Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{46}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!  میری اُمت کے کچھ لوگ برائی اورلہو و لعب میں رات بسر کریں گے اور صبح حرام کو حلال سمجھنے، گانے گانے والیاں رکھنے، شراب پینے، سود کھانے اور ریشم پہننے کی وجہ سے بندر اور خنزیر بن چکے ہوں گے۔ ‘‘

 ( مجمع الزوائد،کتاب الاشربۃ ، باب فیمن یستحل الخمر، الحدیث:  ۸۲۱۵،ج ۵ ص۱۱۹ )

{47}…حضورنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اس اُمت کی ایک قوم کھانے پینے اور لہو و لعب میں رات گزارے گی، پھر جب وہ صبح کریں گے تو ان کے چہرے مسخ ہو کر بندر اور خنزیر بن چکے ہوں گے اور ان میں دھنسانے اور پھینکے جانے کے واقعات رونما ہوں گے یہاں تک کہ لوگ صبح اٹھیں گے تو کہیں گے:  ’’ آج رات فلاں کا گھر دھنسا دیا گیا اور آج رات فلاں کا گھر دھنسا دیا گیا۔ ‘‘  اور ان پر آسمان سے پتھر پھینکے جائیں گے جیسا کہ حضرت سیدنا لوط عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم کے قبیلوں اور گھروں پر برسائے گئے اس لئے کہ وہ شراب پئیں گے، ریشم پہنیں گے، گانے گانے والیاں رکھیں گے، سود کھائیں گے اوررشتہ داروں سے قطع تعلقی کریں گے۔ ‘‘  (کنز العمال ،کتاب المواعظ والرقائق ، قسم الاقوال،الحدیث:  ۴۴۰۱۱ ، ج۱۶ ، ص ۳۶)

تنبیہ:

                سود کو بھی کبیرہ گناہوں میں شمار کیاگیا ہے کیونکہ احادیثِ مبارکہ میں اسے کبیرہ بلکہ ا کبرُ الکبائر کہا گیا ہے۔

{48}…سرکار ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ 7ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو۔ ‘‘  عرض کی گئی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  وہ کون سی ہیں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’  (۱) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شریک ٹھہرانا  (۲) جادو کرنا  (۳)  کسی کوناحق قتل کرنا  (۴) یتیم کامال کھانا (۵) سود (۶) جنگ کے دن بھاگ جانا اور  (۷) پاک دامن ،سیدھی سادی مؤمن عورتوں پر تہمت لگانا۔ ‘‘

 ( صحیح البخاری ،کتاب المحاربین من اھل الکفر والردۃ ، باب رمی المحصنات الخ ، الحدیث:  ۶۸۵۷، ص ۵۷۲)

{49}…شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ کبیرہ گناہ 9ہیں ان میں سب سے بڑا گناہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شریک ٹھہرانا،کسی مؤمن کو (ناحق)  قتل کرنا اور سود کھاناہے۔ ‘‘

 ( السنن الکبری  للبیہقی، کتاب الشہادات ، باب من تجوز شہادتہالخ ، الحدیث:  ۲۰۷۵۲ ،ج۱۰ ، ص ۳۱۴)

{50}…رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، مؤمن کوناحق قتل کرنا، سود اور یتیم کامال کھانا ہے۔ ‘‘

 ( مجمع الزوائد،کتاب الایمان ، باب فی الکبائر ، الحدیث:  ۳۸۲ ، ج۱ ،ص ۲۹۱)

{51}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظم ہے:  ’’ 7کبیرہ گناہوں سے بچو:  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، کسی کو قتل کرنا، میدان جنگ سے بھاگنا، یتیم کامال کھانا اور سود کھانا۔ ‘‘   ( المعجم الکبیر ،الحدیث:  ۵۶۳۶ ، ج۶ ، ص ۱۰۳)

{52}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اہلِ یمن کی طرف خط لکھا جس میں فرائض، سنن اور دیتوں کا تذکرہ تھا اور حضرت سیدنا عمرو بن حزم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کو دے کر بھیجا، خط میں لکھا تھا:  ’’ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، مؤمن کوناحق قتل کرنا، جنگ کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے جہاد سے بھاگنا، والدین کی نافرمانی کرنا، پاک دامن عورت پر تہمت لگانا، جادو سیکھنا، سوداوریتیم کا مال کھانا ہیں ۔ ‘‘   ( سنن الکبرٰی للبیہقی ، کتاب الزکاۃ ، باب کیف فرض الصدقۃ ،الحدیث:  ۷۲۵۵، ج۴ ، ص ۱۴۹)

                سابقہ احادیثِ مبارکہ سے فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ سود کھانے والا، کھلانے والا (یعنی دینے والا) ، لکھنے والا، گواہ، اس میں کوشش کرنے والا، اس پر مددگار تمام کے تمام فاسق ہیں اور اس میں کسی قسم کابھی دخل کبیرہ گناہ ہے۔

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر185:         

قائلینِ حرمت کے نزد یک سود میں حیلہ کرنا

{1}…بعض علماء رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیفرماتے ہیں ،مروی ہے :  ’’ سودخور،سود کھانے کے لئے حیلے بہانے کرنے کی وجہ سے قیامت کے دن کتوں اور خنزیروں کی شکل میں اُٹھائے جائیں گے، جیسا کہ اصحابِ سبت کے چہرے مسخ کر دئیے گئے، جب انہوں نے ہفتے کے دن مچھلیوں کے شکار کا حیلہ کیاجن کا شکار کرنے سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں روک دیا تھا، پس انہوں نے حوض کھوددئیے جن میں ہفتے کے دن مچھلیاں گر جاتیں یہاں تک کہ وہ اتوار کے دن انہیں پکڑلیتے،جب انہوں نے ایساکیا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں بندروں اور خنزیروں کی شکلوں میں بدل دیا اور یہی حال ان لوگوں کا ہے جو سود پر مختلف قسم کے حیلے بہانے کرتے ہیں حالانکہ اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ پر حیلے کرنے والوں کے حیلے پوشیدہ نہیں۔ ‘‘                       (کتاب الکبائرللذہبی،الکبیرۃ الثانیۃ عشرۃ،باب الربا،ص۷۰)

                سیدناایوب سختیانی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا فرمان ہے:  ’’ وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو دھوکا دیتے ہیں جیسا کہ لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں ، اگر وہ بات واضح کر دیتے تو ان پر آسان ہوتا۔ ‘‘

تنبیہ:                        

سود میں حیلہ کرنا

                سود وغیرہ میں حیلہ کرنے کوحضرتِ سیدنا امام احمد بن حنبل اورحضرتِ سیدنا امام مالک رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمانے حرام قرار دیا ہے اور استدلال کا قیاس یہ ہے کہ قائلینِ حرمت کے نزدیک حیلہ کے ساتھ سود لینا کبیرہ گناہ ہے، اگرچہ اس کے جواز میں اختلاف ہے۔

                حضرتِ سیدیناامام شافعی اورامام اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمانے سود وغیرہ میں حیلہ کو جائز قرار دیا ہے اور ہمارے اصحابِ شوافع رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے مندرجہ ذیل حدیثِ پاک سے اس کی حلت پر استدلال کیا ہے:

{2}…خیبر کا عامل حضور نبی ٔ کریم،رء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں بہت سی عمدہ کھجوریں لے کر حاضر ہوا توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے پوچھا:  ’’ کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہیں ؟ ‘‘  اس نے جوب دیا:  ’’ نہیں ، بلکہ ہم گھٹیا کھجوریں لوٹا دیتے ہیں اور گھٹیا کے دو صاع کے بدلے میں عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیتے ہیں ۔ ‘‘  توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے اس طرح کرنے سے منع فرما دیا اور اسے بتایا کہ یہ سود ہے پھر اس میں حیلہ بتایا اور وہ یہ ہے کہ دراہم کے بدلے میں گھٹیا کھجوریں بیچ دے اور ان دراہم کی عمدہ کھجوریں خرید لے۔ ‘‘

 



Total Pages: 320

Go To