Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                ترجمہ: اسے کھانے والے او راسے حلال گمان کرنے والے بدبخت پر دو مصیبتیں ہیں ۔

 شیطان کوخوش کرنے والے لوگ :

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! جتنا شیطان بھنگ پینے سے خوش ہوا اتنا کسی چیز سے نہیں ہوا کیونکہ اس نے اسے کمینے لوگوں کے لئے مزین کیا پس انہوں نے اسے حلال کرنا چاہا اور اس کی رخصت چاہی اور اس کے بارے میں لوگوں نے کہا:

قُلْ لِمَنْ یَّاْکُلُ الْحَشِیْشَۃَ جَھْلًا                                             یَاخَسِیْسًا قَدْ عِشْتَ شَرَّ مَعِیْشَہ

                ترجمہ: جو جہالت کی وجہ سے بھنگ کھاتا ہے تُواس سے کہہ !  اے کمینے تُو نے بری زندگی گزاری۔

دِیَۃُ الْعَقْلِ بِدُرَّۃٍ  فَلِمَا ذَا                                یَا سَفِیْھًا قَدْ بِعْتَہٗ بِحَشِیْشِہ

                ترجمہ: عقل کی قیمت تو موتی ہے پس اے بے وقوف!  تُو نے اسے بھنگ کے بدلے کیوں بیچ دیا؟

                یہ امام ذہبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ  الْوَلِیْ  کا کلام ہے۔

کبیرہ نمبر171:       

حالت اضطرارکے علاوہ رگوں کابھتاخون پینا

کبیرہ نمبر172:         

اور خنزیریامردارکا گوشت کھانا

کبیرہ نمبر173:           

اورجومردارکے حکم میں ہواس کاگوشت کھانا

{۱}اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے:

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ- وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِؕ-ذٰلِكُمْ فِسْقٌؕ-  (پ۶، المائدۃ:  ۳ )

ترجمۂ کنز الایمان : تم پرحرام ہے مرداراورخون اورسورکا گوشت اوروہ جس کے ذبح میں غیرخدا کا نا م پکاراگیا اوروہ جوگلا گھونٹنے سے مرے اوربے دھارکی چیز سے مارا ہوااورجوگرکرمرا اورجسے کسی جانورنے سینگ مارا اورجسے کوئی درندہ کھاگیا مگرجنہیں تم ذبح کرلواورجوکسی تھان پرذبح کیا گیا اور پانسے ڈال کر بانٹا کرنا یہ گناہ کا کام ہے۔

{۲}

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ  (پ۸، الانعام: ۱۴۵)

ترجمۂ کنز الایمان  : تم فرماؤ میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی ہوئی کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام مگر یہ کہ مردار ہو یا رگوں کا بہتا خون یا بد جانور کا گوشت وہ نجاست ہے۔

                مفسرین کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے پہلی آیت میں 11قسم کی چیزوں کو مباح ہونے سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

 (۱) …اَلْمَیْتَةُ:  (مردار)

                اس کی حرمت عقل کے مطابق ہے، چونکہ خون بہت لطیف جوہر ہوتا ہے لہذا جب حیوان اپنی طبعی موت مرے تو اس کا خون رگوں میں رک کر خراب اور بدبو دار ہو جاتا ہے اور اس جانور کو کھانے سے کوئی نامناسب صورت پیدا ہو سکتی ہیں ، مچھلی اور ٹڈی اس سے خارج ہیں کیونکہ ان کے بارے میں دو صحیح احادیثِ مبارکہ ہیں ۔

{1}…اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ جنین کو ذبح کرنا اس کی ماں کو ذبح کرنے کی مثل ہے۔ ‘‘   ( سنن ابی داؤد ،کتاب الضحایا ، باب ماجاء فی زکاۃ الجنین ، الحدیث:  ۲۸۲۸ ، ص ۱۴۳۴)

                جب شرعی طریقہ پر ذبح کئے ہوئے جانور کے پیٹ سے مردہ جنین نکلایااس حال میں تھاکہ اس کے زندہ ہونے کایقین نہ تھاتو وہ اس ذبیحہ کے تابع ہونے کی وجہ سے حلال ہے اگرچہ بڑا ہو اور اس کے بال بھی ہوں اوراس سے مراد وہ جانور ہے جس کی زندگی ختم ہو جائے،یہ مراد نہیں کہ غیر شرعی طور پر اسے ذبح کیاگیاہو، ([1])  پس آنے والی انواع اس میں داخل ہوں گی البتہ جنین اورشکاراگردب کریابوجھ کے سبب مرجائے جیسے کُتے کاشکارکوماردینااورہروہ جنین جس کوشرعی طریقہ پرذبح کرلیاگیااگرچہ اس میں خون بہانانہ پایاجائے یہ سب مذکورہ حکم سے خارج ہیں ۔

 (۲) …اَلدَّمُ:  (خون)

                اس کے حرام ہونے کا سبب بھی نجاست ہے، لوگ اس سے آنتوں یا پیٹ کو بھرتے اور بھون کر مہمانوں کو کھلاتے تھے پس اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ان پر یہ حرام کر دیا، علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس کی حرمت اور نجاست پر اتفاق کیا ہے، ہاں رگوں اور گوشت میں جو خون بچ جائے وہ معاف ہے، اسی وجہ سے دوسری آیت میں مسفوحاً ( بہنے والا ہونے)  کی قید لگا کر اسے خارج کر دیا، جو اس پہلی آیت میں مطلق ہونے کا فائدہ دے رہا ہے اور صحیح حدیثِ پاک کی وجہ سے جگر اورتلی کو (حکمِ حرمت سے)  خارج قرار دیاگیااوریہ دونوں بھی مسفوح کی قید لگانے سے خارج ہوئے، پس کوئی استثناء نہ ہوا اور بعض نے جمہور سے نقل کیا ہے :  ’’ خون حرام ہے اگرچہ بہنے والا نہ ہو۔ ‘‘  اورنہ بہنے والے خون کوحلال قراردینے پرسیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے قول کا رد کیا اوراُن بعض کایہ گمان درست نہیں ۔

 (۳) … خِنْزِیْر:

                اس کے حرام ہونے کاسبب بھی اس کا نجس ہونا ہے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ارشاد فرمایا:  ’’ غذاء چونکہ اپنے کھانے   والے کے بدن کا جزو بن جاتی ہے،اورلازمی بات ہے کہ غذاء کھانے والا اُس جنس کی صفات و اخلاق سے متصف ہو جاتاہے  جس جنس سے وہ غذاء حاصل ہو رہی ہے اور خنزیر چونکہ انتہائی مذموم صفات پر پیدا کیا گیا ہے جن میں سے چند یہ ہیں :  حرصِ فاحش ، ممنوع کاموں میـں شدید رـغبت اور



[1] ۔۔۔۔ احناف کے نزدیک:’’ جنین تب حلال ہے جبکہ وہ زندہ ہو،چنانچہ صدر الشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ  القوی بہار شریعت میں نقل فرماتے ہیں : ’’گائے یا بکری ذبح کی اور اس کے پیٹ میں سے بچہ نکلا اگر وہ زندہ ہے ذبح کر دیا جائے حلال ہو جائے گا اور مرا ہوا ہے تو حرام ہے اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کے حلال ہونے کے لئے کافی نہیں ۔‘‘ (بہارِشریعت،ج۲،حصہ۱۵،ص۷۷)



Total Pages: 320

Go To