Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کرلے۔ ‘‘

{22}…رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ عذاب کے مستحق لوگوں کے گھروں پر ہر دن اور ہر رات ایک فرشتہ نداء دیتا ہے:  ’’ جس نے حرام کھایا اس کا نہ کوئی نفل قبول ہے نہ فرض۔ ‘‘

 (کتاب الکبائرللذہبی،الکبیرۃ الثامنۃوالعشرون،فصل فی من الخ ،ص۱۳۴)

                حضرت سیدناعبداللہ  بن مبارکرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشادفرمایا:  ’’ مجھے شبہ کا ایک درہم لوٹاناایک لاکھ ،ایک لاکھ اور ایک لاکھ  درہم صدقہ کرنے سے زیادہ پسندہے۔ ‘‘

{23}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظم ہے: جس نے حرام مال سے حج کیا اور لَبَّیْک کہا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:  ’’ تیری کوئی لَبَّیْک نہیں ، نہ ہی  سَعْدَیْک اور تیرا حج تجھ پر لوٹادیاگیا۔ ‘‘

 کنزالعمال ،کتاب الحج والعمرۃ ، قسم الاقوال ،الحدیث: ۱۱۸۹۶ ، ج۵ ، ص ۱۲)

                ابن سباطعلیہ رحمۃ ربِّ العباد ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ جب نوجوان عبادت کرتاہے تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے:   ’’ دیکھواس کا کھانا کیسا ہے۔ ‘‘  اگر اس کا کھانا حرام کا ہوتا ہے توکہتاہے:  ’’ اسے چھوڑ دو کوشش کرتارہے اس کا نفس ہی تمہیں کافی ہے۔ ‘‘  کیونکہ حرام کھانے کی وجہ سے اس کی کوشش اسے کوئی نفع نہ دے گی۔

                حضرت ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ  الاکرم فرماتے ہیں :  ’’ صرف اپنا کھانااچھا کر لے، تجھ پر رات کو قیام کرنا اور دن کو روزہ رکھنا ضروری نہیں ۔ ‘‘

{24}…رسولِ اکرم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ بندہ اس وقت تک متقی نہیں ہو سکتا جب تک  ناجائز ہونے کے خوف سے جائز چیزوں کو بھی چھوڑ نہ دے۔ ‘‘

 ( جامع الترمذی ،ابواب صفۃ القیامۃ ، باب علامۃ التقویالخ ،الحدیث:  ۲۴۵۱ ، ص ۱۸۹۸ ’’ بتقدمٍ وتأ خرٍ ‘‘ )

{25}…نبی ٔکریم،رء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عظیم ہے:  ’’ علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے بڑھ کر ہے اور تمہارابہترین دین تقویٰ ہے۔ ‘‘

 ( المستدرک،کتاب العلم ، باب فضل العلم احب من فضل العبادۃ وخیر الدین الورع، الحدیث: ۳۲۰، ج۱ ، ص ۲۸۳)

{26}…رسولِ اکرم، شفیعِ معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مکرَّم ہے:  ’’  جوچیزتجھیشک میں ڈالے اسے چھوڑدے

 اوراسے اختیارکرجس میں شبہ نہ ہو۔نیکی وہ ہے جس پر نفس اور دل مطمئن ہو اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے اور دل اس میں مترددہو،اگرلوگ تجھے فتویٰ دیں توتُوانہیں فتوی دے۔ ‘‘

 (جامع الترمذی،ابواب صفۃ القیامۃ،باب حدیث اعقلھاوتوکل،الحدیث: ۲۵۱۸،ص۱۹۰۵)

 (سنن الدارمی،کتاب البیوع،باب دع مایریبکالخ،الحدیث: ۲۵۳۳،ج۲،ص۳۲۰)

{27}…حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ حلال اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ اُمور ہیں ، میں اس کے بارے میں تمہیں مثال ذکر کرتا ہوں :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی ایک چراگاہ ہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں ، لہذا جو اس چراگاہ کے ارد گرد مویشی چراتا ہے ہوسکتاہے کہ وہ اس میں بھی چلا جائے، پس جو شک والی چیز اختیار کرتا ہے اس کے آگے بڑھنے کا خطرہ ہوتاہے۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد ،کتاب البیوع ، باب فی اجتناب الشبہات ،الحدیث:  ۳۳۲۹، ص ۱۴۷۳)

{28}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہ والی چیزیں ہیں ، پس جس نے ایسے کام کو چھوڑا جس کے گناہ ہونے کا شبہ تھا وہ واضح گناہ (یعنی محرمات)  سے بھی بچ جائے گا اور جو شک والے گناہ میں پڑاہوسکتاہے کہ وہ واضح گناہ میں بھی پڑجائے، نافرمانیاں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی چراگاہیں ہیں اورجو چراگاہ کے ارد گرد مویشی چراتا ہے ممکن ہے کہ وہ چراگاہ میں بھی چلا جائے۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری ،کتاب البیوع ،باب الحلال بین والحرام بین الخ ،الحدیث:  ۲۰۵۱ ، ص ۱۶۰، ’’ بعضُ الاختصار ‘‘ )

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر188:                   

ذخیرہ اندوزی کرنا

{1}…نبی ٔکریم،رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے کھانا ذخیرہ کیا وہ نافرمان ہے۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب المساقاۃ ، باب تحریم الاحتکار فی الاقوات ، الحدیث:  ۴۱۲۲،ص۹۵۷،بدون ’’  طعام ‘‘ )

{2}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ سوائے خطاکار کے کوئی بھی ذخیرہ نہیں کرتا۔ ‘‘                                                                                           (جامع ا لترمذی ،ابواب البیوع ، باب ماجاء فی الاحتکار ، الحدیث:  ۱۲۶۷ ، ص ۱۷۷۹)

{3}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا کا فرمانِ عبرت نشان ہے:  ’’ جس نے 40راتوں تک کھانا ذخیرہ کیا وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے بری ہے اور جس گھر کے افراد میں سے ایک آدمی بھی بھوک کی حالت میں صبح کرے تو ان سب سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا ذمہ ختم ہو گیا۔ ‘‘

 ( المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند عبداللہ  بن عمر بن الخطاب ، الحدیث:  ۴۸۸۰،ج۲، ص۲۷۰)

{4}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ مال کو ایک شہر سے دوسرے شہر لے جانے والا مرزوق  (یعنی جس کو رزق دیا گیا ہو)  اور ذخیرہ کرنے والا ملعون ہے۔ ‘‘

 ( سنن ابن ماجہ ،ابواب التجارات ، باب الحکرۃ والجلب ، الحدیث:  ۲۱۵۳ ، ص