Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

بھنگ کے نقصانات:

بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ارشاد فرمایاہے کہ اس کو کھانے میں ایک سوبیس ( 120) دینی و دنیوی نقصانات ہیں ، جن میں سے چند یہ ہیں :

  (۱) …گھٹیاسوچ کامالک بنانا (۲) …فطرتی رطوبات کو خشک کرنا (۳) …بدن میں امراض پیداکرنا  (۴) …بھولنے کی بیماری لگنا  (۵) …سر کا چکرانا  (۶) …نسل ختم کرنا  (۷) …منی کا خشک ہونا  (۸) …اچانک موت لانا  (۹) …عقل کو فاسد اور زائل کرنا  (۱۰) …تپ دق  (۱۱) …استسقاء اور  (۱۲) …سل کی بیماری پید اکرنا  (۱۳) …فکر فاسد کرنا  (۱۴) …ذکرِ خدا بھلانا  (۱۵) …راز فاش کروانا  (۱۶) …برائی شروع کرنا  (۱۷) …حیاء ختم کرنا  (۱۸) …بہت زیادہ دکھلاوا کرنا  (۱۹) …مُرُوَّت کا نہ ہونا  (۲۰) …محبت کا نہ ہونا  (۲۱) …ستر کا کھل جانا  (۲۲) …غیرت کانہ ہونا  (۲۳) …عقل مندی کا ضائع ہونا  (۲۴) …ابلیس کا ہم نشین ہونا  (۲۵) …نمازوں کا چھوڑنا  (۲۶) …حرام کاموں کا ارتکاب کرنا  (۲۷) …برص اور  (۲۸) …کوڑھ پن کا شکار ہو جانا  (۲۹) …لگاتار بیمار رہنا  (۳۰) …دائمی زکام لگنا  (۳۱) …جگر کا چھلنی ہو جانا  (۳۲) …خون اور منہ کی بو کا جلنا  (۳۳) …منہ کابدبو دار ہونا  (۳۴) …دانتوں کا خراب ہوجانا  (۳۵) …پلکوں کے بال گر جانا  (۳۶) …دانتوں کا پیلا ہو جانا  (۳۷) …نظر کا کمزورہو جانا  (۳۸) …سست ہونا  (۳۹) …نیند کا زیادہ آنا  (۴۰) …اور سستی آنا  (۴۱) …یہ شیر کوبچھڑا بنا دیتی ہے  (۴۲) …عزت والا ذلیل ہو جاتاہے  (۴۳) …صحیح بیمار ہو جاتا ہے  (۴۴) …بہادر بزدل ہو جاتا ہے  (۴۵) …کریم حقیر و کمزور ہو جاتاہے  (۴۶) …اگر اسے کھلایا جائے تو سیر نہیں ہوتا  (۴۷) …عطا کیا جائے تو شکر گزار نہیں ہوتا  (۴۸) …اگر بات کی جائے توسنتا نہیں  (۴۹) …یہ ماہرِ زبان کو گونگا اور  (۵۰) …ذہین کو کند ذہن بنا دیتی ہے  (۵۱) …ذہانت کو ختم کر دیتی ہے  (۵۲) …پیٹ کا مرض پیدا کرتی ہے  (۵۳) …نامردی اور  (۵۴) …لعنت کا وارث بناتی ہے  (۵۵) …جنت سے دوری پیدا کرتی ہے  (۵۶) …مرتے وقت کلمہ شہادت بھلا دیتی ہے۔ بلکہ کہا گیا ہے کہ یہ اس کی ادنیٰ قباحتوں میں سے ہے۔

افیون کے نقصانات:

                یہ تمام قباحتیں افیون وغیرہ میں بھی پائی جاتی ہیں بلکہ افیون وغیرہ میں اس سے زیادہ ہیں کہ اس میں صورت بگڑجاتی ہے جیسا کہ ا س کو کھانے والے کی حالت سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور اسے کھانے والے کی حالت سے جس عجیب چیز کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے:   (۱) …اس میں بدن اور  (۲) …عقل کابگڑجانااور  (۳) …ان کا گھٹیا ترین، بوسیدہ اور گندی صورت کی طرف پھر جانا ہے  (۴) …وہ کبھی بھی سیدھے راستے کی طرف مائل نہیں ہوتے  (۵) …مُرُوَّت کو خراب کرنے والی چیزوں کی طرف ہی جاتے ہیں حالانکہ یہ مذموم اور بری گمراہی ہے۔پھر ان بڑے بڑے نقصانات کے باوجود جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ ان کے چہروں پر موجود غبار او ر چھائے ہوئے دھوئیں سے تجاہل عارفانہ برتتے ہوئے کوئی جاہل ہی یہ پسند کر سکتا ہے کہ ان کے نقصان دہ اور بھٹکے ہوئے گروہ میں شامل ہو، حالانکہ اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ وہ فاسق و فاجر یاکافروں میں سے نہ ہو جائے۔

                وہ شخص جس پر افیون کی برائیاں واضح ہو گئیں اور جن کثیر عیوب پر یہ مشتمل ہے وہ بھی اس پر ظاہر ہو گئے پھر بھی وہ ان کی طرف مائل ہوجائے اور ان کی پیروی کرنے لگے تو وہ دھوکا میں مبتلا ہو گیا، حوادثاتِ زمانہ اس کی تاک میں ہیں شیطان اس سے اپنی مراد پانے میں کامیاب ہو گیا ہے کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ایسے شخص پر لعنت فرمائی ہے، لہذا جب اس نے بندے کو اس لعنت کے گڑھے میں پھینکا تو شیطان اس سے اس طرح کھیلنے لگا جس طرح بچہ گیند سے کھیلتا ہے کیونکہ اس وقت اس سے مقصود صرف یہی ہوتا ہے کہ اسے برے فعل کی طرف متوجہ کرے، اس لئے کہ عقل جو کہ کمال کا آلہ ہے وہ اپنا مقام کھو چکی ہے اور اب وہ بندہ حیوانات کی طرح ہو چکا ہے بلکہ گم گشتہ راہ (یعنی سیدھے راستے سے بھٹکاہوا) اور اہلِ دوزخ میں سے ہو گیا ہے۔پس کتنابراہے جو اس نے اپنے نفس کے لئے پسندکیااور افسوس ہے اس پر جس نے دنیا و آخرت کی نعمتوں کوبیچا۔اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اپنی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنی نافرمانی سے بچائے ۔

              اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

تنبیہ:

                مذکورہ گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا ظاہر ہے اور امام ابو زرعہ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہوغیرہ نے یہی تصریح کی ہے جس طرح کہ شراب بلکہ امام ذہبی  رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مبالغہ کیا اور اسے سزا اور نجاست میں بھی شراب کی طرح قرار دیا اور وہ اس سلسلے میں اس طرف مائل ہو ئے جومیں نے حنابلہ کے حوالے سے پہلے ذکر کیا اور فرمایا:  ’’ بھنگ اس اعتبار سے خبیث ترین ہے کہ یہ عقل اور مزاج کو خراب کر دیتی ہے یہاں تک کہ اس کا عادی ہیجڑا بن جاتا ہے اور بے غیرت اوربے غیرتی پراُکسانے والا ہو جاتا ہے اور شراب اس اعتبار سے خبیث ترین ہے کہ یہ لڑائی جھگڑا اورقتال کی طرف لے جاتی ہے یہ دونوں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر اور نماز سے روکتی ہیں ۔ ‘‘

                آپ  رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ارشاد فرمایا:  ’’ بعض متاخرین علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس میں حد لگانے پر توقف کیا ہے اور رائے دی ہے کہ اس میں تعزیر  (یعنی سزا) ہے کیونکہ یہ بغیرمستی کے عقل کو تبدیل کرتی ہے جیسے بھنگ، اور متقدمین علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰی کا اس میں کوئی کلام نہیں پایا جاتا حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ اس کے کھانے والے کو نشہ اور شہوت آ جاتی ہے جس طرح کہ شراب پینے والا۔ اور اکثر اوقات وہ اس سے نہیں رکتے اور یہ انہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر اور نماز سے روکتی ہے۔ ‘‘

                اس کے ٹھوس کھائی جانے والی ہونے کی وجہ سے سیدنا امام احمد رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  وغیرہ کے مذہب میں علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے اس کے نجس ہونے کے بارے میں تین اقوال ہیں :  (۱) یہ پی جانے والی شراب کی طرح نجس ہے اور یہی صحیح تعبیر ہے  (۲) یہ ٹھوس ہونے کی وجہ سے نجس نہیں اور  (۳) ٹھوس اور مائع بھنگ میں فرق کیا جائے گا۔یہ لفظا ً اور معناًہر حال میں اس نشہ دینے والی  شراب میں داخل ہے جس کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اوراس کے رسول  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حرام قرار دیا ہے۔

{2}…حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ہمیں دو شرابوں کے بارے میں حکم فرمائیں ، جو ہم یمنی شراب بناتے ہیں وہ شہد سے بنتی ہے،اسے جوش دیاجاتا ہے یہاں تک کہ شدید جوش میں آجاتی ہے اور دوسری (کانام)  شرابِ مرزہے جو مکئی اور جَوکوکھولنے تک جوش دینے سے بنتی ہے۔ ‘‘ راوی فرماتے ہیں کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکوجوامع الکلم مکمل طورپرعطا فرمائے گئے تھے (یعنی مختصرالفاظ میں جامع کلام کرنے کی مکمل قدرت تھی) پسسرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:   ’’ ہر نشہ آورچیزحرام ہے۔ ‘‘  ( صحیح مسلم ،کتاب الاشربۃ ، باب بیان ان کل مسکر خمر الخ ، الحدیث: ۵۲۱۴، ص۱۰۳۶)

{3}…ایک روایت میں رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا نے ارشاد فرمایا:  ’’ جس کی کثیر مقدار نشہ دے اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔ ‘‘    (سنن ابی داؤد،کتاب الاشربۃ،باب ماجاء فی السکر،الحدیث: ۳۶۸۱،ص۱۴۹۶)

                آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کھانے پینے والی چیزوں کے درمیان اس لئے فرق نہیں فرمایا،کیونکہ شراب کبھی روٹی کے ساتھ بھی کھائی جاتی تھی، بھنگ بھی کبھی پگھلائی جاتی اور کبھی پی جاتی ہے۔

                سلف صالحین نے اس کا ذکر نہیں کیا کیونکہ یہ ان کے زمانے میں نہیں تھی اور اس کے بارے میں کہا گیا ہے:

فَاٰکِلُھَا وَزَاعِمُھَا حَلَالًا                                         فَتِلْکَ عَلَی الشَّقِیِّ مُصِیْبَتَانِ

 



Total Pages: 320

Go To