Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

٭…مفسرین کا اس میں اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے :  ’’ اس سے مراد شرک ہے۔ ‘‘  اور یہ حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کی دو روایتوں میں سے ایک ہے اور یہی حضرت سیدنا مجاہد، سیدناقتادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  اور بہت سے اَکابر کا قول ہے۔

٭…حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کی دوسری روایت میں ہے :  ’’ اس سے مراد یہ ہے کہ تم حرم میں ایسے شخص کو قتل کرو جو تمہیں قتل نہیں کرتا یا اس پر ظلم کرو جو تم پر ظلم نہیں کرتا۔ ‘‘

 (تفسیر الطبری ، سورہ حج ،آیت ۲۵ ،الحدیث:  ۲۵۰۱۹ ، ج۹، ص ۱۳۱،بدون  ’’ ھو ان تقتل فیہ ‘‘  )

٭…حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے یہ بھی منقول ہے :  ’’ اِلْحَاد یہ ہے کہ جس گفتگو یا قتل کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے حرام کیا ہے اُسے حلال جاننا پس تو اس پر ظلم کرے جو تجھ پر ظلم نہیں کرتا اور اس کو قتل کرے جو تجھے قتل نہیں کرتا، لہذا جب تو نے ایسا کیا تو درد ناک عذاب کامستحق ہو گیا۔ ‘‘                     ( تفسیر الطبری ، سورہ حج ،آیت ۲۵ ،الحدیث:  ۲۵۰۱۹ ، ج۹، ص ۱۳۱)

٭…حضرت سیدنا مجاہد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے :  ’’ ظلم سے مراد حرم میں برا عمل ہے۔ ‘‘

 (تفسیر الطبری ، سورہ حج ،آیت ۲۵ ،الحدیث:  ۲۵۰۲۰ ، ج۹، ص ۱۳۱)

٭…حضرت سیدنا سعید بن جبیر،جندب بن ثابت رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  وغیرہ نے ارشاد فرمایا :  ’’ اِلْحَاد سے مراد مکہ میں کھانا ذخیرہ کرنا ہے۔ ‘‘  گویا انہوں نے اس کوحضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کے اس قول سے لیا کہ ’’ کھانے کوذخیرہ کرنے کے بعدمکہ میں فروخت کرنا۔ ‘‘  جیسا کہ اِلْحَاد   کا ظاہری معنی ہے۔     (تفسیر الطبری ، سورہ حج ،آیت ۲۵ ،الحدیث:  ۲۵۰۲۶ ، ج۹، ص ۱۳۱)

٭…حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کا قول ہے :  ’’ خادم کو گالی دینا ظلم ہے۔ ‘‘

٭…حضرت سیدنا سعید بن جبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کا فرمان ہے :  ’’ اس آیت میں ظلم سے مراد امیرکا مکہ میں تجارت کرنا ہے۔ ‘‘

٭…حضرت عطاء رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا :  ’’ اِلْحَاد سے مراد باہمی خرید و فروخت میں آدمی کا یہ کہنا :  ’’ نہیں ، خدا کی قسم!  ہاں ، کیوں نہیں ، خدا کی قسم!  ‘‘                          ( تفسیر الطبری ، سورہ حج ،آیت ۲۵ ،الحدیث:  ۲۵۰۲۷ ، ج۹، ص ۱۳۲)

٭…حضرت سیدنا عبد اللہ  بن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کے بارے میں مروی ہے کہ آپ کے دو خیمے تھے، ایک حل میں اور دوسرا حرم میں ، جب آپ اپنے گھر والوں سے ناراضگی کا اظہار کرنا چاہتے تو حل میں ناراض ہوتے، آپ سے اس کا سبب پوچھا گیا تو آپ رَضِیَ اللہ   تَعَالٰی عَنْہمَا  نے ارشاد فرمایا :  ’’ ہم یہ بیان کرتے ہیں کہ مکۂ پاک میں اِلْحَاد سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنے گھر والوں سے کہے :  ’’ خدا کی قسم!  ہر گز نہیں ، خدا کی قسم!  ہاں ، کیوں نہیں ۔ ‘‘       (تفسیر الطبری ، سورہ حج ،آیت ۲۵ ،الحدیث:  ۲۵۰۲۸ ، ج۹، ص ۱۳۱)

٭…حضرت عطاء رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسے منقول ہے :  ’’ اِلْحَاد سے مراد یہ ہے کہ حرم میں بغیر احرام والے کا داخل ہونا اور احرام کی ممنوعات:  درخت کاٹنے یا شکار کرنے میں سے کسی کا ارتکاب کرنا۔ ‘‘

٭…یہاں ظُلْم کے لفظ کا فائدہ یہ ہے کہ یہاں پر اِلْحَاد اپنے اصلی معنی میں نہیں اور اس کا اصلی معنی مطلقاًمیلان ہے۔ بے شک یہ کبھی حق کی طرف اور کبھی باطل کی طرف ہوتا ہے، یہاں اس سے مراد ایسا میلان ہے جو ظلم کے ساتھ ملا ہو اور یہ بات معلوم ہے کہ اصل میں ظلم تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو شامل ہے، ہر قسم کی نافرمانی، اگرچہ گناہِ صغیرہ ہی ہو، ظلم کہلائے گی کیونکہ ظلم یہ ہے کہ کسی چیز کو غیر محل میں رکھنا۔اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ذیشان رہنمائی فرماتا ہے:

اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ (۱۳)   (پ۲۱، لقمٰن: ۱۳)

ترجمۂ کنز الایمان : بے شک شرک بڑا ظلم ہے۔

                پس عَظِیْم کی قید لگانے سے شرک کے علاوہ بقیہ سب کبیرہ گناہ اس سے خارج ہو گئے اور وہ بھی ظلم ہیں لیکن شرک کی طرح عظیم نہیں اگرچہ فی نفسہ عظیم ہیں ، اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان نُذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ مذکورہ اِلْحَاد پر مرتب ہونے والی وعید کا بیان ہے۔

                اس سلسلے میں حضرت سیدناابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے مروی سیدنا مجاہد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا قول لیا گیا ہے :  ’’ بے شک برائیاں مکہ میں دُگنی ہوتی ہیں جیسا کہ یہاں نیکیاں دُگنی ہوتی ہیں ۔ ‘‘  اور انہوں نے اسے اس بات پر محمول کیا ہے :  ’’ دُگنا ہونے سے مراد برائی کی قباحت اور عذاب کی زیادتی ہے نہ کہ وہ زیادتی جو نیکیوں میں ہوتی ہے۔ ‘‘  کیونکہ نصوص صراحت کرتی ہیں کہ برائی پر اس کی مثل ہی جزاء متعین ہوتی ہے، لیکن سیدنا مجاہد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہوغیرہ کے کلام کا ظاہر حقیقی طور پر دُگنا ہونے کا قول ہے اور وہ اس کے اِستثناء پر قائم دلیل کی وجہ سے اسے نصوص سے مُستَثنٰی قرار دیتے ہیں ، اگر وہ دُگنا ہونے کے حقیقی معنی کے قائل نہ ہوتے تو جمہور رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے مخالف ہوتے کیونکہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ مکہ میں نافرمانی اس کے علاوہ جگہوں سے زیادہ قبیح ہے۔

                اس کی دلیل کہ حرم کی خصوصیت کی وجہ سے اس میں ارادہ ہی کافی ہے،حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے موقوف و مرفوع روایت ہے جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان کے مشابہ ہے :

وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ (۲۵)   (پ۱۷، الحج: ۲۵)

ترجمۂ کنز الایمان  : اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اُسے درد ناک عذاب چکھائیں گے۔

{2}…حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کا فرمان ہے :  ’’ اگر کسی آدمی نے حرمِ پاک میں کسی زیادتی کاناحق ارادہ کیا اور وہ عدن سے بھی دور ہو پھر بھی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے درد ناک عذاب چکھائے گا۔ ‘‘

 (تفسیر الطبری ، سورہ حج،تحت الآیۃ: ۲۳،الحدیث: ۲۳ /  ۲۵۰۲۲ ، ج۹، ص ۱۳۱، ملخصاً)

{3}…سیدنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے انہی سے روایت کیا :  ’’ جو شخص کسی برائی کا ارادہ کرتا ہے وہ لکھ دی جاتی ہے اگرچہ کوئی آدمی عدن سے بھی دور ہو اور ارادہ کرے کہ بیت اللہ  شریف میں فلاں آدمی کو قتل کرے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے درد ناک عذاب میں مبتلا فرمائے گا۔ ‘‘                         (تفسیر الطبری ، سورۂ حج ،تحت الآیۃ: ۲۵،الحدیث: ۲۵۰۲۲ ، ج۹، ص ۱۳۱)