Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

بنا دے اوراس کی بیماری کو ’’ مقامِ جحفہ ‘‘ کی طرف منتقل فرمادے۔ ‘‘  (وہاں سے کوئی پرندہ بھی اڑتاہواگزرتاتوبیمارہوجاتا)       ( المرجع السابق،الحدیث: ۲۲۶۹۳ ،ج۸ ،ص ۳۸۴)

{15}…سرکارِمدینہ،راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی:  ’’ اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں نے مدینہ منورہ کی دوپہاڑیوں کے درمیان کوحرم بنایا (یعنی میں نے اس کی حرمت ظاہرفرمائی )  ہیجس طرح تونے حضرت ابراہیم (عَلَیْہِ السَّلَام)  کی زبان سے مکہ مکرمہ کو حرم فرمایاہے۔ ‘‘               (المرجع السابق،الحدیث:  ۲۲۶۹۳ ، ج۸ ،ص ۳۸۴)

                مراد یہ ہے کہ مکہ مکرمہ زمین وآسمان کی تخلیق کے وقت سے ہی تھا مگر اس کی حرمت مخفی ہو جانے کے باعث کم ہو گئی تھی پھراللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیدنا ابراہیم علی نبیناو عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ  کی زبان سے اس کی حرمت کو ظاہرفرمایا۔

{16}…شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں عرض کی:  ’’ اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !  ہمارے لئے ہمارے پھلوں میں برکت عطافرما اور ہمارے لئے ہمارے مدینے میں برکت عطافرما اور ہمارے لئے ہمارے صاع  اور مد میں برکت عطا فرما۔ ‘‘     ( صحیح مسلم ،کتاب الحج ، باب فضل المدینۃ ودعاء الخ ،الحدیث:  ۳۳۳۴ ، ص ۶ ۹۰)

{17}…حضوربنی ٔپاک،صاحبِ لولاک،سیاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں عرض کی:  ’’ اے اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ !  حضرت ابراہیم  (عَلَیْہِ السَّلَام)  تیرے بندے، خلیل اور نبی ہیں جبکہ میں بھی تیرا بندہ اور نبی ہوں ، انہوں نے تجھ سے مکہ مکرمہ کے لئے دعا کی اور میں مدینہ منورہ کے لئے وہی دعا کرتا ہوں جو انہوں نے مکہ مکرمہ کے لئے مانگی تھی اور اتنی ہی اس کے ساتھ مزید کی دعامانگتا ہوں تو اس برکت کو دو برکتوں کے ساتھ ملا دے اور اس کی بیماری جحفہ کی طرف منتقل کر دے۔ ‘‘  (کیونکہ وہ یہودیوں کامسکن تھا)  ( صحیح مسلم ،کتاب الحج ، باب فضل المدینۃ ودعاء النبی الخ ،الحدیث:  ۳۳۳۴ ، ص۹۰۶)

 ( صحیح البخاری ،کتاب مناقب الانصار ،باب مقدم النبی واصحاب المدینہ ، الحدیث:  ۳۹۲۶،ص۳۲۰)

 مدینہ منورہ ہرآفت سے محفوظ :

{18}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظم ہے:  ’’ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے ! مدینہ منورہ میں کوئی شئے نہیں ، نہ پھوٹ ہے نہ کوئی سوراخ اور دو فرشتے اس کی حفاظت کے لئے مؤکل ہیں ۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب الحج ، باب الترغیب فی سکنی المدینۃالخ،الحدیث: ۱۳۷۴،ص۹۰۶)

مدینہ ،شام اوریمن کے لئے برکت کی دعا:

{19}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں عرض کی:  ’’ اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !  ہمارے لئے ہمارے صاع اور مد میں برکت عطا فرما، اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہمارے لئے ہمارے شام اور یمن میں برکت عطا فرما۔ ‘‘  عرض کی گئی:  ’’ اورہمارے عراق میں بھی۔ ‘‘  توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ وہاں شیطان کاسینگ (یعنی اس کی حکمرانی کی قوت )  اور فتنوں کی طغیانی ہو گی اور بے شک جفا مشرق میں ہے۔ ‘‘           ( المعجم الکبیر، الحدیث:  ۱۲۵۵۳،ج۱۲ ، ص ۶۶)

اسلام کی نشانی اورایمان کاگھر:

{20}…نبی ٔکریم،رء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ مدینہ منورہ اسلام کی نشانی ، ایمان کا گھر، ہجرت کی زمین اور حلال وحرام کا ٹھکاناہے۔ ‘‘                     ( المعجم الاوسط،الحدیث: ۵۶۱۸، ج۴ ، ص ۱۷۴،مثوی بدلہ ’’ مبوأ ‘‘ )

 

٭٭٭٭٭٭

کتاب الاضحیۃ

قربانی کا بیان

کبیرہ نمبر160:         

قربانی کے وُجوب  کااعتقادرکھنے والے

کااستطاعت کے باوجودقربانی نہ کرنا

{1}…حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ رسول اکرم، شفیع معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جو قربانی کرنے کی وسعت پائے پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کی طرف نہ آئے۔ ‘‘

 (  المستدرک،کتاب التفسیر (سورۃ الحج) ،باب التشدید فی امر الاضحیۃ ، الحدیث:  ۳۵۱۹ ، ص ۳ ، ص ۱۴۸)  

تنبیہ:

                اس حدیثِ پاک کے ظاہری مفہوم کے اعتبار سے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اگرچہ میں نے کسی کو اس کے کبیرہ گناہ ہونے کی تصریح کرتے ہوئے نہیں دیکھا کیونکہ عید گاہ میں حاضر ہونے سے منع کرنے میں سخت وعید پائی جاتی ہے جبکہ قربانی کے مستحب ہونے کے قائلین مثلاًحضرتِ سیدنا امام شافعیعلیہ رحمۃاللہ  الکافی وغیرہ اس کا جواب دیتے ہیں کہ اس حدیثِ پاک کو امام حاکم رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اگرچہ مرفوعاًروایت کیا اور اسے صحیح قرار دیا ہے مگر انہوں نے اسے موقوفاً بھی روایت کیاہے۔

                بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیفرماتے ہیں :  ’’ شایداس میں شبہ ہے، لہٰذا حدیثِ پاک میں اس بات پر حجت پوری نہیں ہوتی کہ ہم یہ کہنے لگیں کہ حاضری سے منع کرنے میں سخت وعید ہے۔

{2}…کیا آپ نہیں جانتے کہ صحیح حدیثِ پاک میں آیا ہے:  ’’ جس نے لہسن ،پیازیاگندنا (جوپیازکی طرح بدبودارہوتاہے)  کھایا۔ ‘‘  جبکہ ایک اور روایت میں ہے، ’’ یا مولی کھائی۔ ‘‘  وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب المساجد ، باب نہی من اکل الخ ،الحدیث: ۱۲۵۴،ص۷۶۴

Total Pages: 320

Go To