Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

 

٭…٭…٭…٭…٭…٭

کتاب الصید و الذبائح

شکار اور ذبح کرنے کا بیان

کبیرہ نمبر162:         

زندہ جانورکے  جسم کاکوئی حصہ  کاٹنا

کبیرہ نمبر163:         

علامت کے لئے جانور کاچہرہ  داغنا

کبیرہ نمبر164:         

جانورکو ٹارگٹ بنا کرنشانہ بازی کرنا

کبیرہ نمبر165:         

کھانے کے علاوہ کسی اورغرض سے جانورکا شکارکرنا

کبیرہ نمبر166:         

جانورکواچھی طرح ذبح نہ کرنا

{1}…حضورنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے کسی  ’’ ذی روح ‘‘  کا مُثلہ کیا پھر توبہ نہ کی تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس کا مثلہ فرمائے گا۔ ‘‘  (المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند عبداللہ  بن عمر بن الخطاب ، الحدیث:  ۵۶۶۵ ، ج۲ ، ص ۴۰۳)

{2}…حضرت مالک بن نَضْلَہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ میں رحمتِ کونین، غریبوں کے دل کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ کیا تمہاری قوم کے اونٹ صحیح بچے نہیں جنتے کہ تم انہیں چھری کی طرف لے آتے ہو، ان کے کان کاٹ دیتے ہو اور جلد چیر دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ ’’ صرم ‘‘ ہے،  (یعنی جس کے کان کاٹ دئیے جائیں ) لہذااسے اپنے آپ پراورگھروالوں پر حرام کر دیتے ہو؟ ‘‘ میں نے عرض کی:  ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ ہروہ چیزجواللّٰہعَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے تمہارے پاس آئی ہے حلال ہے،اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ کی قدرت کا بازو تمہارے بازوسے بہت قوی ہے اور اس کی چھری تمہاری چھری سے بہت تیزہے۔ ‘‘  (یعنی اگراللہ  عَزَّ وَجَلَّکوجانورکاکان چیرناپسندہوتاتو اُسے کان چیراہواہی پیدا کرتااسے کیا مشکل ہے)               

 ( المرجع السابق ،الحدیث:  ۱۵۸۸۸ ج۵ ، ص ۳۸۳)

{3}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک ایسے گدھے کے پاس سے گزرے جس کے منہ کو نشانی کے لئے داغا گیا تھا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے داغنے والے پر لعنت فرمائے۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب اللباس ، باب النہی عن الضرب الحیوان الخ ، الحدیث: ۵۵۵۰ / ۵۵۵۲، ص ۱۰۵۶)

                چہرہ داغنے اوراس پر مارنے کی ممانعت سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صحیح حدیث سے ثابت ہے۔

چہرے پر مارنے اورداغنے کی ممانعت اور وعیدیں :

{4}… حدیثِ پاک میں ہے کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے چہرہ داغنے والے پر لعنت فرمائی۔ ‘‘                            (کنزالعمال،کتاب الصحبۃ قسم الاقوال، الحدیث:  ۲۵۰۳۶،ج۹،ص۳۳)

{5}…سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمایک گدھے کے پاس سے گزرے، اس کے چہرے کو داغا گیا تھا اور نتھنوں سے خون بہہ رہا تھا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے ایسا کیا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس پر لعنت فرمائے۔ ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چہرہ داغنے اور چہرے پر مارنے سے منع فرمایا۔

 ( صحیح ابن حبان ،کتاب الحظر والاباحۃ ،باب المثلۃ ، الحدیث:  ۵۵۹۱، ج۷، ص ۴۵۴،مختصرًا)

{6}…حضرت سیدنا عبداللہ  بن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  قریش کے کچھ جوانوں کے قریب سے گزرے، انہوں نے نشانہ بازی کے لئے ایک پرندہ یا مرغی کوباندھ رکھا تھا، اور پرندے کے مالک کے لئے  (نشانہ پر) نہ لگنے والے تیر مقرر کر رکھے تھے، جب انہوں نے حضرت سیدنا عبداللہ  بن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کو دیکھا تو منتشر ہو گئے، آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے دریافت فرمایا:  ’’ یہ کس نے کیا ہے؟ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائے کیونکہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہر ذی روح شئے کو نشانہ بنانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ ‘‘     ( صحیح مسلم ،کتاب الصید،باب النھی عن صبر البھائم،الحدیث: ۵۰۶۲،ص۱۰۲۷،بدون ’’ اودجاجۃ ‘‘ )

 بلا ضرورت پرندوں کوقتل کرنے کی ممانعت:

{7}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جو آدمی کسی چڑیا کو بلاضرورت قتل کرے گا تو وہ چڑیا قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں فریاد کرے گی:  ’’ یا رب عَزَّ وَجَلَّ ! فلاں نے مجھے بلاضرورت قتل کیا تھا کسی نفع کے لئے قتل نہیں کیا۔ ‘‘     (سنن النسائی،کتاب الضحایا ، باب من قتل عصفور ابغیر حقہا،الحدیث: ۴۴۵۱،ص۲۳۷۷)

{8}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشادفریا:  ’’ جو انسان کسی چڑیا یا اس سے بڑے کسی ذی روح کو ناحق قتل کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس سے اس کے بارے میں پُوچھ گُچھ فرمائے گا۔ ‘‘  عرض کی گئی:   ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ان کا حق کیا ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ کھانے کے لئے ذبح کرے اور نشانہ بازی کے



Total Pages: 320

Go To