Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ (۱۴)   (پ۳۰، الفجر: ۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: بے شک تمہارے رب کی نظر سے کچھ غائب نہیں ۔

فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَؕ-وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِؕ-

                یعنی جس کے پاس اس کے رب عَزَّ وَجَلَّ  کی کوئی نصیحت آئے اور اس کے بعد فوراًسود لینے سے باز آ جائے توحرمت کا حکم نازل ہونے سے قبل جو اس نے سود لیا تھا وہ اس کے لئے جائز ہو گا کیونکہ اس وقت وہ اس حکم کا مکلَّف نہیں تھا جبکہ آیتِ حرمت کے نزول کے بعد اس کو لینا جائز نہیں ، پس جس نے توبہ کر لی اس پر لازم ہے کہ وہ لیاہوا تمام سودواپس کر دے، اگرچہ یہ بھی فرض  کر لیا جائے کہ اسے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیسے دوری کی وجہ سے سود کے حرام ہونے کا علم نہ ہو سکا تھا تب بھی اس پر لازم ہے کہ لیاہواتمام سودواپس کر دے کیونکہ اُس نے یہ سود اُس وقت لیاتھاجب وہ اس حکم کا مکلَّف تھا اور ناواقفیت کا عذر اس کے گناہ گار ہونے میں اگرچہ مؤثر نہ بھی ہو لیکن مالی حقوق میں وہ ضرور مؤثر ہوتا ہے۔ اور باقی رہا اس کے گذشتہ سود کا معاملہ تو وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے سپرد ہے، یا پھر سود سے باز آجانے کایا سود کے قابلِ معافی یا ناقابلِ معافی ہونے کا معاملہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے سپرد ہے، اس کی توجیہات کے بارے میں مفسرینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی کئی ایک آراء ہیں ،

                حضرتِ سیدناامام فخرالدین رازی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ جس صورت کو میں نے اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ حکم (وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِؕ-)  اس شخص کے ساتھ خاص ہے جو سودکے کھانے یانہ کھانے کی وضاحت کئے بغیراسے حلال نہ سمجھے۔ ‘‘

                مگرآیت کے آخری الفاظ (وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ (۲۷۵) ) سے یہ ثابت ہوتاہے کہ مذکورہ حکم اس کے ساتھ خاص ہے جو سود تولے مگر اسے حلال نہ جانے۔اورپہلی صورت پرآیتِ مبارکہ کا لفظ ’’  فانتھیٰ  ‘‘ دلالت کرتاہے یعنی وہ یہ کہنے سے باز آجائے کہ  ’’ بیع بھی توسود ہی کی طرح ہے ۔ ‘‘

وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ (۲۷۵)

                یعنی اگر وہ اپنے اسی سابقہ قول ’’  یعنی بیع بھی تو سود کی طرح ہے۔  ‘‘ کی جانب لوٹا، لیکن سود کو حلال نہ خیال کیا بلکہ حرام ہی جانا تو اب اس کی دو صورتیں ہوں گی:  (۱) وہ سود کھانے سے بھی رک جائے گا حالانکہ یہاں یہ مراد نہیں کیونکہ  ’’ وَاَمْرُہٗ اِلَی اللّٰہِ ‘‘ کافرمان اس کے لائق نہیں ، بلکہ اس کے لائق محض مدح وتعریف ہے اور (۲) اگرسودکھانے سے توبازنہ آئے لیکن اسے حرام ضرور جانے تو یہاں اس آیۂ مبارکہ سے یہی مراد ہے کیونکہ اب اس کا معاملہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے سپرد ہے اگر وہ چاہے تو اسے سزا دے اور اگر چاہے تو معاف فرما دے، جیساکہ اس کا فرمانِ عالیشان بھی ہے:

وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-  (پ۵، النساء: ۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا

                یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سود خوروں کے معاملے کو   ان  کے مقصود کے برعکس ملیامیٹ کر دے گا، چونکہ انہوں نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی اور غضب کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مال کی زیادتی کوترجیح دی پس وہ نہ صرف اس زیادتی بلکہ اصل مال کو بھی ختم کردے گا یہاں تک کہ ان کا انجام انتہائی فقر ہو جائے گا ،جیسا کہ اکثر سود خوروں کا مشاہدہ بھی کیا گیا ہے، اگر فرض کر لیں کہ وہ اسی دھوکا میں مبتلا ہوکر اس دارِ فانی سے چل بسا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے وارثوں کے ہاتھوں اس کا مال تباہ و برباد کر دے گاپس تھوڑی ہی مدت کے بعد انتہائی فقر اور ذلت ورسوائی اس کا مقدر بن جائے گی۔

سود کا انجام کمی پرہوتاہے :

{6}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’  (بظاہر) سود اگرچہ زیادہ ہی ہو آخرکاراس کا انجام کمی پر ہوتا ہے۔ ‘‘    (المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند عبداللہ  بن مسعود ، الحدیث:  ۴۰۲۶ ، ج۲،ص ۱۰۹)

                اسی ہلاکت وبربادی میں سے یہ بھی ہے کہ،

 (۱) …اس پر مذمت، بغض اور عدالت و امانت کے زوال کے احکام مرتَّب ہوتے ہیں ،

 (۲) …اس کا نام فاسق، تنگ دل اور دُرشت رکھ دیا جاتا ہے،

 (۳) …جس کا مال اس نے ظلمًا لیا ہو اس کی بد دعاؤں سے لعنت کا حقدار ٹھہرتا ہے، یہی وہ سبب ہے جو اس کی جان اور مال سے  خیر وبرکت کے خاتمے کا باعث بنتا ہے کیونکہ مظلوم کی دعا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔ چنانچہ،

{7}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ جب مظلوم ظالم کے لئے بد دعا کرتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس مظلوم سے ارشاد فرماتا ہے:  ’’ میں تیری ضرور مدد فرماؤں گا اگرچہ کچھ مدت بعد ہی ہو۔ ‘‘

 (۴) …جو سود کا مال جمع کرنے میں مشہور ہوتو کئی ایک مصائب اس کا رخ کر لیتے ہیں مثلاً چور ، ڈاکو وغیرہ گمان کرتے ہیں کہ حقیقتًا مال اس کا نہیں  (لہذاچوری کرلیتے ہیں ) ۔

 آخرت میں تباہی و بربادی، سودخورکامقدر:

                بیان کردہ سب ہلاکتیں وہ ہیں جن کا دنیا ہی میں سود خور کو سامنا کرنا ہو گا جبکہ آخرت کی تباہی وبربادی یہ ہے:

{8}…حضرت سیدنا عبداللہ  بن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے مروی ہے :  ’’ اس کا نہ صدقہ قبول کیا جائے گا ، نہ جہاد ، نہ حج اور نہ ہی صلہ رحمی۔ ‘‘   (تفسیر قرطبی،سورۃ البقرۃ،تحت الآیۃ: ۲۷۶،ج۲،ص۲۷۴)

                اس کے علاوہ وہ مرے گا تو اپنا سب مال و اسباب پیچھے چھوڑ جائے گا لہذا اس کے سبب اس پر اپنا اور اپنے پیروکاروں کا بھی وبال اور عذابِ الیم ہو گا،اسی لئے منقول ہے کہ،

{9}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ دو مصیبتیں ایسی ہیں کہ کوئی بھی ان کی مثل سے دوچار نہ ہو گا: تمام کاتمام مال چھوڑنا اور پھر اس پر سزا بھی پانا۔ ‘‘

                نیز صحیح حدیث میں ہے کہ ’’  اغنیاء جنت میں فقراء سے 500سال بعد داخل ہوں گے۔ ‘‘

 (فیض القدیر،حرف الھمزۃ ،تحت الحدیث: ۲، ج۱، ص ۵۲)

                 توجب مالِ حلال کی وجہ سے اغنیاء کی یہ حالت ہو گی تو جن کا کاروبار ہی حرام ہو ان کا کیا حال ہو گا؟

                المختصر یہ کہ یہ سب وہ ہلاکتیں ، بربادیاں ،نقصان، گھاٹے اور ذلتیں ہیں جن کا اسے سامنا کرنا ہو گا۔

وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ-

 



Total Pages: 320

Go To