Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

                جان لیجئے!  خشکی کاحلال جانورجس پرقدرت حاصل ہواگرچہ جنگلی ہی کیوں نہ ہوکسی مسلمان یاذمی کے ذبح کرنے سے ہی حلال ہوسکتاہے توجس زندہ حالت میں ہڈی کے علاوہ کسی بھی تیزدھار آلے کے ساتھ شرعی طریقہ سے ذبح کیاگیا، اگرچہ دانت اور ناخن ہی سے ہو تووہ حلال ہے۔ لیکن اگر اس نے جانورکوگُدّی سے ذبح کیایاگردن کی سطح سے یا اس کے کان میں چھری داخل کی تو ذبح ہو جائے گا۔  ([1]) بشرطیکہ گدی سے کاٹنے کی وجہ سے ذبیحہ کی حرکت سے مری (یعنی کھانے والی رگ)  اوربعض رگیں بھی کٹ جائیں لیکن وہ گنہگار اور نافرمان ہو گااوراگر اسے (ذبح کے شرعی طریقہ کا) علم ہو اور اس کے باوجود جان بوجھ کر محض جانور کو

شدیدایذاء دینے کے لئے ایسا کرے  توفاسق ہوجائے گا۔زندگی کے پائے جانے کے لئے غالب گمان ہی کافی ہے جیسا کہ ذبح

کے بعد جانور شدید حرکت کرے اور اس کا خون بہنے لگے اوروہ اچھلنے لگے،اگر کھانے اور سانس والی رگوں میں سے کوئی رگ کٹنے سے رہ گئی     ([2] )  اوراب اس جانورکے سرکوچھری یاکسی دوسری چیزمثلاًبندوق کی گولی وغیرہ کے ذریعے جداکردیااگرچہ بعدمیں دونوں رگیں کاٹ دی جائیں ، یاجس جانورمیں ذبح کی شرائط کوپورانہ کیاگیایہاں تک کہ جانورکی زندگی ختم ہوگئی یازندہ ہونے میں شک واقع ہوگیا،یا ذبح کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی انتڑیاں بھی نکال دی گئیں اوروہ کسی تیز دھاربھاری شئے کے لگنے سے مر گیا جیسے تیر کا چوڑائی میں لگنا اگرچہ وہ خون بھی بہادے،یاکسی حرام طریقے سے مرگیا جیسے تیرسے زخم لگااوروہ گزرتے ہوئے چوڑائی میں اس سے ٹکرایا،یاکسی حلال طریقے سے مرگیاجیسے تیرسے شدیدزخم لگااوروہ کسی تیزدھارچیزپریاپانی میں گرکرمرگیا،توان سب صورتوں میں حرام ہوگا۔

                اور اگر کسی درندے نے شکار کو زخم لگایا یاکسی بکری پر دیوار گر گئی یااس نے نقصان دہ گھاس کھا لی پس اس کو ذبح کیاگیا تو وہ حلال نہیں ، ہاں ! اگرابتدائے ذبح میں اس میں زندگی ہو توحلال ہے،البتہ!  اگر وہ جانور بیمار یا بھوکا تھا تو اسے ذبح کرنا جائز ہے اگرچہ اس میں زندگی کی چند سانسیں ہی باقی ہوں کیونکہ یہاں ایسا کوئی سبب نہیں جس پر ہلاکت کاحکم لگایاجائے۔  ([3] )

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر167:                         

غیراللّٰہ کے نام پرجانورذ بح کرنا

یعنی غیر اللہ  کے نام پراس طرح جانور ذبح کرناکہ کفرلازم نہ آئے یوں کہ جس کے لئے جانور ذبح کیا جا رہا ہے

اس کی تعظیم مقصود نہ ہو جیسے عبادت اور سجدے سے تعظیم کی جاتی ہے۔

                جیساکہ علامہ جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاوردیگرعلماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے اوراس پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان سے استدلال کیا ہے:

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌؕ-وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓـٕهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْۚ-وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ (۱۲۱)   (پ۸،انعام: ۱۲۱)

ترجمۂ کنز الایمان : اور اسے نہ کھاؤ جس پر اللہ  کا نام نہ لیا گیا اور وہ بے شک حکم عدولی ہے اور بے شک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑیں اوراگرتم ان کا کہنا مانو تو اس وقت تم مشرک ہو۔

                علامہ جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں مذکورہ آیت میں بیان کردہ حکم اس وقت ہے جب جانور کو غیر اللہ  کے نام پر ذبح کیاجائے کیونکہ یہ عمل ہی فسق (یعنی حکم عدولی)  ہے۔ چنانچہ،

                 اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے:  

اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖۚ-  (پ۸، الانعام: ۱۴۵)

ترجمۂ کنز الایمان : یا وہ بے حکمی کا جانور جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا۔

                اور اس آیتِ مبارکہ سے یہ بھی ظاہرہوا کہ جس جانور پر بِسْمِ اللّٰہ نہ پڑھی جائے وہ حلال ہے۔اور اس کی تائیداس قول سے بھی ہوتی ہے کہ:  

                حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  نے سورۂ مائدہ کی تیسری آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرمایا:  ’’ اس سے مراد مردار اور گلا گھونٹ کر مارا جانے والا جانور ہے۔ ‘‘  اوروہ آیتِ مبارکہ یہ ہے:  

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ- وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ  (پ۶، المائدہ: ۳)

 ترجمۂ کنز الایمان : تم پرحرام ہے مرداراورخون اورسورکا گوشت اوروہ جس کے ذبح میں غیرخدا کا نا م پکاراگیا اوروہ جوگلا گھونٹنے سے مرے اوربے دھارکی چیز سے مارا ہوااورجوگرکرمرا اورجسے

کسی جانورنے سینگ مارا اورجسے کوئی درندہ کھاگیا مگرجنہیں تم ذبح کرلواورجوکسی تھان پرذبح کیا گیا۔

تفسیری اقوال:

                سیدنا کلبی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ارشاد فرمایا:  ’’ اس سے مراد وہ جانور ہے جو ذبح نہ کیا گیا ہو یا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ ‘‘

 



[1] ۔۔۔۔ صدرالشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ  القوی بہارِشریعت میں فرماتے ہیں :’’ ذبح ہراس چیزسے کر سکتے ہیں جو رگیں کاٹ دے اور خون بہا دے یہ ضرورنہیں کہ چھری ہی سے ذبح کریں بلکہ کھپچی(یعنی بانس کے چرے ہوئے ٹکڑے)اوردھاردارپتھرسے بھی ذبح ہوسکتاہے صرف ناخن اوردانت سے ذبح نہیں کرسکتے جب کہ یہ اپنی جگہ پر قائم ہوں اور اگر ناخن کاٹ کر جداکرلیاہویادانت علیحدہ ہوگیاہوتواس سے اگرچہ ذبح ہو جائے گا مگر پھر بھی اس کی ممانعت ہے کہ جانور کو اس سے اذیت ہوگی۔اسی طرح کندچھری سے بھی ذبح کرنامکروہ ہے۔‘‘   (بہارِشریعت،ج۲،حصہ۱۵،ص۷۴۔۷۵)

[2] ۔۔۔۔ احناف کے نزدیک:’’ذِبح کی چاررگوں میں سے تین کا کٹ جانا کافی ہے یعنی اس صورت میں بھی جانور حلال ہو جائے گا۔کہ اکثر کے لئے وہی حکم ہے جو کل کے لئے ہے اور اگرچاروں میں سے ہرایک کا اکثرحصہ کٹ جائے گا جب بھی حلال ہو جائے گا اوراگرآدھی آدھی ہررگ کٹ گئی اورآدھی باقی ہے توحلال نہیں ۔‘‘ (بہارِشریعت،ج ۲،حصہ ۱۵،ص ۷۴)

[3] ۔۔۔۔ احناف کے نزدیک:’’جس جانور کو ذبح کیا جائے وہ وقتِ ذبح زندہ ہو اگرچہ اس کی حیات کا تھوڑا ہی حصہ باقی رہ گیا ہو۔ذبح کے بعد خون نکلنا یا جانور میں حرکت پیدا ہونا یوں ضروری ہے کہ اس سے اس کا زندہ ہونا معلوم ہے۔…بکری ذبح کی اور خون نکلا مگر اس میں حرکت پیدا نہ ہوئی اگر وہ ایسا خون ہے جیسے زندہ جانور میں ہوتا ہے حلال ہے۔…بیماربکری ذبح کی، صرف اس کے منہ کوحرکت ہوئی اوراگر وہ حرکت یہ ہے کہ منہ کھول دیاتوحرام ہے اوربندکرلیاتوحلال ہے،اورآنکھیں کھول دیں توحرام اوربندکرلیں توحلال،اورپاؤں پھیلادیئے توحرام اورسمیٹ لئے توحلال،اوربال کھڑے نہ ہوئے توحرام اورکھڑے ہوگئے توحلال یعنی اگرصحیح طورپراس کے زندہ ہونے کا علم نہ ہوتوان علامتوں سے کام لیاجائے،اوراگر زندہ ہونایقینامعلوم ہے توان چیزوں کا خیال نہیں کیا جائے گا ،بہرحال جانور حلال سمجھا جائے گا۔‘‘                             (بہارِشریعت،ج ۲،حصہ ۱۵،ص ۷۴)



Total Pages: 320

Go To