Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ہے پھر چند لائنوں کے بعد فرمایا : اور حرم میں اِلْحَاد  (یعنی جھگڑا) کرنااور آیت سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا :  ’’ چودہواں گناہ بیت الحرام میں جھگڑا کرنا اگرچہ جان بوجھ کر کرے۔ ‘‘ کیونکہاللہ  عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے :

وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ (۲۵)   (پ۱۷،سورۃ الحج: ۲۵)

ترجمۂ کنز الایمان  : اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اُسے درد ناک عذاب چکھائیں گے۔

                آیتِ کریمہ کو مطلق لینے سے اس چیز کی تائید ہوتی ہے کہ حرم مکہ میں ہر گناہ کبیرہ ہے چنانچہ،

٭…حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے مروی ہے :  ’’ بے شک ظلم ہر نافرمانی کو شامل ہے۔ ‘‘

 (تفسیر الطبری ، سورۂ حج ،تحت الآیۃ: ۲۵ ،الحدیث: ۲۵۰۲۹ ، ج۹، ص ۱۳۲)

٭…حضرت سیدنا ابن جبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے حوالے سے گزرا ہے کہ ’’ خادم کو گالی دینا یا اس سے زیادہ کچھ کہنا ظلم ہے۔ ‘‘  

٭…سیدنا عطائ، ابن عمر اور مجاہد رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ م  کا قول :  ’’ نہیں ! خدا کی قسم، ہاں !  خدا کی قسم۔ ‘‘  یعنی جھگڑتے ہوئے جھوٹی قسم کھانا۔ اور سیدنا عطاء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے یہ بھی منقول ہے :  ’’ بغیر احرام کے حرم میں داخل ہونا۔ ‘‘  

 (تفسیر الطبری ، سورۂ حج ،تحت الآیۃ: ۲۵ ،الحدیث: ۲۵۰۲۷ ، ج۹، ص ۱۳۲)

٭…اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے فرمان ’’ بظلم ‘‘ کے بارے میں مفسرین کی ایک جماعت کا قول جیسا کہ گزرا ہے کہ حضرت سیدنا ابن جبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے نزدیک اس سے مراد خادم کو گالی دینے کی طرح ہے۔

٭…اس سے بھی قوی روایتیعلٰیبن اُمیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ حرم میں کھانا روک لینا ظلم ہے۔ ‘‘    (سنن  ابی داؤد،کتاب المناسک ،باب تحریم مکۃ ،الحدیث: ۲۰۲۰، ص۱۳۷۲)

٭…حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  نے دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت بیان کی کہ  ’’ مکہ میں کھانا روک لیناظلم ہے۔ ‘‘  ( شعب الایمان،باب فی ان یحب المسلم الخ،فصل ترک الاحتکار،الحدیث: ۱۱۲۲۱، ج۷،ص۵۲۷)

                اس ساری بحث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ یہ تمام صورتیں اِلْحَاد کی جزئیات میں سے ہیں ، پس اِلْحَاد مکہ میں کھانا روکنے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ ہر ایک نافرمانی کو شامل ہے جبکہ ارادہ کے ساتھ کرے۔

                پھر میں نے محدثین میں سے بعض کو دیکھا جب انہوں نے اکثر سابقہ احادیثِ مبارکہ ذکر کیں تو فرمایا کہ یہ احادیثِ مبارکہ اگرچہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ اشیاء اِلْحَاد میں سے ہیں لیکن وہ ان سے عام ہے اور بے شک یہ تنبیہ ہے کہ وہ اس سے بھی غلیظ گناہ ہے۔

                اسی لئے جب ہاتھی والے لشکر نے بیت اللہ  شریف کو برباد کرنے کاعزم کیا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ان پر پرندوں کی فوجیں بھیجیں :

تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍﭪ (۴) فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ (۵)   (پ ۳۰،سورۃ الفیل: ۴،۵)

ترجمۂ کنزالایمان: کہ انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے توانہیں کرڈالاجیسے کھائی کھیتی کی پتی (بھوسہ) ۔

                یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں تباہ کر دیا اور انہیں عبرت بنا دیا اور جو برائی کا ارادہ کرے اس کے لئے عبرت ناک سزا بنا دیا اور عنقریب وہ اس لشکر کے ساتھ آئے گا جو حرم پر حملہ کرنے کے لئے نکلے تھے کہ ان کو زمین میں دھنسا دیا گیا۔

{5}…سیدناامام احمد رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے روایت کی ہے کہ حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  نے حضرت سیدنا ابن زبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے فرمایا:  ’’ اے ابن زبیر (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ) !  بیت اللہ  شریف میں فسادکرنے سے بچو، بے شک میں نے رسولِ بے مثال،  بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :  ’’ قریش کا ایک آدمی بیت اللہ  شریف میں فساد کرے گا اگر اس کے گناہ جن و انس کے گناہوں کے ساتھ تولے جائیں تو بھی اس کے گناہ زیادہ ہوں گے، لہذا غور کر ایسا نہ کر۔ ‘‘

 ( المسندللامام احمد بن حنبل ، مسند عبداللہ  بن عمربن الخطاب ، الحدیث:  ۶۲۰۸، ج۲ ، ص ۴۹۹)

{6}… ایک دوسری روایت حضرت سیدنا ابن عمرو بن العاص رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کے بارے میں بھی ہے کہ وہ حضرت سیدنا ابن زبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کے پاس آئے جبکہ وہ حجرِ اسود کے پاس تھے اور ارشاد فرمایا:  ’’ اے ابن زبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہما!  حرم میں اِلْحَادسے بچو، پس میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی ٔکریم ،رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا،اور اس کے بعد گذشتہ روایت ذکر کی۔   ( المسندللامام احمد بن حنبل ، مسند عبداللہ  بن عمروبن العاص،الحدیث: ۷۰۶۴،ج۲،ص ۶۸۲)

مکہ شریف میں صغیرہ گناہ بھی کبیرہ ہوتے ہیں :

                جو گناہ غیرِ مکہ میں صغیرہ ہوتے ہیں وہ مکہ شریف میں ان پر مرتب ہونے والی شدید سزا کی وجہ سے کبیرہ کہلائیں گے کیونکہ یہاں محل کا اعتبار ہے نہ کہ ذات کا، اس وقت کبیرہ گناہ فسق اور عدالت میں نقص کا موجب بھی نہ ہوں گے کیونکہ اس سے عمومیت کا قول ممکن نہیں ورنہ اہلِ حرم میں سے کوئی بھی عادل نہ رہے گا،کیونکہ صغیرہ اور ناپسندیدہ حقیر گناہوں سے بچنا بہت  مشکل ہے اور اس بات پر جدیدوقدیم علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا اجماع ہے کہ اہلِ حرم عادل ہیں باوجود اس کے کہ ان کے صغیرہ گناہوں کے ارتکاب کاسب کو علم ہے کیونکہ مکمل طور پر بچنا اور محفوظ رہنا مشکل ہے پس اس کو کبیرہ گناہ شمار کرنے کی تاویل متعین ہو گئی، کیونکہ جس نے اسے کبیرہ شمار کیا ممکن نہیں کہ اس کی مراد یہ ہو کہ حرم میں کرنابھی کبیرہ گناہ ہے کیونکہ یہ فسق ہے اور غیر حرم میں بھی کبیرہ گناہ ہے، تواس صورت میں حرم کی کیا فضیلت رہی پس اس سے مراد یہ ہے کہ غیر مکہ میں صغیرہ گناہ مکہ میں کبیرہ ہے اور یہ ظاہر اً محال ہے جیسا کہ آپ جان چکے ہیں پس تاویل متعین ہو گئی۔

سوال: اگر آپ یہ کہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے حالانکہ کبیرہ کی تعریف یہ ہے کہ وہ جس میں شدید وعید آئی ہو اور یہ توحرم میں کئے  جانے والے صغیرہ کو بھی شامل ہے؟

جواب:  تو میں کہوں گا کہ سزا کواس گناہ پر محمول کرنا بعید نہیں جس کے ذاتی طور پر قبیح ہونے کی وجہ سے اس پر وعید مرتب کی گئی نہ کہ اس کے محل کے شرف کی وجہ سے اور جو ہم نے مجبوراًیہ تاویل کی پس تاویل کی طرف لوٹنا ضروری ہے۔

اَمرد کو دیکھنے سے آنکھیں اُبل پڑیں :

                آپ نافرمانی کے قبیح ہونے اور سزا کے جلدی ہونے کے بارے میں اگرچہ گناہِ صغیرہ ہو، جانتے ہیں کہ بعض لوگوں نے کسی اَمرد (یعنی خوبصورت لڑکے)  یا عورت کو دیکھا تو ان کی آنکھیں رخساروں پر بہہ پڑیں ۔

 



Total Pages: 320

Go To