Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

(۸) …اَلنَّطِیْحَةُ:  (وہ جانورجسے دوسراٹکریاسینگ مارکرہلاک کردے)

                 یہ (شرعی طریقہ پر)  خون نہ بہنے کی وجہ سے مردار ہے۔

 (۹) …وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ:  (اس سے مراد وہ جانور ہے جس کا بعض گوشت درندے کھا لیں )

                 جب درندے کسی جانور کو زخمی کرکے ہلاک کردیتے اور اس کا کچھ گوشت کھا لیتے تو زمانہ جاہلیت کے لوگ باقی بچا ہوا کھا لیتے تھے، پس اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اسے بھی حرام فرما دیا۔اوراللہ  عَزَّ وَجَلَّکے فرمان ’’ اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ ‘‘  (یعنی جو مرنے سے پہلے شرعی طور پر ذبح کر دیئے جائیں ) سے معلوم ہواکہ مُنْخَنِقَۃ اوراس کے بعد جن جانوروں کا تذکرہ ہوا اگر ان میں سے کوئی جانور اس حالت میں پایا گیا کہ اس میں زندگی کی رمق ہو اوروہ ذبح کر لیا گیا تو حلال ہے ورنہ حرام۔

 (۱۰) …وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ:  (جو بتوں کے نام پر ذبح کئے جائیں )

                منقول ہے کہ اس سے مراد وہ پتھر ہیں جن پر کفار ذبح کیا کرتے تھے، تو اس صورت میں عَلٰی کا حرف واضح ہے، اور ایک قول یہ ہے :  ’’ نُصُبْ سے مراد بت ہیں جو عبادت کے لئے نصب کئے جاتے تھے۔ ‘‘  تو اس صورت میں عَلٰی، لام کے معنی میں ہو گا یعنی بتوں کے لئے اور تقدیر کلا م یوں ہوگا وَمَا ذُبِحَ عَلٰی اِعْتِقَادِ تَعْظِیْمِھَا یعنی جو بتوں کی تعظیم کے عقیدے پر ذبح کیا گیا۔

                سیدنامجاہد، سیدنا قتادہ اور سیدنا ابن جریج رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیفرماتے ہیں :  ’’ کعبہ کے ارد گرد 360پتھر نصب تھے، جن کی یہ لوگ عبادت کرتے، تعظیم کرتے اور ان کے لئے ذبح کرتے تھے، اور یہ (حقیقی)  بت نہیں تھے کیونکہ بت سے مراد ایک منقش صورت ہوتی ہے بلکہ وہ انہی پتھروں کو (جانوروں کے)  چمڑوں سے آلودہ کرتے اور ان پر گوشت رکھتے تھے۔ ‘‘

{2}…صحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ اقدس میں عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  زمانۂ جاہلیت کے لوگ خون بہاکر بیت اللہ  شریف کی تعظیم کرتے تھے جبکہ ہم اس کی تعظیم کے زیادہ حق دارہیں ۔ ‘‘ توحضورنبی ٔ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخاموش رہے یہاں تک کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان نازل ہوا:

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ-  (پ۱۷، الحج: ۳۷)

ترجمۂ کنز الایمان  : اللہ  کو ہر گز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیز گاری اس تک باریاب ہوتی ہے۔

 (تفسیرالطبری، سورۃ المائدۃ،تحت الآیۃ: ۳،الحدیث: ۱۱۰۵۲ / ۱۱۰۵۶،ج۴،ص۴۱۴)

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان  ’’  وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِؕ-  ‘‘ کامعنی یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ جو کرتے تھے اس سے منع کرنا کہ ان میں سے کسی کو کوئی بھی ضرورت پیش آتی تو وہ کعبہ کے خادم کے پاس آتا اور اس کے پاس سات برابرجوئے کے تیرہوتے جو پہاڑی لکڑی کے بنے ہوتے اور انہیں اَزْلاَم کہا جاتا کیونکہ وہ سیدھے ہوتے اورپہلے پر لکھا ہوتا نَعَمْ،دوسرے پر لا،تیسرے پر مِنْکُمْ،چوتھے پر مِنْ غَیْرِکُمْ،پانچویں پر مُلْصَقٌ یعنی کس نسب سے ملا ہوا ہے،چھٹے پر عَقْلٌ یعنی دیت  اورساتویں پر لَاشَیْیَٔ عَلَیْہِ یعنی اس پرکوئی چیز نہیں ، جب وہ کسی کام کا ارادہ کرتے یا نسب میں اختلاف ہوتا یا کسی پر دیت ہوتی تو وہ تیروں والے کے لئے سودرھم اوراُونٹ لے کرسب سے بڑے بت ھبل کے پاس آتے تووہ ان تیروں کوان کے لئے گھماتا اور وہ کہتے:  ’’ اے ہمارے معبودو!  ہم نے فلاں فلاں کام کا ارادہ کیا ہے۔ ‘‘  پس جو تیر نکلتا وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتے۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اس سے منع فرما دیا اور اسے حرام قرار دیا اور فرمایا:  ’’ ذٰلِکُمْ فِسْقٌ ‘‘  یعنی یہ گناہ ہے۔ ‘‘ بتوں پرذبح کئے جانے والے جانوروں اورجوئے کے تیروں کواکٹھا ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ (تیر)  ان کے ساتھ بیت اللہ  شریف کے پاس بلند کئے جاتے ہیں ۔

                علامہ قرطبی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ اس عمل کو ’’ استقسام ‘‘ کانام اس لئے دیاگیاکیونکہ وہ اس کے ذریعے رزق اوراپنے ارادوں کو تقسیم کیاکرتے تھے۔ اور اس کی نظیر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا نجومی کے اس قول کو حرام قرار دیناہے کہ ’’ فلاں ستارے کی وجہ سے نہ نکل اور فلاں ستارے کی وجہ سے نکل۔ ‘‘  

                ایک جماعت نے کہا:  ’’ اس آیت سے مراد قمار (یعنی جوأ) ہے۔ ‘‘  اور سیدنا ابن جبیر رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ اَزْلَام سے مراد سفیدکنکریاں ہیں جو وہ مارتے تھے۔ ‘‘ اور سیدنا مجاہد رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کہا:  ’’ یہ ایران کے تیر ہیں اور رومی ان کے ساتھ جوأ کھیلتے تھے۔ ‘‘  امام شعبی علیہ رحمۃاللہ  الولی نے فرمایا:  ’’ اَزْلاَم ‘‘  اہلِ عرب کے لئے ہیں اور ’’  کعاب ‘‘   ( چوسر کی گوٹ یا شطرنج کا مہرہ) عجمیوں کے لئے ہیں ۔ ‘‘

تنبیہ:

                ان تینوں کو کبیرہ گناہ شمار کرنا مذکورہ آیات سے ظاہر ہے، اس لئے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے اسے فسق کا نام دیاچنانچہ  اللہ  عَزَّ وَجَلَّکایہ فرمان :  ’’ ذٰٰلِکُمْ فِسْق ‘‘  مذکورہ تمام گناہوں کی طرف لوٹتاہے جیسا کہ ہمارے کئی ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے تصریح کی ہے اور بعض مفسرین کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰی فرماتے ہیں کہ یہ صرف اس کی طرف لوٹتا ہے جس سے ملا ہوا ہے ( یعنی یہ حکمِ فسق صرف اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَام کا ہے)  لیکن یہ اپنے محل میں نہیں کیونکہ اصول میں مقرر قاعدہ تمام کی طرف لوٹنے کاتقاضا کرتا ہے۔ پس کسی ایک کے ساتھ خاص کرنے کی کوئی وجہ نہیں ، لیکن مفسرین کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰی نے خون کی صراحت نہیں فرمائی جبکہ میں نے اس کی دلیل کو جان لیا ہے اورہونا یہ چاہئے کہ وہ نجاست جو شریعت نے معاف نہیں کی، قیاس کرتے ہوئے اسے بھی اس حکم سے ملا دیا جائے ۔

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر174:                         

کسی جاندارکو آگ سے جلانا

{1}…مَحبوبِ ربُّ العٰلمین، جنابِ صادق وامین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ پہلے میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو آگ سے جلا دو لیکن اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی کسی کو آگ کا  عذاب دے یہ جائز نہیں ، پس اگر تم ان دونوں کو پاؤ تو انہیں قتل کر دو۔ ‘‘   (جامع الترمذی ،ابواب السیر ، باب النہی عن الاحراق بالنار ، الحدیث:  ۱۵۷۱ ، ص ۱۸۱۴)

{2}…حضرت سیدنا عبداللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چیونٹیوں کا ایک گھر دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا:  ’’ اسے کس نے جلایا ہے؟ ‘‘  ہم نے عرض کی:  ’’ ہم نے۔ ‘‘  توحضور رحمۃ للعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ آگ کے مالک  (یعنی اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ )  کے سوا کوئی آگ کا  عذاب نہ دے۔ ‘‘   (سنن ابی داؤد ،کتاب الآداب ، باب فی قتل الذر ، الحدیث:  ۵۲۶۸، ص ۱۶۰۷)