Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر150:                                          مُحْرِم کا شکار کرنا

یعنی محرم کا حج یا عمرے کے دوران کھائے جانے والے جنگلی شکار کو قتل کرنا، اگرچہ وہ مخلوق سے مانوس ہو یا

ان صفات میں سے کسی ایک صفت کے حامل جانور کو جان بوجھ کر اختیار سے قتل کرنا۔

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌؕ-وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖؕ-عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَؕ-وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ (۹۵)   (پ۷، المآئدۃ: ۹۵)

ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہو اور تم میں جو اسے قصداً قتل کرے تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ ویسا ہی جانور مویشی سے دے تم میں کہ دو ثقہ آدمی اس کا حکم کریں یہ قربانی ہو کعبہ کو پہنچتی یا کفارہ دے چند مسکینوں کا کھانا یا اس کے برابر روزے کہ اپنے کام کا وبال چکھے اللہ  نے معاف کیا جو ہو گزرا اور جو اَبْ کرے گا اللہ  اس سے بدلہ لے گا اور اللہ  غالب ہے بدلہ لینے والا۔

تنبیہ:

                اس آیتِ مبارکہ کی صراحت کی بناء پر اسے کبیرہ گناہ شمار کیا گیا ہے اور علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی ایک جماعت نے بھی اس کے کبیرہ ہونے کی تصریح کی ہے، انہوں نے یہاں یہ بات بھی ذکر کی ہے کہ جس نے شکار کو قتل کیا وہ فاسق ہو جائے گا کیونکہ اس نے ایک قابلِ احترام جانور کو بلا ضرورت قتل کیا ، مگر اس میں کلام ہے اور میں نے اس کی تفصیل کتاب ’’  الایضاح ‘‘  کے حاشیہ میں ذکر کر دی ہے۔

                ظاہر یہی ہے کہ احرام میں دیگرممنوع افعال کبیرہ گناہ نہیں کیونکہ جس نے یہ کہا کہ یہ عمل کبیرہ گناہ ہے اس نے اس کے احرام کے محرمات میں سے ہونے کا لحاظ نہیں کیا بلکہ اس بات کا لحاظ کیا کہ اس شخص نے ایک قابلِ احترام جانور کو بلا ضرورت قتل کیا ہے، البتہ اس سے یہ ضرورثابت ہوتا ہے کہ محرم کا ایسے جانور کو کسی قسم کی ایسی ایذاء دینا جس کو وہ عادۃً برداشت نہیں کر سکتا، کبیرہ گناہ ہے۔

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر151:         شوہر کی اجازت کے بغیر احرام باند ھنا

یعنی بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی حج یا عمرے کا احرام باندھنا اگرچہ وہ شوہر کے گھر سے باہر نہ بھی نکلے۔

                اسے گذشتہ تفصیلی بحث یعنی عورت کے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھنے، پر قیاس کرتے ہوئے کبیرہ گناہ شمار کیا گیا ہے بلکہ مدت کی طوالت ، سفر پر مرد سے دور جانے اوراس کی بے عزتی ہونے کی وجہ سے اس کا کبیرہ ہونا روزے سے زیادہ اَولیٰ ہے۔

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر152:                         

بیت الحرام کو حلال ٹہہرانا

{1}…ایک شخص نے نبی کریم، رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کبیرہ گناہ کتنے ہیں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ 9ہیں :   (۱) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا شریک ٹھہرانا (۲) کسی مؤمن کو ناحق قتل کرنا (۳) جہاد کے دن میدان سے فرار ہونا (۴) یتیم کا مال کھانا  (۵) سود کھانا  (۶) پاکدامن عورت پر زنا کی تہمت لگانا  (۷) مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا  (۸) جادو کرنا اور  (۹) تمہارے قبلے یعنی بیت الحرام کے زندوں اور مردوں کو حلال ٹھہرانا۔ ‘‘            ( المستدرک،کتاب الایمان ،باب الکبائر تسع ، الحدیث:  ۲۰۴ ، ج۱ ، ص ۲۳۳،بدون  ’’ عمل السحر )   (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۰۱،ج۱۷،ص۴۸)

{2}…ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اکرم، شفیع معظَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ کبیرہ گناہ 9ہیں :  (۱) ان میں سب سے بڑا گناہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکاشریک ٹھہراناہے اور (۲) کسی مؤمن کو  (ناحق)  قتل کرنا (۳) سودکھانا (۴) یتیم کا مال کھانا  (۵) پاکدامن عورت پرزنا کی تہمت لگانا (۶) جہادکے دن میدان سے فرارہونا (۷) مسلمان والدین کی نافرمانی کرنااور  (۸) بیت الحرام کو حلال ٹھہرانابھی کبیرہ گناہ ہیں ۔ ‘‘  (شایدیہاں کتابت کی غلطی کی وجہ سے ایک گناہ رہ گیا )

 ( السنن الکبری للبیہقی،کتا ب الشہادات ، باب من تجوز شہادتہ الخ ،الحدیث:  ۲۰۷۵۲ ، ج۱۰ ، ص ۳۱۴)

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر153:                        

حرم مکہ میں بے د ینی پھیلانا

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ (۲۵)   (پ۱۷، الحج: ۲۵)

ترجمۂ کنز الایمان  : اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اُسے درد ناک عذاب چکھائیں گے۔

{1}…ابن ابی حاتم سے مروی ہے :  ’’ یہ آیتِ مبارکہ عبد اللہ  بن اُنَیْس کے بارے میں نازل ہوئی۔حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اس کے ساتھ ایک مہاجر اور ایک انصاری کو بھیجا تو وہ اپنے نسب پر فخر کرنے لگے ابن اُنَیْسکو غصہ آیا اور اس نے انصاری کو قتل کر دیا، پھر مرتد ہو کر مکہ بھاگ گیا۔ ‘‘  (الدرالمنثور،سورۃ الحج،تحت الآیۃ: ۲۵،ج۶،ص۲۷)

اِلْحَاد اور ظُلْم کی وضاحت:

٭…اِلْحَاد کا معنی بالقصد پھرنا ہے۔

 



Total Pages: 320

Go To