Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کیا یاروٹھے ہوئے کو راضی کرنے یااللہ  عَزَّ وَجَلَّکی قربت کی نیت سے ذبح کیا تاکہ وہ اس سے جن کا شردورکرے تو جائز و حلال ہے۔

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر168:      

جانور کو بطورِنذرچھوڑدینااورنفع نہ اٹھانا

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے :

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآىٕبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍۙ-  (پ۷، المائدۃ: ۱۰۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ  نے مقرر نہیں کیاہے کان چرا ہوا اور نہ بجار اور نہ وصیلہ اور نہ حامی۔

{1}…حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے نذر کے طور پر جانوروں کو آزاد چھوڑا وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘  (لم نجدہ بھذااللفظ وانماوجدناہ بلفظ ’’ أول من سیب ‘‘ من حدیث سعیدبن مسیب)                              (فتح الباری،کتاب التفسیر،باب ماجعل اللہ  الخ،الحدیث: ۴۶۲۳،ج۷،ص۲۴۱)

تنبیہ:

                اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا بالکل واضح ہے اگرچہ میں نے کسی کو اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کرتے نہیں دیکھا کیونکہ اس میں جاہلیت سے مشابہت پائی جاتی ہے اور اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِالْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمانِ عالیشان کہ ’’ جس نے نذر کے طور پر جانورکو آزاد چھوڑا وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘ اس پر شدید وعید کا تقاضا کرتا ہے۔

                ہمارے اصحاب شوافع رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیفرماتے ہیں :  ’’ جو کسی شکار کا مالک بنا پھراسے نذر کے طور پر آزاد چھوڑ دیا تو وہ گنہگار ہے اور وہ جانور اس کی ملکیت سے نہ نکلے گا اگرچہ وہ اسے چھوڑتے وقت یہ کہہ دے کہ ’’ میں نے اسے مباح کر دیا جو چاہے پکڑ لے۔ ‘‘  اور اگر اس نے یہ کہاکہ ’’ میں نے اسے مباح کیا جو چاہے پکڑ کر کھا لے۔ ‘‘  توجو اسے اٹھا لے گا وہ اس کا مالک بن جائے گا ایسانہیں کہ اسے خریدکرتصرف کرناپڑے اور مالک جو روٹی کے ٹکڑے اور کٹی ہوئی گندم کے خوشے پھینکتا ہے اس کاحکم یہ نہیں تو جو اُٹھا لے گا وہ مالک بن جائے گا۔ ‘‘  

چند مسائل

٭…اگرکسی کا کبوتر دوسرے کے کبوتروں میں مل جائے تو اس پر وہ کبوتر واپس کرنا لازم ہے اس کا طریقہ یہ ہو گا کہ وہ مالک کو اپناکبوترپکڑنے کی اجازت دے دے ۔

٭…ان کے جو بچے پیدا ہوں گے وہ مادہ کے مالک کی ملک ہوں گے اور اگر ان میں تمیز نہ ہو سکے تو وہ اپنی غالب رائے کے  مطابق اس سے لینے کا اختیار رکھتا ہے اورشُبہ کاخوف نہ کرے۔

٭…حرام درہم یا تیل کسی کے درہم یا تیل سے مل گیا تو اس کے لئے وہ درہم اور تیل جائز ہے جیسا کہ سیدنا امام غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ  الْوَالِیْ نے فرمایا ہے کہ ’’ حرام کی مقدار کوعلیحدہ کرے اوریہ علیحدہ کرنااس کے حق کے اعتبارسے ہوگا۔ ‘‘

اعتراض: مگر یہ بات محلِ نظر ہے کیونکہ شریک تقسیم میں مستقل نہیں ہوتا، لہذا اسے چاہئے کہ اسے قاضی کے پاس لے جائے تا کہ وہ دشواری کی صورت میں مالک کی جانب سے اسے تقسیم کر دے۔

جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حکم ضرورت کی وجہ سے ہے کیونکہ یہاں مالک کی طرف سے کوتاہی نہیں جبکہ شرکت اختیار کے ذریعے ثابت ہوتی ہے اور جو چیز اختیار کے بغیر ثابت ہو مثلاً وراثت وغیرہ وہ اختیار کے ذریعے ثابت ہونے والی اشیاء سے ملی ہو تی ہے، اس صورت میں اس کا معاملہ قاضی کے پاس لے جانے میں ظاہری مشقت ہے کیونکہ قاضی اسی وقت تقسیم کر سکتا ہے جب ان کے دلائل سن کر حقیقت حال پر گواہی قائم ہو جائے اور اگرکسی شئے پر قابض افراد قاضی کے پاس وہ شئے تقسیم کرانے لے جائیں تو وہ ایسے گواہ کے بغیر ان کی بات نہیں مانے گا جو اس کی ملکیت کی گواہی دے صرف قبضہ پر اکتفاء نہ کرے گا کیونکہ اس کا تقسیم کرنا ان کے حق میں فیصلہ کرنے کوشامل ہو گا اور یہ فقط قبضہ سے نہیں بلکہ ملکیت کے ثبوت کے وقت ہی جائز ہے لہذا طاقت سے زائد یہ مشقت ضرورتاًاس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس کے لئے حرام کی مقدار کوعلیحدہ کرکے باقی میں تصرف کرناجائزہے۔

                اوریہ امام رافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی اس بحث کے منافی بھی نہیں کہ ’’ اسے کبوتروں کے اختلاط کے حکم سے ملایا جائے گا۔ ‘‘  کیونکہ ان کی اس سے مراد یہ ہے کہ ’’ وہ تصرف میں اس کی مثل ہے۔ ‘‘  

                اگر فریقین کا مقدار میں اختلاف ہو جائے تو تصدیق اسی کی کی جائے گی جو صاحبِ قبضہ ہو کیونکہ قبضہ اسی کا ہے۔

                اگر مملوک کبوتر (یعنی جوکسی کی ملکیت ہو)  صحراء میں مباح کبوتروں  (یعنی جوکسی کی ملکیت نہ ہوں )  میں مل جائیں پھر اگروہ مباح کبوتر کسی جال میں قید ہوں ، اس طرح کہ انہیں صرف دیکھ کر ہی شمار کیا جا سکتا ہو تو ان کا شکار کرنا حرام ہے اور اگرقیدمیں نہ ہوں تو حرام نہیں ۔

                سیدنا ابن منذررَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ اگر ایک جماعت نے اپنے کتے شکار پر چھوڑے اورانہوں نے شکارکومردہ حالت میں پایااور ہر شخص کہے کہ ’’ میرے کتے نے اس کو قتل کیا۔ ‘‘  تو وہ شکار حلال ہے پھراگرکئی کتوں نے شکار کو پکڑ رکھا ہو تو وہ ان کے مالکوں کے درمیان مشترک ہو گا یا ان میں سے ایک ہی کتے نے شکار کو پکڑ رکھا ہو تو وہ شکار اس کتے کے مالک کا ہو گا اوراگر  کتوں نے شکارکوپکڑا ہوا نہ ہو تو امام ابو ثوررَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے نزدیک:  ’’ قرعہ ڈالا جائے گا۔ ‘‘  اوردیگرائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک:  ’’ سب کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کیا جائے اور اگر اس کے فساد کا خوف ہو تو اسے فروخت کر کے اس کی قیمت ان سب کی فلاح پر استعمال کی جائے۔ ‘‘

 

 

 

٭…٭…٭…٭…٭…٭

کتاب العقیقۃ

عقیقہ کا بیان

کبیرہ نمبر169:                                         

 



Total Pages: 320

Go To