Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                یعنی فرشتہ دنیامیں اس کے لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے صدقات کی زیادتی کاسوال کرتا ہے کہ وہ اس خرچ کرنے والے کو اچھا نعم البدل عطا فرمائے جیسا کہ احادیثِ مبارکہ میں آیا ہے کہ،

{10}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ کوئی دن ایسا نہیں جس  میں ایک فرشتہ یہ نہ پکارتا ہو: اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ !  اس خرچ کرنے والے کو اچھا نعم البدل عطا فرما۔ ‘‘

 ( کشف الخفاء ، حرف الھمزۃ مع اللام ، الحدیث:  ۵۴۹، ج۱ ، ص ۱۶۷)

                اس طرح ہر روز اس کا مرتبہ اور ذکرِ جمیل زیادہ ہوتا جاتا ہے، دل اس کی جانب مائل ہوتے ہیں ، فقراء کے دلوں سے اس کے لئے خالص دُعا نکلتی ہے، اس سے لوگوں کی حرص اور طمع ختم ہو جاتی ہے، جب وہ فقراء ومساکین کے معاملات کی دیکھ بھال میں مشہور ہو جائے تو ہر ایک اسے تکلیف پہنچانے سے گریز کرتا ہے، نیز ہر لالچی اور ظالم انسان بھی اس کا سامنا کرتے ہوئے ڈرتا ہے، اور آخرت میں یہ سب کچھ بڑھ کر اس قدر ہو چکا ہو گا کہ ایک لقمہ بھی پہاڑوں کی مثل ہو گا جیسا کہ سابقہ زکوٰۃ کے باب میں بیان ہونے والی احادیثِ مبارکہ میں گزرا ہے۔

وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ (۲۷۶)

                اس آیتِ مبارکہ میں کفار اور اثیم دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں جن میں سود کو حلال جاننے والے اور سود کھانے والے کا ان دونوں پر استمرار پایا جا رہا ہے، ان دونوں افراد کا اپنے افعال سے رجوع کرنا ممکن ہے جیسا کہ مروی ہے کہ

{11}…سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے نماز یا حج ترک کیا اس نے کفرکیا، جس نے اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں وطی کی اس نے کفر کیا اور جس نے اس کی دُبر ( یعنی پچھلے مقام) میـں وطی کی اس نے بھی کفر کیا۔ ‘‘

حدیثِ پاک کامفہوم:

                اس  (حدیث)  سے مراد یہ ہے کہ وہ کفر کے قریب کرنے والے اعمال ہیں کہ اگر ان اعمال خبیثہ کو بجا لاتا رہا تو ایک دن یہی اس کے کفر اور برُے خاتمہ کا باعث بنیں گے، یہاں اس مبالغہ میں بہت زیادہ ڈرانا مقصودہے۔

{۲}فرمان باری تعالیٰ ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (۲۷۸) فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْۚ-لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ (۲۷۹) وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (۲۸۰) وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِۗ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ (۲۸۱)   (پ ۳، البقرۃ،۲۷۸تا۲۸۱)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ  سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کر لو اللہ  اور اللہ  کے رسول سے لڑائی کا اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤنہ تمہیں نقصان ہو اور اگر قرض دار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلا ہے اگر جانو اور ڈرو اس دن سے جس میں اللہ  کی طرف پھرو گے اور ہر جان کو ا سکی کمائی پوری بھر دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہو گا۔

آیتِ مبارکہ کی وضاحت:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا

                قرآنِ کریم کا اسلوب ہے کہ ترہیب (یعنی ڈرانے)  کے بعد ترغیب ہوتی ہے یا پھر کبھی اس کے برعکس ہوتا ہے لہذا یہاں بھی اس کے انجام سے نصیحت دلاتے ہوئے، مطیع وفرمانبردار کے مقام و مرتبہ کو ایک عاصی و گناہ گار سے ممتاز کرتے ہوئے، نیز اس پر ان کی تعریف و مذمت میں مبالغہ کرتے ہوئے ترہیب کے بعد ترغیب کا ذکر ہو رہا ہے کہ اے ایمان والو! اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو اور سود کی بقیہ رقم کو مقروضوں سے وصول نہ کرو، اور اس سے قبل اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اس فرمانِ عالیشان  فَلَهٗ مَا سَلَفَؕ-سے واضح کر دیا ہے کہ حرمتِ سود کا حکم نازل ہونے سے پہلے جو سود وصول کیا گیا وہ حرام نہیں سوائے اس کے کہ جو سود حرمت کا حکم نازل ہونے کے بعد وصول کیا گیا کیونکہ وہ حرام ہے اب اس شخص کے لئے اپنے اصل مال سے زائد مال لینا جائز نہیں اس وجہ سے اب نزولِ حکم کے بعد مکلف ہونے کی بناء پر اس پر ایسا کرنا حرام ہوگا۔

                اس آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ اہلِ مکہ تمام یا چند ایک اور اہلِ طائف کے چند افرادسودی لین دین کیا کرتے تھے لہذا جب وہ فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئے تو اس سود میں ان کا آپس میں جھگڑا ہو گیا جس پر انہوں نے ابھی تک قبضہ نہیں کیا تھا تو یہ آیتِ مبارکہ اس بات کا حکم لے کر اُتری کہ وہ صرف اپنے اصل اموال ہی واپس لیں گے اس سے زائد کچھ وصول نہیں کریں گے۔

{12}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے حجۃ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا:  ’’ خبر دار،جان لو!  زمانۂ جاہلیت کا ہر معاملہ میرے قدموں تلے ختم کر دیا گیا ہے۔ ‘‘  پھر ارشاد فرمایا:  ’’ جاہلیت کا سود بھی ختم کر دیا گیا ہے اور سب سے پہلا سودجس کو میں ختم کر رہا ہوں وہ حضرت سیدنا عباس بن عبدالمطلب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کا سودہے۔ ‘‘

 ( صحیح المسلم ،کتاب الحج ، باب حجۃ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ، الحدیث:  ۲۹۵۰ ، ص ۸۸۱)

اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (۲۷۸) فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-

                یعنی اگر تم ایمان والے ہو تو سودی کاروبار سے باز آجاؤاور اگر اس سے نہ رُکے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے اعلان جنگ کر دو، اور جس نے بھی ایسا کیا تو وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکے گا۔

                اس حرب سے مراد یا تودُنیوی جنگ ہے یا پھراُخروی جنگ۔

          دُنیوی جنگ سے مراد یہ ہے کہ شریعت نافذ کرنے والے حکام پر لازم ہے کہ جب انہیں کسی کے بارے میں سود لینے کا پتہ چلے تو اسے قید کر دیں یہاں تک کہ وہ توبہ کر لے، لیکن اگر سودخور صاحبِ حیثیت اور ذِی حشم ہوکہ تم اس پر جنگ کئے بغیر قدرت حاصل نہیں کر سکتے تو اسی طرح جنگ کروجیسے  (حضرت سیدنا ) ابو بکر صدیق ( رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ )  نے مانعینِ زکوٰۃ کے ساتھ کی تھی۔

                حضرت سیدنا عبداللہ  بن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کا فرمان ہے :  ’’ جو سودی کاروبار میں ملوث ہو اس پر توبہ پیش کی جائے اگر  توبہ کر لے تو اچھی بات ہے ورنہ اس کاسر تن سے جدا کر دیا جائے۔ ‘‘

                آیتِ مبارکہ میں جنگ کرنے کا یہ حکم دو چیزوں کا احتمال رکھتا ہے کہ یا تو مطلقاً جو بھی سود لے اس کے ساتھ جنگ کی جائے یا پھر صرف اس کے ساتھ جو اسے حلال اور جائز سمجھ کر لے، ایک قول یہ مروی



Total Pages: 320

Go To