Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

( المستدرک،کتاب المناسک، الاجر علی قدر النفقۃ والتعب ، الحدیث:  ۱۷۷۶،ج۲ ، ص۱۳۰،بدون ’’ النفقۃالی ضعف ‘‘ )

{66}…حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ حاجی کبھی فقیر نہیں ہوتا۔ ‘‘     (جامع الترمذی ،ابواب الحج ، باب ماجاء فی عمرۃ رمضان ،الحدیث:  ۹۳۹ ، ص ۱۷۴۰،ملخصاً)

ماہِ رمضان میں عمرہ کی فضیلت:

{67}…حضورنبی کریم ،رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ رمضان المبارک میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔ ‘‘  ( صحیح مسلم ،کتا ب الحج، باب باب فضل العمرۃ فی رمضانالخ، الحدیث: ۲۲۱ / ۲۲۲،ص۸۸۷ )

{68}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے؟ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ رمضان المبارک میں عمرہ کرنا۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد،کتا ب المناسک ،باب العمرۃ، الحدیث: ۱۹۹۰،ص۱۳۶۹)  

احرام میں دن گزارنے والے کی فضیلت:

{69}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جو بندہ احرام کی حالت میں دن گزارتا ہے سورج ڈوبتے وقت اس کے گناہ اپنے ساتھ ہی لے جاتا ہے۔ ‘‘

 ( التر غیب والترھیب ،کتاب الحج ، باب الترغیب فی الاحرام والتلبیۃالخ، الحدیث:  ۱۷۵۲ ،ج ۲ ، ص ۸۷)

{70}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا کا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جب بھی کوئی  بندہ  لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَکہتا ہے تو اس کے دائیں بائیں موجود زمین کی اِنتہا تک کا ہر درخت اور پتھر تلبیہ پڑھتا ہے۔ ‘‘

 ( سنن ابن ماجۃ ،ابواب المناسک ، باب التلبیۃ ، الحدیث:  ۲۹۲۱ ، ص ۲۶۵۳،بدون  ’’ عن یمینہ وشمالہ  ‘‘ )

{71}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ رکن یمانی اور شمالی کو چھونا گناہوں کا کفارہ ہے۔ ‘‘        (جامع الترمذی،ابوا ب الحج ،باب ماجاء فی استلام الرکنین، الحدیث: ۹۵۹،ص۱۷۴۲)  

{72}…سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ طواف کرنے والا جب بھی کوئی قدم رکھتا یا اٹھاتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے عوض اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے۔ ‘‘

 (صحیح ابن حبان ،کتاب الحج ، باب فضل الحج والعمرۃ ،الحدیث:  ۳۶۸۹، ج ۶، ص۴)

{73}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے ایک ہفتہ بیت اللہ  شریف کا اس طرح طواف کیا کہ اس میں کوئی بے ہودہ کام نہ کیا تو اس کا یہ عمل اس کے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔ ‘‘

 ( المعجم الکبیر ، الحدیث:  ۸۴۵ ، ج۲۰ ، ص ۳۶۰)

 

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر154:                           مد ینہ شریف والوں کو ڈرانا

کبیرہ نمبر155:         

مد ینے والوں کے سا تھ برائی کا ارادہ کرنا

کبیرہ نمبر156:         

مد ینے میں کوئی بد عتِ سیّئہ ا یجاد کرنا

کبیرہ نمبر157:         

مد ینے میں بد عتی کو پناہ دینا

کبیرہ نمبر158:         

مد ینہ طیِّبہ کے درخت کاٹنا

کبیرہ نمبر159:     

مد ینہ منوَّرہ کی گھاس کاٹنا

{1}…حضرت سیدناسعد رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق وامین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:  ’’ مدینہ والوں کے ساتھ جو بھی چالبازی کرے گاوہ ایسے پگھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گُھل جاتا ہے۔ ‘‘                ( صحیح البخاری ،کتاب فضائل المدینہ ،باب اثم من کاد اھل المدینۃ ، الحدیث:  ۱۸۷۷ ، ص ۱۴۷ )

{2}…جبکہ مسلم شریف کی روایت میں یہ اضافہ ہے:  ’’ اور جو شخص مدینہ والوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے آگ میں اس طرح پگھلا دے گا جیسے سیسہ پگھلتایا نمک پانی میں گُھل جاتا ہے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم ،کتاب الحج ، باب فضل المدینۃ ودُعاء النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فیھا بالبر کۃ ، الحدیث:  ۳۳۱۹ ، ص