Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{13}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:  ’’ جس نے حرام مال کمایا پھر اس سے غلام آزاد کیا اور صلہ رحمی کی تو یہ اس پرگناہ ہو گا۔ ‘‘   (الترغیب والترھیب،کتاب البیوع،باب الترغیب فی طلب الحلالالخ،الحدیث: ۲۶۸۳،ج۲،ص۳۵۰)

{14}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ باقرینہ ہے:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے تمہارے درمیان اخلاق کو اسی طرح تقسیم کر دیا ہے جس طرح تمہارا رزق تقسیم فرمایا ہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ جس سے محبت فرماتا ہے اسے بھی دنیا دیتا ہے اور جس سے محبت نہیں کرتا اسے بھی دیتا ہے، مگر دین صرف اسی کو عطا فرماتا ہے جس سے وہ محبت فرماتا ہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نیجسے دین عطا فرمایا گویااُس نے اس (بندے)  سے محبت فرمائی۔ اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے!  بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک اس کے زبان و دل مسلمان (یعنی محفوظ و سلامت)  نہ ہو جائیں اور وہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک اس کا پڑوسی اس کے شرسے محفوظ نہ ہو جائے۔ صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی:   ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  اس کے شر سے کیا مراد ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اس کی بددیانتی اور ظلم، اور جو بندہ مالِ حرام کما کر صدقہ کرے اس کا صدقہ قبول نہیں ہوتا نہ ہی اس کے کسی خرچ میں برکت ہوتی ہے اور وہ جو کچھ ترکے میں چھوڑ کر مرے گا وہ جہنم کی طرف اس کا زادِ راہ ہو گا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا مگر برائی کو اچھائی سے مٹا دیتا ہے، بے شک گندگی گندگی کو نہیں مٹاتی۔ ‘‘

 (المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ  بن مسعود ، الحدیث:  ۳۶۷۲ ، ج۲ ، ص ۳۳)

{15}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے کثرت سے جہنم میں داخل کرنے والی شئے کے بارے  میں سوال ہوا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ منہ اور شرمگاہ۔ ‘‘  اور لوگوں کو کثرت سے جنت میں داخل کرنے والی شئے کے بارے میں پوچھاگیا، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا ڈر اور اچھا اخلاق۔ ‘‘

 ( جامع الترمذی ،ابواب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی حسن الخلق ، الحدیث:  ۲۰۰۴ ، ص ۱۸۵۲)

{16}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ بروزِقیامت بندے کے قدم اس وقت تک نہ ہل سکیں گے جب تک اس سے اِن 4چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے:   (۱) عمر کے بارے میں کہ کن کاموں میں گزاری  (۲) جوانی کے بارے میں کہ کس طرح گزاری  (۳) مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور  (۴) اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا۔ ‘‘    ( جامع الترمذی ،ابواب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب فی القیامۃ ، الحدیث:  ۲۴۱۶ ، ص ۱۸۹۴)

{17}…سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ دنیا سر سبز اور لذیذ ہے، جو اس میں حلال ذریعے سے کمائے گا اور اسے حق کی جگہ خرچ کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اُسیثواب عطا فرما کر اپنی جنت میں داخل فرمائے گا اور جو اس میں حرام طریقے سے کمائے گا اور اسے نا حق جگہ خرچ کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے اہانت کے گھر  (یعنی جہنم ) میں داخل فرمائے گا۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے مال میں بددیانتی کرنے والے بہت سے لوگوں کے لئے بروزِ قیامت ( جہنم کی) آگ ہو گی۔ ‘‘ چنانچہاللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا (۹۷)   (پ۱۵،بنی اسرآئیل :  ۷ ۹)

ترجمۂ کنز الایمان : جب کبھی بجھنے پر آئے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔

 ( شعب الایمان ، باب فی قبض الید عن الاموال المحرمۃ ، الحدیث:  ۵۵۲۷، ج۴ ، ص ۳۹۶)

{18}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس گوشت اور خون نے حرام سے پرورش پائی جہنم اس کی زیادہ حقدار ہے۔ ‘‘   (صحیح ابن حبان ،کتاب الحظر والاباحۃ ، الحدیث:  ۵۵۴۱، ج۷،ص ۴۳۶ )

{19}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جو گوشت اورخون حرام سے پلے بڑھے آگ اس کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ ‘‘   ( جامع الترمذی ،ابواب السفر ، باب ما ذکر فی فضل الصلاۃ ،الحدیث:  ۶۱۴، ص۱۷۰۶)

{20}…سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس جسم نے حرام سے پرورش پائی وہ جنت میں داخل نہ ہو گا (یعنی ابتداء ً داخل نہ ہوگا) ۔ ‘‘  (مسندابی یعلٰی الموصلی،مسندابی بکرالصدیق،الحدیث: ۷۹،ج۱،ص۵۷)

تنبیہ:

حرام کھانے کی وجہ سے ہو نے والے گناہ

                اس گناہ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا ان احادیثِ مبارکہ کی بناء پر بالکل صریح ہے کیونکہ یہ لوگوں کے مال کو باطل طریقے سے کھانا ہے، علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیفرماتے ہیں :  ’’ اس باب میں ٹیکس وصول کرنے والا، خائن، چور، (مقدار میں کمی کرنے کے لئے)  تیل کی کُپیاں بنانے والا، سود کھانے اور کھلانے والا، یتیم کا مال کھانے والا، جھوٹاگواہ، اُدھار چیز لے کر انکار کر دینے والا، رشوت خور، ناپ تول میں کمی کرنے والا، عیب زدہ شئے کو عیب چھپا کر بیچنے والا، جواء کھیلنے والا، جادو گر، نجومی، تصویریں بنانے والا، زنا کرنے والی، مردوں پر نوحہ کرنے والی، ایسادلال  (کمیشن ایجنٹ)  جو بیچنے والے کی اجازت کے بغیر اُجرت  (یعنی کمیشن)  لے، خریدنے والے کو زیادہ قیمت بتانے والا اور جس نے کوئی آزاد شخص بیچ کر اس کی قیمت کھائی وغیرہ داخل ہیں ۔ ‘‘

                علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا یہ قول اس بات کی تائید کرتا ہے جو میں نے آیتِ کریمہ کی تفسیر میں ذکر کی ہے کہ باطل ان میں سے ہر چیز کو شامل ہے اور ہر اس کو بھی شامل ہے جو کسی شرعی دلیل کے بغیر حاصل کی جائے۔

{21}…شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو لایاجائے گا، جن کے پاس تہامہ پہاڑوں کی مثل نیکیاں ہوں گی یہاں تک کہ جب ان کو لایا جائے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ان کی نیکیوں کو اُڑتی ہوئی خاک کی طرح کر دے گا، پھر انہیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ‘‘  عرض کی گئی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  یہ کیسے ہو گا؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ وہ نماز پڑھتے، زکوٰۃ دیتے ، روزے رکھتے اور حج کرتے ہوں گے لیکن جب انہیں کوئی حرام چیز پیش کی جاتی تو لے لیتے تھے پس اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ان کے اعمال کو مٹادے گا۔ ‘‘

 (کتاب الکبائرللذہبی،الکبیرۃ الثامنۃوالعشرون،فصل فی من الخ ،ص۱۳۶)

                صالحین میں سے کسی کو مرنے کے بعد خواب میں دیکھ کر پوچھا گیا:  ’’ مَا فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ؟ ‘‘  (یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیامعاملہ کیا؟)  اس نے جواب دیا:  ’’ اچھا سلوک کیا مگر مجھے ایک سوئی کی وجہ سے جنت سے روک دیا گیا جو میں نے ادھار لی تھی اور واپس نہ کی۔ ‘‘

                حضرت سیدنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے نیکی کے کام میں حرام مال خرچ کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے پیشاب سے کپڑا پاک کیا۔ ‘‘

                حضرت سیدنا عمررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کافرمان ہے:  ’’ ہم حرام میں پڑنے کے خوف سے حلال چیزکے 9