Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کتا جو شکار یا حفاظت کے لئے ہو اگرچہ کالاہی ہووغیرہ۔ان سب کو قتل کرنا حرام ہے۔

 

 ٭٭٭٭٭٭

 

 

حضورنبی ٔکریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکافرمان عالیشان ہے :  ’’ اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَاذَنْبَ لَہُ یعنی گناہ سے توبہ کرنے والاایساہے جیساکہ اس نے گناہ کیاہی نہیں۔ ‘‘  (سنن ابن ماجۃ،حدیث۴۲۵۰،ص۲۷۳۵)

کتاب البیوع

خریدوفروخت کابیان

کبیرہ نمبر178:                                   

آزاد انسان کو بیچنا

{1}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ سرکار مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے:  ’’ میں قیامت کے دن تین شخصوں سے جھگڑا کروں گا اور جس سے جھگڑا کروں گا اس پر غالب آجاؤں گا:   (۱) وہ شخص جس نے میرے نام پرعہدکیاپھرعہدشکنی کی (یعنی اسے توڑدیا)  (۲) جس نے کسی آزاد شخص کو (غلام بناکر)  بیچا اور اس کی قیمت کھا لی اور  (۳) جس نے کسی کو اُجرت پر رکھا پھر اس سے پورا کام لے لیا مگر اس کی اُجرت نہ دی۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجۃ،ابواب الرھون،باب اجرالاجرائ،الحدیث: ۲۴۴۲،ص۲۶۲۳، ’’ یعطہ ‘‘  بدلہ ’’ یوفہ ‘‘ )

تنبیہ:

                اس حدیثِ پاک میں وارد شدید وعید کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے، بعض متاخرین علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس کے کبیرہ گناہ ہونے کی صراحت بھی کی ہے اور یہ ایک واضح بات ہے،حضرتِ سیدناامام طحاویعلیہ رحمۃ اللہ  الھادی فرماتے ہیں :   ’’ ابتدائے اسلام میں آزاد اگر مقروض ہوتا اور اس کے پاس قرض کی ادائیگی کے لئے کوئی ذریعہ نہ ہوتا تو اسے بیچ دیا جاتا تھا یہاں تک کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے اپنے اس فرمانِ عالیشان سے اس عمل کو منسوخ فرمادیا:

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-  (پ۳، البقرۃ: ۲۸۰)

ترجمۂ کنز الایمان :  اور اگر قرض دار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک۔

                جبکہ ایک قوم نے اس کے منسوخ ہونے کا قول نہیں کیا بلکہ کہا ہے کہ ’’ یہ حکم ابھی تک برقرار ہے۔ ‘‘ جیسا کہ،

{2}…ایک صحابی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے:  ’’ مجھ پر کسی شخص کا مال یا قرض تھا وہ مجھے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں لے کر حاضر ہوا لیکن آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے پاس کوئی مال نہ پایا تو مجھے اس قرض کے عوض بیچ دیا یا اس قرض کی ادائیگی کے لئے بیچ دیا۔ ‘‘          (سنن الدار قطنی،کتاب البیوع،الحدیث: ۳۰۰۶ ج۳،ص۷۴)

                مگر یہ روایت ضعیف ہونے کی وجہ سے قابل حجت نہیں ۔

کبیرہ نمبر179:                         

سود لینا

کبیرہ نمبر180:                         

سود دینا

کبیرہ نمبر181:                         

سودی دستاویزات لکھنا

کبیرہ نمبر182:                         

سودی لین دین پر گواہ بننا

کبیرہ نمبر183:                         

سود میں کوشش کرنا

کبیرہ نمبر184:                         

سود میں تعاون کرنا

{۱}اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ-فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَؕ-وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِؕ-وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ (۲۷۵) یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ (۲۷۶)   (پ۳، البقرۃ: ۲۷۵تا۲۷۶)

ترجمۂ کنز الایمان : وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑ اہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنا دیا ہویہ اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے اور اللہ  نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا اور اس کاکام خدا کے سپرد ہے اور جو اب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتوں رہیں گے اللہ  ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو اور اللہ  کو پسند نہیں آتا کو ئی ناشکرا بڑا گنہگار۔

 



Total Pages: 320

Go To