Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کعبہ کوبَیْتُ الْعَتِیْقکہنے کی وجہ:

{14}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ کعبہ کو بَیْتُ الْعَتِیْق اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے اسے ظالم و جابر لوگوں سے آزاد فرما دیا ہے، اسی لئے اس پر کبھی کوئی ظالم قابض نہیں ہوا۔ ‘‘  

 ( شعب الایمان ، باب فی المناسک ، حدیث الکعبۃ والمسجد الحرام ، الحدیث:  ۴۰۱۰ ، ج۳ ، ص ۴۴۳)

زمین کا سب سے پہلا ٹکڑا اور پہاڑ:

{15}…سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ زمین میں سب سے پہلے بیت اللہ  شریف کا ٹکڑا رکھا گیا، پھر اس سے دوسری زمین پھیلائی گئی اور سطح زمین پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے سب سے پہلے جو پہاڑ رکھا وہ جَبَلِ اَبِیْ قُبَیْس ہے پھر اس سے پہاڑوں کا سلسلہ پھیلا۔ ‘‘               (المرجع السابق، الحدیث:  ۳۹۸۴ ، ج۳ ، ص ۴۳۲)

شہروں کی اصل:

{16}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ مکہ مکرمہ اُمُّ الْقُرٰی یعنی تمام شہروں کی اصل ہے۔ ‘‘    (الکامل فی ضعفاء الرجال ،رقم: ۵۴۶،حسام بن مصک بن ظالم الخ،ج۳،ص۳۶۳)

قبلہ کی تعظیم پر انعام:

{17}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق وامین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو قبلہ کی تکریم کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے عزّت دے گا۔ ‘‘   ( کنزالعمال ،کتاب الفضائل ، فی فضائل الامکنہ والاز منۃ ، الحدیث:  ۳۴۶۴۱، ج۱۲، ص۹۰)

قبلہ کی بے حرمتی کا وبال:

{18}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ یہ اُمت جب تک اس کی عظمت کا حق ادا کرتے ہوئے اس کی حرمت کی پاسداری کرتی رہے گی خیر سے رہے گی اور جب اسے پامال کر دے گی تو ہلاکت میں مبتلا ہو جائے گی۔ ‘‘               ( سنن ابن ماجہ ،ابواب المناسک ، باب فضل مکۃ الحدیث:  ۳۱۱۰ ، ص ۲۶۶۶)

کعبہ کو دیکھنا بھی عبادت:

{19}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ کعبہ شریف کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے۔ ‘‘                                ( فر دو س الاخبار للدیلمی ، باب النون ، الحدیث:  ۷۱۱۶، ج۲ ، ص۳۷۵)

زمین پر سب سے پہلی دو مساجد:

{20}…مَخْزنِ جودوسخاوت ، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ زمین پر سب سے پہلے مسجدِحرام بنائی گئی، پھر مسجدِ اقصیٰ اور ان دونوں کے درمیان 40سال کاعرصہ تھا۔ ‘‘

       (صحیح البخاری ،کتاب احادیث الانبیاء،باب۱۰،الحدیث: ۳۳۶۶،ص۲۷۳،مفہوماً)

مدینہ منورہ کافروں اور منافقوں سے پاک:

{21}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ کوئی شہر ایسا نہیں جسے عنقریب دجال روندتا ہوا نہ جائے، جبکہ ان شہروں کے ہر راستے پر ملائکہ صفیں باندھے پہرہ دے رہے ہوں گے، لہذا وہ ایک دلدلی زمین پر پڑاؤ ڈالے گا پھر شہرِ مدینہ تین مرتبہ لرزے گا تو اس میں موجود ہر کافر اور منافق باہر نکل جائے گا۔ ‘‘             

 ( صحیح البخاری ،کتاب فضائل المدینہ ، باب لاید خل الدجال المدینۃ ،الحدیث: ۱۸۸۱ ، ص ۱۴۷)

محبوب آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا محبوب شہر :

{22}…سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ تُو کتنا اچھا شہر ہے اور مجھے کتنا محبوب ہے اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی اور شہر میں سکونت اختیار نہ کرتا۔ ‘‘

 (جامع الترمذی ،ابواب المناقب ، باب فی فضل مکۃ ،الحدیث:  ۳۹۲۶ ، ص۲۰۵۳)

{23}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ خدا کی قسم!  تُو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی سب سے

بہترین زمین ہے اور مجھے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی زمین میں سب سے زیادہ محبوب ہے، اگر مجھے تجھ سے نہ نکالا جاتا تو میں ہرگز نہ نکلتا۔ ‘‘

 ( جامع الترمذی ،ابواب المناقب ، باب فی فضل مکۃ ،الحدیث:  ۳۹۲۵،۲۰۵۲)

٭٭٭٭٭٭

مکہ مکرمہ میں جنگ نہیں ہوگی :

{24}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ آج  (یعنی فتح مکہ)  کے بعد قیامت تک مکہ مکرمہ میں جنگ نہیں ہوگی۔ ‘‘                  ( المسندللاما م احمد ابن حنبل،الحدیث: ۱۹۰۴۲،ج۷، ص۲۶)

مکہ مکرمہ میں اسلحہ کی نمائش ممنوع:

{25}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ تم می



Total Pages: 320

Go To