Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal Jild 1

                ظاہر ہے کہ یہ مقابلہ کے مجاز میں سے ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو خوف زدہ کرنے سے مراد خوف زدہ کرنے والے اور اس کے ساتھ سرکارِمدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تعلق کے ٹوٹ جانے سے کنایہ  (یعنی اشارہ) ہے کیونکہ خوف زدہ کرنے  سے مراد قطع رحمی، دشمنی، درد ناک اوررسوا کن عذاب، اور خوف میں سے جو چیزیں اس پر مترتب ہوتی ہیں ،کا متحقق ہوناہے۔

{5}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ! جو اہلِ مدینہ پر ظلم کرے یا انہیں خوف میں مبتلا کرے تو اسے خوف میں مبتلا فرما اور اس پر اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ،اس کے ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس کا نہ کوئی فرض قبول ہوگانہ نفل (یعنی توبہ،قول اورعمل مقبول ہوگانہ فدیہ وغیرہ) ۔ ‘‘  ( المعجم الاوسط، الحدیث:  ۳۵۸۹ ،ج ۲ ، ص ۳۷۹)

{6}…سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے مدینہ منورہ میں کوئی بدعت ایجاد کی یا کسی بدعتی کو پناہ دی اس پر اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس کا کوئی فرض قبول فرمائے گا نہ نفل۔ ‘‘   ( صحیح مسلم ،کتاب الحج ،با ب فضل المدینہ ودُعاء النبی الخ ، الحدیث:  ۳۳۲۳،ص۹۰۵)

                ابن قیم   ([1]) نے تصریح کی ہے کہ ’’ حرمِ مدینہ کو حلال جانناکبیرہ گناہ ہے۔ ‘‘  جبکہ دیگر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ارشاد فرمایاکہ ’’ مدینہ منورہ کے حرم کو حلال ٹھہرانا ائمہ ثلاثہ کے نزدیک کبیرہ گناہ ہے جبکہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے نزدیک مدینہ کو حلال ٹھہرانا کبیرہ گناہ نہیں ۔ ‘‘

{7}…ائمہ ثلاثہ کی دلیل مسلم شریف کی یہ حدیثِ پاک ہے کہ حضرت سیدناانس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے سوال کیا گیا:  ’’ کیا رسول

اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مدینہ منورہ کو حرم بنایا ہے؟ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:  ’’ کیوں نہیں ،وہ حرم ہے اس لئے اس کی سبز گھاس نہ کاٹی جائے جو ایسا کرے گا اس پر اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ۔ ‘‘

 (صحیح مسلم،کتاب الحج،باب فضل المدینہالخ،الحدیث: ۳۳۲۴،ص۹۰۵، ’’ ان انساً قیل لہ ‘‘ بدلہ ’’ سالت انسا ‘‘ )

تنبیہ:

                بیان کردہ چھ گناہوں کو ان احادیثِ مبارکہ میں وارد تصریح کی بناء پر کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے مگر میں نے کسی کو ان میں سے پہلے دوگناہوں کو بالکل ظاہر ہونے کے باوجود کبیرہ گناہ قرار دیتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر میں نے متاخرین علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیمیں سے ایک کو اس کی تصریح کرتے ہوئے دیکھا مگر انہوں نے اس کی تعبیر یوں کی:  ’’ حرم مدینہ کو حلال ٹھہرانا اور اس میں بدعت ایجاد کرنا۔ ‘‘  حالانکہ اس کا ظاہری مفہوم وہی ہے جو ہم اوپر بیان کر چکے اورجسے آپ ان صحیح احادیثِ مبارکہ کے ضمن میں جان چکے ہیں ۔

سوال: پہلے دو گناہ اہل مدینہ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ دیگر لوگوں کے حق میں بھی کبیرہ ہونے چاہئیں جیسا کہ ایذاء اور ظلم کے بیان میں علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا کلام اس پر دلالت کرتا ہے؟

جواب:  مدینہ والوں کے ساتھ کسی قسم کی برائی کے ارادے یا انہیں کسی طریقے سے بھی خوف میں مبتلا کرنے کا حدیثِ پاک میں خاص طور پر ذکر ہونے کی وجہ سے اسے کبیرہ گناہ قرار دینا متعین ہے جبکہ دیگر لوگوں کے حق میں ایسا نہیں ۔

مدینہ منورہ کے فضائل:

{8}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ میرا جو اُمتی مدینہ منورہ کی سختی اور تنگدستی پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا یاوہ مسلمان ہو گاتو اس کے حق میں گواہی دوں گا۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب الحج ،باب الترغیب فی سکنی المدینہ الخ الحدیث:  ۳۳۴۷ ، ص۹۰۷،بدون ’’ اذاکان مسلما ‘‘ )

{9}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ میں مدینہ منورہ کے ان دو پہاڑوں کے درمیان کے درخت کاٹنے کو یا اس کے شکار کو حرام قرار دیتا ہوں ، مدینہ منورہ ان لوگوں کے لئے بہتر تھا اگر وہ جانتے جو اس سے روگردانی کرتے ہوئے اِسے چھوڑے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کی جگہ اس سے بہتر کو بدل دے گا۔ ‘‘   (المرجع السابق، الحدیث: ۳۳۱۸،ص۹۰۵)

{10}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اہلمدینہ پر ایک زمانہ ایسا ضرور آئے گا کہ لوگ خوشحالی کی تلاش میں یہاں سے چراگاہوں کی طرف نکل جائیں گے، پھر جب وہ خوشحالی پالیں گے تو لوٹ کر آئیں گے اور اہلِ مدینہ کو اس کشادگی کی طرف جانے پر آمادہ کریں گے حالانکہ اگر وہ جان لیں تو مدینہ منورہ ان کے لئے بہتر ہے۔ ‘‘  

 (المسندلامام احمدبن حنبل،مسندجابربن عبداللہ  والحدیث: ۱۴۶۸۶،ج۵،ص۱۰۶، ’’ الاریاف ‘‘ بدلہ ’’ الافاق ‘‘ )

مدینہ منورہ میں مرنے کی فضیلت:

{11}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ تم میں سے جو مدینہ منورہ میں مرنے کی استطاعت رکھے وہ مدینہ ہی میں مرے کیونکہ جو مدینہ منورہ میں مرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا اور اس کے حق میں گواہی دوں گا۔ ‘‘                                    (شعب الایمان،باب فی المناسک، فضل الحج والعمرۃ ، الحدیث: ۱۴۸۲، ج۳،ص ۴۹۷)

{12}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ بیماری اور دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ ‘‘  (الترغیب والترھیب،کتاب الحج،باب الترغیب فی سکنیالخ،تحت الحدیث: ۱۸۷۴،ج۲، ص ۱۱۹)

{13}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے دعا مانگی:  ’’ اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !  تیرے خلیل، تیرے بندے اور تیرے نبی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے تجھ سے مکہ مکرمہ والوں کے لئے دعا مانگی تھی اور میں تیرا بندہ اور تیرا رسول محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )  تجھ سے اسی طرح مدینہ منورہ والوں کے لئے دعا مانگتا ہوں جس طرح حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام  نے مکہ مکرمہ والوں کے لئے دعا مانگی تھی، ہم تجھ سے دعا مانگتے ہیں کہ تو ان کے لئے ان کے صاع، ان کے مد اور ان کے پھلوں میں برکت عطا فرما۔ ‘‘      (المسندللامام احمدبن حنبل،حدیث ابی قتادۃ،الحدیث: ۲۲۶۹۳، ج۸،ص ۴