحتکار ، الحدیث:  ۶۴۷۹،ج ۴ ، ص ۱۸۱)

{15}…امام حاکم رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی روایت میں ہے:  ’’ جس نے اس ارادے سے غلہ کی بندش کی کہ مسلمانوں کو مہنگا دے گا پس وہ نافرمانی کرنے والا ہے اور تحقیق اس سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا ذمہ اٹھ گیا۔ ‘‘

 ( المستدرک،کتاب البیوع ، با ب لایحتکر الاخاطیٔ ، الحدیث:  ۲۲۱۱ ، ج۲ ، ص ۳۰۴)

تنبیہ:

                ان صحیح احادیثِ مبارکہ کے ظاہر کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے، ان میں سے بعض میں شدید وعید ہے جیسے لعنت، اس سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکاذمہ اُٹھالینااور جذام اور افلاس میں مبتلا ہوناوغیرہ، ان میں سے بعض اس کے کبیرہ ہونے پر دلالت کرتے ہیں لیکن عنقریب  ’’ اَلرَّوْضَۃ ‘‘  کے حوالے سے آئے گا کہ یہ صغیرہ ہے۔

ذخیرہ اندوزی کی تعریف اوراس کا حکم:

                ہمارے نزدیک جو ذخیرہ اندوزی حرام ہے وہ یہ ہے:  ’’ خوراک مہنگائی کے دنوں میں بیچنے کے لئے روک لینا جیسا کہ  کھجور اور کشمش جبکہ خریدی ہوئی چیزکو شدید حاجت کے وقت مہنگے داموں بیچنے کا ارادہ ہو۔ ‘‘

                حضرتِ سیدنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالینے خوراک کے ساتھ ہر اس چیز کو شامل کیا ہے جو اس پر معاون ہو جیسے گوشت اور پھل وغیرہ، جب مذکورہ شرط نہ پائی جائے تو کوئی حرمت نہیں یعنی وہ مہنگائی کے زمانے میں بیچنے کے لئے نہ خریدے بلکہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے خریدے یا جس قیمت پر خریدا ہے اسی کی مثل یا کم پر بیچنے کے لئے خریدے یا نہ خریدے بلکہ اپنی زمین کا غلہ روک لے اگرچہ زیادہ قیمت پر بیچنے کا ارادہ ہی ہو، ہاں اس صورت میں جب لوگوں کو شدید ضرورت ہو تو اس پر بیچنا لازم ہے اگر انکار کرے تو قاضی اس پرسختی کرے۔

                اگر شدید ضرورت نہ ہو تواَولیٰ یہ ہے کہ جوغلہ اپنے اور اپنے گھروالوں کے سال بھرکے استعمال سے زائد ہو اسے بیچ دے جبکہ آئندہ سال قحط سالی کا خوف نہ ہو،ورنہ اس کے لئے اپنی ضرورت کا غلہ روکنا جائز ہے اس میں کوئی کراہت نہیں اور خوراک کے علاوہ چیزوں میں کوئی ذخیرہ اندوزی نہیں ،البتہ! قاضی نے تصریح کی ہے کہ ’’ کپڑوں کی ذخیرہ اندوزی بھی مکروہ ہے۔ ‘‘

اعتراض:  حضرت سیدنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کی جو روایت آپ نے بیان کی ہے کہ ’’ سو



Total Pages: 320

Go To