Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

لئے اس کا سرنہ کاٹے۔ ‘‘     (المرجع السابق، الحدیث:  ۴۳۵۴، ص۲۳۷۱،بدون ’’ یوم القیامۃ ‘‘ )

{9}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ہر شئے پر احسان فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم کسی کوقتل کرو تواحسن طریقہ سے قتل کرو اور جب جانور ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور تم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ اپنی چھری تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم ،کتاب الصید ، باب الامر باحسان الذبح والقتل الخ الحدیث:  ۵۰۵۵، ص ۱۰۲۷)

{10}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک آدمی کے قریب سے گزرے، وہ بکری کی گردن پر پاؤں رکھ کر چھری تیز کر رہا تھااور بکری اس کی طرف دیکھ رہی تھی، آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے ارشاد فرمایا:  ’’ کیا تم پہلے ایسا نہیں کر سکتے تھے؟ کیا تم اسے کئی موتیں مارنا چاہتے ہو؟ اسے لٹانے سے پہلے اپنی چھری کیوں نہ تیز کر لی؟ ‘‘

 ( المستدرک،کتاب الاضاحی،باب لتحد الشفرۃ قبل اصبحاع الاضحیۃ،الحدیث: ۷۶۳۷،ج۵ ، ص۳۲۷،بدون ’’  فلا قبل ھذا ‘‘  )

{11}…حضرت سیدنا عبداللہ  بن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  نے ایک شخص کو دیکھا جو بکری کو ذبح کرنے کے لئے اس کی ٹانگ کو گھسیٹ رہا تھا، آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:  ’’ تیرے لئے خرابی ہے، اسے موت کی طرف اچھے انداز میں لے کر جا۔ ‘‘

 ( المصنف لعبد الرزاق ،کتاب المناسک ، باب سنۃ الذبح ، الحدیث:  ۸۶۳۶، ج۴ ،ص ۳۷۶)

جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جا تا :

{12}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ بھی اس پر رحم نہیں فرماتا۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب الفضائل ، باب رحمتہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم الصبیان والعیال، الحدیث:  ۶۰۳۰ ، ص ۱۰۸۷ )

{13}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ تم اس وقت تک ہر گز مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں رحم نہ کرنے لگو۔ ‘‘  صحابہ کرام  عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ہم میں سے ہر ایک رحم دل ہے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اپنے دوست پر رحم کرنا مراد نہیں بلکہ عام رحمدلی مراد ہے۔ ‘‘     (مجمع الزوائد،کتاب البر والصلۃ ، باب رحمۃ الناس ، الحدیث:  ۱۳۶۷۱ ،ج۸،ص ۳۴۰)

{14}…سرکار ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ ذیشان ہے:  ’’ رحم کیا کرو تم پر بھی رحم کیا جائے گا اور معاف کر دیا کرو تمہیں بھی معاف کر دیا جائے گا۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے مزیدارشاد فرمایا:  ’’ بات کو بے توجہی سے سننے والے کے لئے ہلاکت ہے اورجان بوجھ کراپنے  (برے اعمال)  پراصرارکرنے  (یعنی ڈٹ جانے)  والوں کے لئے ہلاکت ہے ۔ ‘‘   (المسند للامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ  بن عمرو بن العاص،الحدیث: ۶۵۵۲،ج۲ص۵۶۵)

                اورحدیث پاک میں وارد لفظ ’’ اَقْمَاعُ الْقَوْل ‘‘ سے مراد وہ شخص ہے:  ’’ جو سنتا تو ہے لیکن نہ یاد رکھتا ہے اور نہ ہی اس پر عمل کرتا ہے۔ ‘‘  اوراس کو  ’’ قمع ‘‘ اور ’’ جامع ‘‘  سے تشبیہ دی گئی۔قمعسے مراد وہ چیز (یعنی قیف یاکُپّی)  ہے جو تنگ برتن کے سر پر رکھی جاتی ہے یہاں تک کہ برتن بھر جائے۔اور جامع سے مراد یہ کہ پانی اس کے پاس سے گزر جاتا ہے لیکن اس میں نہیں ٹھہرتا، اسی طرح نصیحت ان کے کانوں پر سے گزر جاتی ہے لیکن وہ اس پر عمل نہیں کرتے۔

تنبیہ:

                میں نے ان پانچ گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا اگرچہ میں نے کسی کو انہیں کبیرہ گناہوں میں شمار کرتے نہیں دیکھا اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے پانچ گناہوں کے کبیرہ گناہ ہونے پر پہلی حدیثِ پاک میں وارد شدید وعید صراحت کرتی ہے، جبکہ دوسری حدیثِ پاک مثلہ کے کبیرہ ہونے پر دلیل ہے، تیسری اور چوتھی حدیثِ پاک داغنے پر جبکہ پانچویں حدیثِ پاک نشانہ بازی کے لئے حیوان کوباندھ کر نشانہ بنانے پراور چھٹی حدیثِ پاک کھانے کی ضرورت کے بغیر شکار کرنے کے کبیرہ گناہ ہونے پر دلیل ہے   ([1]) ، جبکہ چھٹے گناہ پر چھٹی حدیثِ پاک بھی دلالت کر رہی ہے اور اسے مثلہ اور دا غنے پر بھی قیاس کیا جاسکتاہے، کیونکہ یہ

حیوان کو ایذاء پہنچانے یا مردار ہو جانے کے بعد اسے کھانے کا سبب ہے اور سخت ایذاء کے کبیرہ ہونے میں کوئی شک نہیں ، جیسے آئندہ آنے والے مردار کھانے کے بیان سے ظاہر ہے۔

                 پھر میں نے ایک جماعت کو مطلقاًیہ بیان کرتے دیکھا کہ ’’ حیوان کو عذاب دینا کبیرہ گناہ ہے۔ ‘‘  بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے حیوان کو بھوکا پیاسا قید رکھنے یہاں تک کہ وہ مر جائے اور اس کے چہرے کو آگ سے داغنے یا چہرے پر مارنے کو کبیرہ گناہ شمار کیا ہے اور بخاری و مسلم شریف کی اُس روایت سے استدلال کیا ہے جس میں ایک عورت کے بلی کو قید کرنے کا تذکرہ ہے کہ بلی نے اسے جہنم میں داخل کر دیا، نیز انہوں نے شرح مسلم کے یہ الفاظ بھی دلیل کے طور پر پیش کئے ہیں کہ ’’  وہ عورت مسلمان تھی اور اس کی نافرمانی کبیرہ گناہ تھی۔ ‘‘

 سوال: ہمارے شافعی ائمہ علیہم الرحمہ نے کُند چھری سے جانور ذبح کرنے کو مکروہ قرار دیا، اس صورت میں بیان کردہ بُرا  سلوک کبیرہ گناہ کیسے ہوسکتا ہے؟

جواب: ان کے کلام کو اس صورت پر محمول کرنا متعین ہے جب کہ چھری کُند ہو لیکن وہ ذبیحہ کی حرکت سے قبل ہی کھانے اور سانس والی رگ کو کاٹ دے تواس صورت میں تھوڑی سی تکلیف کے باوجودیہ جائز ہے،شافعی ائمہرَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی بھی یہی مراد ہے کہ یہ اس دلیل کی وجہ سے مکروہ ہے کہ اگر کُند چھری کے ساتھ ذبح کرنے سے صرف ذبح کرنے والے کی طاقت سے ذبح ہو تو جائز نہیں ، اوراگر وہ کھانے او رسانس والی بعض رگ کٹنے سے پہلے ہی مر جائے تو یہ اسے حرام اور مردار کر دے گا، جیسا کہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے تصریح کی ہے لہذا اس گناہ کے کبیرہ ہونے کے قول کو اس صورت پر محمول کرنا متعین ہو جاتاہے کیونکہ حیوان کو مردار کر دینا بلاشبہ کبیرہ گناہ ہے۔

ذبح کے صحیح اورغلط طریقے

 



[1] ۔۔۔۔ صدرالشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ  القوی بہارِشریعت میں فرماتے ہیں :’’شکارکرناایک مباح فعل ہے مگرحرم یااحرام میں خشکی کا جانور شکار کرنا حرام ہے اسی طرح اگرشکارمحض لہو کے طورپرہوتووہ مباح نہیں ۔اکثراس فعل سے مقصودہی کھیل اورتفریح ہوتی ہے اسی لئے عرفِ عام میں شکار کھیلنا بولا جاتا ہے۔ جتنا وقت اورپیسہ شکارمیں خرچ کیاجاتاہے۔اگراس سے بہت کم داموں میں گھربیٹھے ان لوگوں کووہ جانورمل جایاکرے توہرگزراضی نہ ہوں گے یہی وہ چاہیں گے جوکچھ ہوہم توخوداپنے ہاتھ سے شکارکریں گے اس سے معلوم ہواکہ ان کامقصدکھیل اورلہوہی ہے۔ شکار کرنا جائزومباح اس وقت ہے کہ اس کاصحیح مقصد ہو مثلاً کھانایابیچنایادوست واحباب کوہدیہ کرنااس کے چمڑے کوکام میں لانایااس جانورسے اذیت کااندیشہ ہے اس لئے قتل کرنا وغیر ذالک۔‘‘

(بہارِشریعت،ج۲،حصہ۱۷،ص۱۱)

 



Total Pages: 320

Go To