Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{54}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ حجِ مبرور کی جزاء صرف جنت ہی ہے۔ ‘‘  عرض کی گئی:  ’’ اس کی نیکی کیاہے؟ ‘‘ توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ کھانا کھلانا اور اچھا کلام کرنا۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتا ب الحج ، باب فضل الحج والعمرۃ ، الحدیث:  ۳۲۸۹ ، ص۹۰۳)

 (المستدرک ،کتاب المناسک ، باب بر الحج اطعام وطیب الکلام ، الحدیث:  ۱۸۲۱ ، ج۲ ، ص ۱۴۸)

                غور کیا جائے تو اس حدیثِ پاک میں بیان کردہ حجِ مبرور کی تفسیر گذشتہ تفسیر کے منافی نہیں ۔

{55}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ حج اور عمرہ پے در پے کیا کرو کیونکہ یہ فقر  اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی سونے، چاندی اور لوہے کے میل کچیل یازنگ کونکال دیتی ہے۔ ‘‘

 (جامع الترمذی ،ابواب الحج ، باب ماجاء فی ثواب الحج والعمرہ ،الحدیث:  ۸۱۰، ص ۱۷۲۷)

{56}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ حجِ مبرور کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہیں۔ ‘‘       ( جامع الترمذی ،ابواب الحج ، باب ماجاء فی ثواب الحج والعمرہ ،الحدیث:  ۸۱۰، ص ۱۷۲۷)

{57}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جو مکہ مکرمہ سے حج کے لئے پیدل چلا یہاں تک کہ واپس مکہ مکرمہ لوٹ آیاتو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے ہر قدم پر اس کے لئے 700نیکیاں لکھے گا، ان میں سے ہرنیکی حرم کی نیکیوں کی طرح ہوگی۔ ‘‘ عرض کی گئی :  ’’ حرم کی نیکیاں کیاہیں ؟ ‘‘ توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ ہر نیکی ایک لاکھ (1,00,000) نیکیوں کے برابرہے۔ ‘‘  (المستدرک،کتاب المناسک ،باب فضیلۃ الحج ماشیا، الحدیث: ۱۷۳۵،ج۲،ص۱۱۴)

ایک ہزارمرتبہ بیت اللہ  شریف میں حاضری :

{58}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام بیت اللہ  شریف 1000مرتبہ تشریف لائے، آپ عَلَیْہِ السَّلَام ہند سے ہمیشہ پیدل ہی آئے۔ ‘‘

 ( صحیح ابن خزیمہ ،کتاب المناسک ، باب عد دحج آدم صلوات اللہ  علیہ الخ ، الحدیث:  ۲۷۹۲ ،ج۴، ص ۲۴۵)

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے مہمان :

{59}…سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ حاجی اور عمرہ کرنے والے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے مہمان ہیں ،وہ انہیں بلاتا ہے تو یہ اس کے بلاوے پر لبیک کہتے ہیں اوریہ اس سے سوال کرتے ہیں تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اِنہیں عطا فرماتا ہے۔ ‘‘      (کنز العمال ،کتاب الحج والعمرۃ قسم الاقوال ، باب فضائل الحج ووجوبہ وآدابہ، الحدیث: ۱۱۸۱۱، ج۵ ، ص ۵)

{60}…حضورنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے دعا مانگی:  ’’ اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ! حاجی اور جس کے لئے حاجی استغفار کرے ان دونوں کی مغفرت فرما۔ ‘‘  (صحیح ابن خزیمۃ،کتاب المناسک،باب استحباب دعائالخ، الحدیث:  ۲۵۱۶ ، ج۴ ،ص۱۳۲)

{61}…حضورنبی ٔپاک،صاحبِ لولاک،سیاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اس گھر سے نفع اٹھا لو کیونکہ اسے دو مرتبہ شہید کیا گیا اور (اب اس کے بعد) تیسری مرتبہ اٹھا لیا جائے گا۔ ‘‘

 ( المستدرک، کتاب المناسک ، باب استمتعوا من ھذا البیت،الحدیث: ۱۶۵۲،ج۲،ص۸۳)

خانۂ کعبہ کی دوسری مرتبہ تعمیر:

{62}…نبی ٔمُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم،شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظم ہے:  ’’ جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو جنت سے اُتارا تو ارشاد فرمایا:  ’’ میں تمہارے ساتھ ایک گھر اُتار رہا ہوں ، اس کے گرد اسی طرح طواف کیا جائے گا جس طرح میرے عرش کے گرد طواف کیا جاتا ہے اور اس کے پاس اسی طرح نماز پڑھی جائے گی جس طرح میرے عرش کے گرد نماز پڑھی جاتی ہے۔ ‘‘  پھر جب طوفانِ نوح کا زمانہ آیا تو اسے اُٹھا لیا گیا، انبیاء کرام  علیہم الصلوٰۃ والسلام اس کا حج تو کیا کرتے تھے مگر اس کی جگہ نہیں جانتے تھے، پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیدنا ابراہیم  (علیہ لسلام ) پر اسے ظاہر فرمایا تو انہوں نے اسے پانچپہاڑوں کے پتھروں سے تعمیر کیا:  وہ پہاڑ (۱)  جبل الحرائ (۲) جبلِ ثبیر (۳) جبل لبنان  (۴) جبل الطیر اور  (۵) جبل الخیر ہیں ، لہذا تم سے جتنا ہو سکے اس سے نفع اٹھا لو ۔ ‘‘

 ( الترغیب وا لترھیب ،کتاب الحج ، باب الترغیب فی الحج والعمر ۃ الخ ، الحدیث:  ۱۷۰۹ ، ص ۲ ، ص ۷۵)

                یہ روایت حضرت سیدناابن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے صحیح سند سے مروی ہے اور اس قسم کی باتیں اپنی رائے سے نہیں کہی جاتیں لہٰذا یہ مرفوع کے حکم میں ہے۔

{63}…رسولِ اکرم،نورِمجسَّم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے بیت اللہ  شریف کا ارادہ کیا تو اس کی اونٹنی جو قدم رکھے یا اٹھائے گی اس کے بدلے اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی اور ایک گناہ مٹایا جائے گا، بلاشبہ طواف کی دو رکعتیں اولادِ اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہیں ، سعی کرناستّر غلام آزاد کرنے کے برابر ہے، وقوف کرنے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اگرچہ ریت کے ذروں یا بارش کے قطروں یا سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ، جِمَار کے ہر کنکر کے عوض ہلاکت خیز گناہوں میں سے ایک کو مٹا دیا جاتا ہے، قربانی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے پاس ذخیرہ ہے، ہر بال منڈوانے پر ایک نیکی ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے اور اس کے بعد طواف کرنے پر ایک فرشتہ حاجی کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے:  ’’ آئندہ کے لئے عمل کرو کیونکہ تمہارے پچھلے گناہ بخش دئیے گئے۔ ‘‘                                (المرجع السابق،بتغیرٍقلیلٍ)  

Go To