Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کیا بیع کو اور حرام کیا سود تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا اور اس کاکام خدا کے سپرد ہے اور جو اب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتوں رہیں گے اللہ  ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو اور اللہ  کو پسند نہیں آتا کو ئی ناشکرا بڑا گنہگار۔

وضاحت:

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ-

                یعنی سود خور اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جس کو شیطان نے چھو کرمجنون بنادیا ہو،پس جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن لوگوں کو دوبارہ زندگی عطا فرمائے گا تو تمام لوگ اپنی قبروں سے جلدی جلدی نکلیں گے سوائے سودخوروں کے،وہ جب بھی کھڑے ہوں گے تواپنے مونہوں ،پیٹھوں اورپہلوؤں کے بل گر پڑیں گے جیسے کوئی پاگل و دیوانہ شخص ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دنیا میں مکر وفریب اورخداو رسول عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے مخالفت مول لے کر حرام و سود سے پیٹ بھرتے رہے تو وہ ان کے پیٹوں میں بڑھتا رہا اور اس وقت اس قدر زیادہ ہو چکا ہو گا کہ اس کے بوجھ سے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے بھی قابل نہ رہیں گے،پس جب بھی لوگوں کے ساتھ مل کر تیزی سے چلنا چاہیں گے تو اوندھے منہ گر پڑیں گے اور دوبارہ پیچھے رہ جائیں گے۔

                یہ بھی ایک مُسلَّمہ بات ہے کہ جب بھی وہ گریں گے تو ایک آگ انہیں میدانِ محشر کی جانب ہانکے گی اور اس طرح بھی ان کے عذاب میں مزید اضافہ ہو گا، اس طرح اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ان پر دو بہت بڑے عذاب مسلّط فرما دے گا یعنی ایک عذاب تو ان کا چلنے میں بار بار گرنا اور دوسراآگ کی تپش اور لپٹوں کا ان کوہنکانایہاں تک کہ وہ میدانِ محشرمیں پہنچیں گے تو اپنی لڑکھڑاہٹ اور جنونی کیفیت کی بناء پر وہاں موجود تمام افراد کے درمیان  (سود خور ہونے کی حیثیت سے)  پہچانے جائیں گے، جیسا کہ،

{1}…حضرت سیدنا قتادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے :  ’’ سود خور کو قیامت کے دن جنون کی حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے سود کھانے کے بارے میں سب اہلِ محشر جان لیں گے۔ ‘‘                (کتاب الکبائرللذہبی،الکبیرۃ الثانیۃ عشرۃ،باب الریائ،ص۶۸)

{2}…حضرت سیدناابو سعید خدری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جب مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا تو میں نے آسمانِ دنیا کی طرف دیکھا، اچانک مجھے ایسے لوگ دکھائی دیئے جن کے پیٹ بڑے بڑے گھروں کی طرح تھے اور ان کی توندیں لٹکی ہوئی تھیں ، وہ ان فرعونیوں کی گزرگاہ پر پڑے ہوئے تھے جوصبح وشام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔ ‘‘ مزیدارشاد فرمایا:  ’’ وہ مطیع اونٹوں کی طرح بغیرسُنے سمجھے آگے بڑھے تو یہ  (بڑے) پیٹوں والے ان کو محسوس کر کے کھڑے ہوئے لیکن اپنے پیٹوں کی وجہ سے دوبارہ گرگئے اور وہاں سے نہ اُٹھ پائے یہاں تک کہ آلِ فرعون ان پر چھا گئے اور اوندھے، سیدھے پڑے ہوئے ان لوگوں کواذیت دیتے ہوئے  (جہنم میں )  چلے گئے، یہ تو سودخوروں کا برزخ میں عذاب ہے جو دنیاو آخرت کے درمیان ہے۔ ‘‘ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں ،میں نے جبرائیل  (عَلَیْہِ السَّلَام)  سے دریافت فرمایا:  ’’ یہ کون ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا:  ’’ یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑ اہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط (یعنی پاگل)  بنا دیا ہو۔ ‘‘

 (الترغیب والترہیب،کتاب البیوع،باب ، الترہیب من الربا،الحدیث: ۲۸۹۱،ج۲،ص۴۰۷،بدون ’’ فیقبلون ‘‘ الیٰ  ’’ مدبرین ‘‘ )

{3}ایک اور روایت میں ہے کہ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں نے ساتویں آسمان پر اپنے سر کے اوپر بادلوں کی سی گرج اور بجلی کی سی کڑک سنی اور ایسے لوگ دیکھے جن کے پیٹ گھروں کی طرح (بڑے بڑے) تھے اُن میں سانپ اور بچھوباہرسے نظرآرہے تھے،میں نے پوچھا:  ’’ اے جبرائیل! یہ کون ہیں ؟ ‘‘ توانہوں نے بتایا:  ’’ یہ سود خور ہیں۔ ‘‘   (مجمع الزوائد،کتاب البیوع ، باب ماجاء فی الربا ، الحدیث:  ۶۵۷۷، ج۴ ، ص ۲۱۱،بتغیرٍ)

                ان دونوں احادیثِ مبارکہ کا اس حدیثِ پاک کے ساتھ ہی تذکرہ آگے بھی ہو گا ۔

{4}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  کا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ ان گناہوں سے بچو جن کی مغفرت نہیں ہوگی:  (۱) دھوکادہی،پس جس نے کسی شئے سے دھوکا دیا تو قیامت کے دن وہ چیز لائی جائے گی اور (۲) سود خوری،پس جس نے بھی سود کھایا اسے قیامت کے دن جنون کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔ ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے مذکورہ آیتِ کریمہ تلاوت فرمائی۔ ‘‘                     ( المعجم الکبیر ، الحدیث:  ۱۱۰، ج۱۸ ، ص ۶۰)

{5}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمَینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ سود خور قیامت کے دن جنون کی حالت میں اپنی دونوں   سرینوں کوگھسیٹتے ہوئے آئے گا۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے مذکورہ آیتِ کریمہ تلاوت فرمائی۔ ‘‘

 ( الترغیب والترھیب ،کتاب البیوع ، باب الترھیب من الربا ،الحدیث:  ۲۸۹۴ ، ج۲ ، ص ۴۰۸)

                کتاب الصلوٰۃکی ابتداء میں ایک حدیثِ پاک گزری تھی کہ ’’ سود خور کو مرنے سے لے کر قیامت تک اس عذاب میں مبتلا رکھا جائے گا کہ وہ خون کی طرح سرخ نہر میں تیرتا رہے گا اور پتھرکھاتا رہے گا، جب بھی اس کے منہ میں پتھر ڈال دیا جائے گا تو وہ پھر نہرمیں تیرنے لگے گا پھرواپس آئے گا اورپتھر کھا کر لوٹ جائے گا یہاں تک کہ دوبارہ زندگی ملنے تک اسی طرح رہے گا۔ وہ پتھر اس حرام مال کی مثال ہے جو اس نے دنیا میں جمع کیا ،پس وہ اس آگ کے پتھر کو نگلتا رہے گا اور عذاب میں مبتلا رہے گا، اس کے علاوہ بھی عذاب کی کئی انواع اس کے لئے تیار کی گئی ہیں جن کا تذکرہ عنقریب ہو گا۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ-

                ان کے اس شدید عذاب کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سودکوبیع کی طرح حلال جانا اور اس غلط اعتقاد کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے خیال کیا کہ جس طرح وہ کوئی چیز10درہم میں خرید کر11درہم میں فروخت کرتے ہیں خواہ ادھار دیں یانقد،اس طرح 10 درہم کی 11درہم کے عوض ادھاریانقد بیع بھی جائز ہی ہو گی کیونکہ عقلاً جب جانبین راضی ہوں تو ان دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں ، لیکن وہ اس بات سے غافل ہو گئے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے ہمارے لئے کچھ حدود مقرر فرما رکھی ہیں اور ہمیں ان سے تجاوز کرنے سے منع فرمایا ہے،پس ہم پر لازم ہے کہ ہم ان حدود کی پاسداری کریں اورانہیں اپنی رائے اور عقل کے ترازو میں نہ پَرکھیں  (یعنی نہ تولیں ) ،بلکہ ان کو ہر صورت میں قبول کر لیں خواہ ہماری عقل میں آئیں یا نہ آئیں ،اور ہمارے لئے مناسب ہوں یا نہ ہوں ، کیونکہ یہی عبودیت وبندگی کا مرتبہ اور شان ہے۔

                کمزور وناتواں ،اور فہم و فراست سے قاصر بندے پر لازم ہے کہ اپنے قادر و قوی، علیم و حکیم، رحمن و رحیم اور جبار و عزیز  مولیٰ کے احکام کے سامنے سرِتسلیم خم کر دے، کیونکہ جب بھی اس نے اپنی عقل کے مطابق فیصلہ کیا اور اپنے مالک کے حکم سے روگردانی کی تو اس  (مالک الملک ) نے اپنے شدید عذاب سے اس کو ہلاکت و بربادی کے عمیق گڑھے میں پھینک دیا ۔چنانچہ،

{۱}اللہ  عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتاہے :

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ (۱۲)   (پ۳۰، البروج: ۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: بے شک تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے ۔

{۲}

 



Total Pages: 320

Go To