Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

مَلِکُ الْاَمْلَاک نام رکھنا [1]

{1}…حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ   سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سب سے مبغوض اور خبیث ترین وہ شخص ہوگا جو ’’  مَلِکُ الْاَمْلَاک ‘‘  (یعنی بادشاہوں کا بادشاہ)  کہلاتا ہو گا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کو ئی مالک نہیں ۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب الآداب ، باب تحریم تسمی بملک الاملاک الخ ، الحدیث:  ۵۶۱۱ ، ص ۱۰۶۰)

{2}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک اَخْنَع  (یعنی سب سے ذلیل)  نام اس شخص کا ہے جسے بادشاہوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ ‘‘  ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ’’  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی مالک نہیں ۔ ‘‘       (صحیح مسلم،کتاب الآداب،باب تحریم تسمی بملکالخ،الحدیث: ۵۶۱۰،ص۱۰۶۰)

{3}…حضرت سیدنا سفیان ثوری رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  ’’ مثلاًکسی کا ’’ شاہین شاہ  ‘‘  کہلوانا۔ ‘‘  

                سیدناامام احمد بن حنبل رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ میں نے حضرت سیدنا ابو عمرو رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسے اَخْنَع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ارشاد فرمایا:  ’’ اس کا معنی ہے سب سے زیادہ ذلیل۔ ‘‘

                 حضرت سیدنا سفیان بن عُیَینہ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ اس سے مراد برا یا ناپسندیدہ ہے۔ ‘‘

 (المسند للامام احمد بن حنبل،مسند ابی ہریرۃ،الحدیث: ۷۳۳۳،ج۳ص۴۰)

تنبیہ:

                ان دو احادیثِ مبارکہ کی صراحت کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے، اگرچہ میں نے کسی کو اسے صراحتاً بیان کرتے ہوئے نہیں پایا، پھر بعد میں مَیں نے بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکو اس کی صراحت کرتے ہوئے پایا۔ ہمارے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیفرماتے ہیں :  ’’ بادشاہوں کا بادشاہ یا شہنشاہ کہلانا حرام ہے اورشاہین شاہ بھی اسی معنی میں ہے کیونکہ یہ دونوں ہم معنی ہیں اور حرمت کی وجہ یہ ہے کہ ان ناموں سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کسی کو متصف نہیں کیا جا سکتا۔ ‘‘  ہمارے بعض ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے حاکم الحکام اور قاضی القضاہ کو بھی اس کے ساتھ ملحق کیا ہے، اس موضوع میں اور بھی بہت ساکلام ہے جسے میں نے  ’’ مناسک النووی الکبری ‘‘ کے حاشیہ پر طواف اور سعی کے بیان میں ذکر کر دیا ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

کتاب الاطعمۃ

کھانے پینے کا بیان

کبیرہ نمبر170:                                  

نشہ آورپاک اشیاء کھانا

یعنی نشہ آور پاک اشیاء جیسے حشیش، افیون، بھنگ   ([2] )   ،عنبر، زعفران اورجوز الطیب ( جائفل)  وغیرہ کھانا۔   ([3])

                یہ تمام اشیاء نشہ آور ہیں جیسا کہ امام نووی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ان میں سے بعض کے نشہ آور ہونے کی تصریح فرمائی ہے جبکہ د یگر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے بقیہ کے نشہ آور ہونے کی تصریح فرمائی ہے اوریہاں نشہ دینے سے ان کی مراد عقل پر غالب آ جانا ہے، صرف بے خودی کی شدت مراد نہیں کیونکہ بے خودی نشہ آورمائع شئے کی خصوصیات میں سے ہے، عنقریب اس کی تفصیل  ’’ اَشْرِبَہ ‘‘  کے بیان میں آئے گی، ہم نے یہاں ان اشیاء کے نشہ آورہونے کا جو معنی بیان کیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ انہیں سُن کرنے والی اشیاء کہنا بھی درست ہے۔

                جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ نشہ آور یا سُن کرنے والی اشیاء ہیں تو ان کا استعمال شراب کی طرح کبیرہ گناہ اور فسق ہے اور جو وعیدیں شرابی کے بارے میں آئی ہیں وہ ان اشیاء میں سے کسی ایک کو بھی استعمال کرنے پر جاری ہوں گی کیونکہ یہ دونوں عقل کو زائل کرنے میں مشترک ہیں ،اورعقل کوباقی رکھناشریعت کامقصودہے اس لئے کہ عقل اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول

 صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے احکام کو سمجھنے کا آلہ ہے، اسی کے ذریعے انسان حیوان سے ممتاز ہوتا ہے، عقل ہی انسان کو نقائص سے بچا کر کمالات کے حصول پر آمادہ کرتی ہے، لہذا عقل کو زائل کرنے والی اشیاء استعمال کرنے والے پر بھی شراب کی وہی وعید جاری ہو گی جس کا بیان آگے آئے گا۔

                میں نے ایک کتاب تالیف کی ہے، جس کا نام ’’ تَحْذِیْرُالثِّقَاتِ عَنْ اِسْتِعْمَالِ الْکَفْتَۃِ وَالْقَاتِ ‘‘ رکھا ہے ۔جب اہلِ یمن کا ان دونوں اشیاء میں اختلاف ہوا تو انہوں نے میری طرف تین کتابیں بھیجیں ، جن میں سے دو اِن کی حلت پر اور ایک حرمت پر تھی اور ان دونوں قسموں کے بارے میں حق کو آشکار کرنے کا مطالبہ کیا،پس میں نے ان دو قسم کی اشیاء سے ڈرانے کے لئے یہ کتاب تالیف کی، اگرچہ میں نے ان دونوں کی قطعی حرمت بیان نہیں کی، بہرحال میں نے اس کتاب میں دیگر نشہ آور اشیاء کا بھی ذکر کر دیا ہے اور بعض مقامات پر کچھ تفصیلی کلام بھی کیا ہے، یہاں پر اس کا خلاصہ بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں چنانچہ میں کہتا ہوں کہ ان تمام اشیاء کی حرمت میں اصل یہ حدیثِ پاک ہے کہ،

{1}…اُم المؤمنین حضرت سیدتنا ام سلمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  ارشاد فرماتی ہیں :  ’’ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہر مُسْکِر  (یعنی نشہ آور)  اور مُفْتِر (یعنی سکون آور)  چیز کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ ‘‘

 ( سنن ابی داؤد ،کتاب الاشربۃ ، باب ماجاء فی سکر ، الحدیث:  ۳۶۸۶ ، ص ۱۴۹۶ )

                علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیفرماتے ہیں کہ مُفْتِرہر اس چیز کو کہتے ہیں جو عقل میں فتور پیدا کرے اور اعضاء کو سن کر دے۔ ‘‘  اور اوپر مذکور تمام اشیاء نشہ آور، سن کرنے والی اور (عقل میں )  فتور ڈالنے والی ہیں ۔

                علامہ قرافی اور ابن تیمیہ  ([4] ) نے بھنگ کی حرمت پر اجماع نقل کیا اور کہا ہے کہ ’’ جس نے اسے حلال سمجھا اس نے کفر کیا۔ ‘‘  

 



[1] ۔۔۔۔ یہ نام رکھنے کے متعلق تفصیل وموجودۂ عرف کے اعتبارسے شرعی حکم جاننے کے لئے فتاوی رضویہ(جدید) ،ج ۲۱،ص ۳۳۹تا۳۷۹پرمجدداعظم سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃاللہ  الرحمن کامبارک رسالہ ’’فقہ شہنشاہ وان القلوب بیدالمحبوب بعطاء اللہ  ‘‘کامطالعہ کیجئے۔

[2] ۔۔۔۔ فقہائے احناف کے نزدیک:’’بھنگ اورافیون اتنی استعمال کرناکہ عقل فاسدہوجائے ناجائزہے جیساکہ افیونی اوربھنگیڑے (بھنگ پینے والے)استعمال کرتے ہیں اوراگرکمی کے ساتھ اتنی استعمال کی گئی کہ عقل میں فتورنہیں آیاجیساکہ بعض نسخوں میں افیون قلیل جزہوتاہے کہ فی خوراک اس کااتناخفیف جزہوتاہے کہ استعمال کرنے والے کوپتابھی نہیں چلتاکہ افیون کھائی ہے اس میں حرج نہیں ۔ (بہارِشریعت،ج۲،حصہ ۱۷،ص۸)

[3] ۔۔۔۔