Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                اگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اپنے عارف بندوں اور وارثینِ علوم ِانبیاء یعنی علماء پر لطف و کرم نہ فرماتا اور امیدکی سہانی مدد سے انہیں تسکین نہ دلاتا تو ان کے کلیجے جہنم کے خوف سے جل جاتے۔

بُرے خاتمے کا خوف

                سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے صحابی حضرت سیدنا ابو درداء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی قسم اٹھا کر فرماتے تھے :  ’’ جو موت کے وقت ایمان کے چھن جانے سے بے خوف رہے گا اس کی موت کے وقت اس کا ایمان چھین لیاجائے گا۔ ‘‘  یعنی اس کا ایمان اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف رہنے کی وجہ سے چھینا جائے گا۔

                حضرت سیدنا عبدالرحمن بن مہدی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ جب حضرت سیدنا سفیان ثوری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  پر نزع کا عالم طاری ہوا تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  رونے لگے، ایک شخص نے دریافت کیا:   ’’ اے ابو عبداللہ !  کیا گناہ کی کثرت نظر آ رہی ہے؟ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے سر اٹھایا اور زمین سے کچھ مِٹی اٹھا کر ارشاد فرمایا:   ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!  میرے گناہ میرے نزدیک اس مٹھی بھر مِٹی سے بھی زیادہ حقیر ہیں ، میں تو موت سے پہلے ایمان چھن جانے کے خوف سے رورہاہوں ۔ ‘‘

                حضرت سیدنا عبداللہ  بن احمد بن حنبل رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ م فرماتے ہیں :  ’’ جب میرے والد گرامی پر نزع کا عالم طاری ہوا تو میں ان کے قریب بیٹھ گیا، میں نے ان کے جبڑے باندھنے کے لئے ہاتھ میں کپڑے کاایک ٹکڑا پکڑ رکھا تھا، آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکبھی بے چین ہوجاتے اور کبھی افاقہ محسو س کرتے اور کہتے :  ’’ خبردار!  مجھ سے دور ہٹ جاؤ۔ ‘‘  میں نے عرض کی:   ’’ ابا جان!  آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاس عالم میں ایسے انداز میں کس سے مخاطب ہیں ؟ ‘‘  تو آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے جواب دیا:   ’’ اے میرے بیٹے!  کیاتم نہیں جانتے؟ ‘‘  میں نے عرض کی :  ’’ نہیں !  ‘‘  تو انہوں نے ارشاد فرمایا:  ’’ ابلیس میرے سامنے کھڑا ہے اور مجھ سے کہہ رہاہے:   ’’ اے احمد!  مجھے ایک بار تو آزما لو۔ ‘‘  لیکن میں اس سے کہہ رہا ہوں :  ’’ جب تک میں مر نہ جاؤں مجھ سے دور رہو۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا سہل رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرمایا کرتے تھے :  ’’  مُرید گناہوں میں مبتلا ہونے سے ڈرتا ہے جبکہ عارف کفر میں مبتلا  ہونے سے ڈرتا ہے۔ ‘‘  

                منقول ہے :  ’’ کسی نبی عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنی بھوک اور سردی کی شکایت کی تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی طرف وحی بھیجی :  ’’ اے میرے بندے!  کیا تُو اس بات پر راضی نہیں کہ میں نے تیرے دل کو اپنی ناشکری سے محفوظ کر دیا ہے، پھر بھی تُو مجھ سے دنیا کا سوال کرتا ہے۔ ‘‘  تو وہ اپنے سر پر خاک ڈال کر عرض کرنے لگے:   ’’ کیوں نہیں ،یارب عَزَّ وَجَلَّ !  بے شک میں راضی ہوں ، مجھے ناشکری سے بچائے رکھنا۔ ‘‘  جب راسخ قدمی اور قوتِ ایمانی کے باوجود عارفین کے برے خاتمے سے خوف کا یہ عالم ہے تو ہم جیسے کمزور و ناتواں بندے کیوں نہ ڈریں ۔ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیفرماتے ہیں :  ’’ موت سے پہلے برے خاتمہ کی چند علامات ظاہر ہوتی ہیں ، مثلا بدعت میں مبتلا ہونا اور عمل میں نفاق۔ ‘‘

{84}…ان کی پہلی بات کی تائید دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمانِ عالیشان بھی کرتاہے کہ  ’’ بدعتی لوگ جہنم میں جہنمیوں کے کُتّے ہوں گے۔ ‘‘   (کنزالعمال،کتاب الایمان والاسلام، باب البدع و الرفض من الاکمال، الحدیث:  ۱۱۲۱،ج۱،ص۱۲۳،بدون  ’’ فی النار  ‘‘ )

{85}…دوسری بات کی طرف نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں اشارہ فرمایا ہے :  ’’ منافق کی تین علامتیں ہیں :  

 (۱) جب بات کرے تو جھوٹ بولے  (۲) جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے اور  (۳) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے، اگرچہ وہ نماز پڑھتاہو، روزے رکھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔ ‘‘   (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب خصال المنافق ، الحدیث: ۲۱۱ / ۲۱۳،ص۶۹۰)

                اسی وجہ سے ہمارے اسلاف اس معاملہ میں بہت زیادہ ڈرتے تھے بلکہ ان میں سے بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا:   ’’ اگر مجھے پتہ چل جائے کہ میں نفاق سے بری ہوں تو یہ مجھے ہر اس چیز سے زیادہ پسند ہو گا جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا ابو درداء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ایک مرتبہ فرمایا:  ’’ نفاق والے خشوع سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگا کرو۔ ‘‘ آپ سے عرض کی گئی :  ’’ نفاق والا خشوع کیا ہے؟ ‘‘  تو آپ نے ارشاد فرمایا:  ’’ جسم تو خاشع نظر آئے مگر دل فاسق و فاجر ہو۔ ‘‘  

{86}… حضرت سیدنا اَنَس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ تم لوگ کچھ ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے زیادہ باریک ہیں جبکہ ہم صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانے میں انہیں ہلاکت میں ڈالنے والے اعمال شمار کرتے تھے۔ ‘‘    (صحیح البخاری ،کتاب الرقاق،باب ما یتقی من محقرات الذنوب،الحدیث : ۶۴۹۲،ص۵۴۵)

{87}…اپنے زمانہ کے شافعی مذہب کے امامِ حضرت سیدنا شیخ نصر المقدسی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہحضرت سیدنا ابو ذررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کی روایت بیان کرتے ہیں :  ’’ مجھے میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چار باتوں کی وصیت فرمائی،جومجھے دنیا اور اس کی ہرچیز سے زیادہ پیاری ہیں ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشاد فرمایا:  ’’ اے ابو ذر! کشتی کی مرمت کر لو کیونکہ دنیا کا سمندر بہت گہرا ہے،بوجھ کو ہلکا رکھو کیونکہ سفر بہت طویل ہے ،توشہ ساتھ لے لو کیونکہ گھاٹی بہت لمبی ہے اور عمل میں اخلاص پیدا کرلو کیونکہ تمام معاملات کی جانچ پڑتال کرنے والا صاحبِ بصیرت ہے۔ ‘‘

                حضرت سیدنا سعید بن جبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے خشیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:   ’’ خشیت یہ ہے کہ تم اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے اتنا ڈرو کہ اس کا ڈر تمہارے اور نافرمانیوں کے درمیان حائل ہو جائے۔ ‘‘  

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے غافل ہونے سے مراد یہ ہے کہ بندہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی معصیت میں اِنتہا کو پہنچ جائے اور اس کے باوجود بخشش کی تمنا رکھے۔

                ایک شخص کسی تفریح گاہ میں داخل ہوا ،اس کے دل میں معصیت کا خیال آیاتو اس نے سوچا کہ یہاں مجھے کون دیکھے گا؟ اچانک اس نے ایک بے چین کر دینے والی آواز سنی :

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَؕ-وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ (۱۴)   (پ۲۹، الملک:  ۱۴)

 

ترجمۂ کنزالایمان: کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا اور وہی ہے ہر باریکی جانتا خبردار۔

                حضرت سیدنا سعید بن جبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے، آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ   اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان:  

وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ (۵)   (پ ۲۲، فاطر:  ۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہرگز تمہیں اللہ  کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی۔

کی تفسیر میں فرماتے ہیں :  ’’ اس سے مراد گناہوں پر ہمیشگی اختیار کرنے کے باوجود مغفرت کی تمنا رکھنا ہے۔ ‘‘

                حضرت سیدنا بشر حافی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے عرض کی :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے مجھے کوئی نصیحت فرمایئے؟ ‘‘  تو انہوں نے ارشاد فرمایا:  ’’ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا خوف رکھتا ہوتو یہی خوف ہر خیر کی طرف اس کی رہنمائی کر دیتا ہے۔ ‘‘

 



Total Pages: 320

Go To