Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{3}…حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اے فاطمہ  (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ )  ! اٹھو اپنی قربانی کے جانور کے پاس جاؤ اور اسے لے کر آؤ کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرنے پر تمہارے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ ‘‘  انہوں نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  یہ انعام ہم اہل بیت کے ساتھ خاص ہے یا ہمارے اور  تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ بلکہ ہمارے اور تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے۔ ‘‘   

 ( المستدرک،کتاب الاضاحی،باب یغفر لمن یضحیالخ،الحدیث: ۷۶۰۰،ج۵،ص ۳۱۴)

{4}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِالْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اے فاطمہ  (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا )  ! اٹھو اپنی قربانی کا جانور لے کر آؤ کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی تمہارے تمام گناہوں کو بخش دیا جائے گا جبکہ وہ جانور اپنے خون اور گوشت کے ساتھ لایا جائے گا اور 70گنا اضافے کے ساتھ تمہارے میزان میں رکھا جائے گا۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا ابو سعید رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کیا یہ انعام اہل بیت ( عَلَيهِمُ الّرِضْوَان )  کے ساتھ خاص ہے؟کیونکہ وہی اپنے ساتھ خاص شدہ بھلائیوں کے اہل ہیں یاآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی آل اورتمام مسلمانوں کے لئے عام ہے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اہل بیت  (عَلَيهِمُ الّرِضْوَان )   کے لئے خاص جبکہ دیگر مسلمانوں کے لئے عام ہے۔ ‘‘  (السنن الکبرٰی للبیہقی،کتاب الضحایا،باب مایستحب للمرئالخ،الحدیث: ۱۹۱۶۱،ج۹،ص۴۷۶)

{5}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی:  ’’ یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ تمہارے باپ ابراہیم  (عَلَیْہِ السَّلَام ) کی سنت ہیں ۔ ‘‘ انہوں نے پھر عرض کی:  ’’ ہمارے لئے اس میں کیا اَجر ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔ ‘‘ انہوں نے عرض کی:  ’’ اوراُون میں  (کیااَجرہے) ؟ ‘‘ توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ اُون کے ہربال کے بدلے بھی ایک نیکی۔ ‘‘   ( سنن ابن ماجۃ ،ابواب الاضاحی ، باب ثواب الاضحیۃ ، الحدیث:  ۳۱۲۷،ص۲۶۶۷)

{6}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ قربانی کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک آدمی کا کوئی عمل خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں ، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں  (قبولیت کے)  مقام پر پہنچ جاتا ہے لہٰذاخوش دلی سے قربانی کیا کرو۔ ‘‘

 ( جامع الترمذی ،ابواب الاضاحی ، باب ماجاء فی فضل الاضحیۃ ،الحدیث:  ۱۴۹۳ ، ص ۱۸۰۴)

{7}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا کا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ قربانی کے دن آدمی کا کوئی عمل خون بہانے سے زیادہ افضل نہیں مگر جب کہ وہ عمل صلہ رحمی کرنا ہو۔ ‘‘   ( المعجم الکبیر ، الحدیث:  ۱۰۹۴۸، ج۱۱ ، ص ۲۷)

{8}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اے لوگو! خوش دلی سے قربانی کیا کرو اور ان کے خون پررضائے الٰہی عَزَّ وَجَلَّ  اور اَجر کی اُمید رکھو اگرچہ وہ زمین پر گر چکا ہو کیونکہ وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی حفاظت میں گرتا ہے۔ ‘‘

 ( العجم الاوسط ، الحدیث:  ۸۳۱۹، ج۶، ص ۱۴۸)

{9}…سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے اپنی قربانی پرثواب کی امیدرکھتے ہوئے خوش دلی کے ساتھ قربانی کی، وہ جانور اس کے لئے جہنم سے حجاب ہو گا۔ ‘‘   (المعجم الکبیر،الحدیث: ۲۷۳۶،ج۳ ،ص ۸۴)

 

٭…٭…٭…٭…٭…٭

کبیرہ نمبر161:                         

قربانی کے جانورکی کھال بیچنا

{1}…رسول کریم،رؤف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے قربانی کی کھال بیچ دی اس کی کوئی قربانی نہیں ۔ ‘‘  (المستدرک،کتاب التفسیرسورۃ الحج، باب التشدید فی ا مر الاضحیۃ ،الحدیث: ۳۵۲۰،ج۳ ،ص۱۴۹)

تنبیہ:

                اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا اگرچہ میں نے کسی کو اس کی تصریح کرتے ہوئے نہیں دیکھا مگر حدیثِ پاک کا ظاہری معنی اس کے کبیرہ ہونے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ کھال بیچنے کی وجہ سے قربانی کی نفی کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس عظیم عبادت کا ثواب بالکل باطل کرنے کی وجہ سے اس میں شدید وعید پائی جا رہی ہے۔

                جیسا کہ موضوع نفی کا ظاہراس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ قربانی کی بھی سرے سے نفی ہے اور یہ اس بات کی تائید ہے کہ وہ کھال قربانی کے ساتھ ہی اس کی مِلک سے نکل جاتی ہے اور فقراء کی ملکیت بن جاتی ہے، پس جب وہ اس کا والی بنا اور اسے بیچا تو وہ غیر کے حق کو غصب کرنے والا ہوا اور عنقریب آئے گا کہ غصب کبیرہ گناہ ہے اور یہ بھی غصب ہی کی ایک صورت ہے، پس اسے کبیرہ شمار کرنا واضح ہو گیااور قصاب کو بطور اُجرت قربانی کی کھال دینے کو بھی اسی سے ملاناچاہئے کیونکہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے تصریح فرمائی ہے کہ یہ بھی اسے بیچنے کی طرح حرام ہی ہے اور جس طرح بیچنے میں اس کا غصب ہوناپایا جا رہا ہے، جیسا کہ ثابت ہو چکا، اسی طرح قصاب کو بطورِ اُجرت دینے میں اس کا اسی طرح کبیرہ گناہ ہونا بعید نہیں ۔ ([1])

 



[1] ۔۔۔۔٭ احناف کے نزدیک:’’قربانی کا چمڑا اور اس کی جھول اور رسی اور اس کے گلے میں ہار ڈالا ہے وہ ہار اور ان سب چیزوں کو صدقہ کر دے۔قربانی کے چمڑے کو خود بھی اپنے کام میں لاسکتا ہے یعنی اس کو باقی رکھتے ہوئے اپنے کسی کام میں لاسکتا ہے مثلاًاس کی جانمازبنائے،چلنی، تھیلی، مشکیزہ، دسترخوان، ڈول وغیرہ بنائے یا کتابوں کی جلدوں میں لگائے یہ سب کرسکتا ہے۔ (درمختار،کتاب الاضحیۃ،،ج۹،ص۵۴۳)

٭… چمڑے کا ڈول بنایا تواسے اپنے کام میں لائے اُجرت پر نہ دے اور اگر اُجرت پر دے دیا تو اس اُجرت کو صدقہ کرے۔

(رد المحتار،کتاب الاضحیۃ،ج۹،ص۵۴۳)

٭…قربانی کے چمڑے کو ایسی چیزوں سے بدل سکتا ہے جس کو باقی رکھتے ہوئے اس سے نفع اٹھایا جائے جیسے کتاب۔ایسی چیز سے بدل نہیں سکتا جس کو ہلاک کر کے نفع حاصل کیا جاتا ہو جیسے روٹی،گوشت،سرکہ،روپیہ،پیسہ اور اگر اس نے ان چیزوں کو چمڑے کے عوض میں حاصل کیا توان چیزوں کو صدقہ کردے۔                                                                                                                                                  (در مختار،کتاب الاضحیۃ،ج۹،ص