Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

(شعب الایمان، باب فی المناسک ، الحدیث:  ۳۹۷۹،ج۳،ص۴۳۰)

اسلام کے8حصے ہیں :  

{4}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظم ہے :  ’’ اسلام کے 8حصے ہیں :   (۱) کلمہ ایک حصہ ہے  (۲) نماز ایک حصہ ہے  (۳) زکوٰۃ ایک حصہ ہے (۴) روزہ ایک حصہ ہے  (۵) حج ایک حصہ ہے  (۶) نیکی کا حکم دینا ایک حصہ ہے  (۷)  برائی سے منع کرنا ایک حصہ ہے اور  (۸) راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں سفر کرنا بھی ایک حصہ ہے اور جس کا کوئی حصہ نہیں وہ رسوا ہو گا۔ ‘‘

 (البحرالزخاربمسندالبزار،مسند حذیفۃ بن الیمان، الحدیث: ۲۹۲۷،ج۷،ص۳۳۰)

{5}…حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :  ’’ میں کسی بندے کے جسم کو صحت مند بناؤں اور اس کی روزی میں وسعت عطا کروں پھر اس پر پانچ سال گزر جائیں اور وہ میری بارگاہ میں حاضر نہ ہو تو بے شک وہ محروم ہے۔ ‘‘

 (صحیح ابن حبان،کتاب الحج،باب فی فضل الحج والعمرۃ، الحدیث:  ۳۶۹۵،ج۶،ص۶)

                حضرت علی بن منذر رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ مجھے میرے چند دوستوں نے بتایا کہ حضرت حسن بن حی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکو یہ حدیثِ پاک بہت پسند تھی اور وہ اسی حدیثِ پاک سے استدلال کرتے ہوئے خوشحال شخص کے لئے یہ پسند کرتے تھے کہ وہ مسلسل پانچ سال حج ترک نہ کرے۔

{6}…حضرت سیدنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  نے ارشادفرمایا :  ’’ جو شخص حج نہ کرے نہ ہی اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے وہ موت کے وقت مہلت مانگے گا۔ ‘‘ ان سے کہا گیا :  ’’ مہلت تو کفار مانگیں گے۔ ‘‘ تو آپ رضی اللہ  تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: یہ بات اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی کتاب میں ہے۔چنانچہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍۙ-فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ (۱۰)  (پ۲۸،المنٰفقون: ۱۰)

ترجمۂ کنز الایمان : اور ہمارے دئیے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے اے میرے رب ! تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا۔

 (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۲۶۳۵ / ۳۶،ص۹۰)

حج ادا نہ کرنے والے کی محرومی :

{7}…حضرت سیدنا سعید بن جبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے منقول ہے :  ’’ میرا ایک مال دار پڑوسی مر گیا اس نے حج ادا نہیں کیا تھا تو میں نے اس پر نماز (جنازہ)  نہ پڑھی۔ ‘‘  (مصنف ابن ابی شیبۃ،کتاب الحج،باب فی الرجل یموت ولم یحج وہوموسر،الحدیث: ۴،ج۴،ص۳۹۲)

تنبیہ:

                اس گناہ کو علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی صراحت کی وجہ سے کبیرہ گناہ شمار کیا گیا ہے اور اس کی دلیل سخت وعید ہے۔

سوال: قدرت کے باوجود حج نہ کرنے والے پر اس کی موت کے بعد فسق کا حکم لگا نے کا فائدہ کیا ہے؟

جواب: آخرت کے اعتبار سے تو بالکل واضح ہے جبکہ دنیوی احکام کے اعتبار سے اس کے چند فوائد ہیں کہ قدرت کے سالوں کے آخر میں اس کا فاسق ہو کر مرنا ظاہرجائے گا، اس صورت میں اس نے جوگواہی دی یاجوفیصلہ کیا اس کا باطل ہونا ظاہر ہو گا،نیزنابالغ بچوں کے نکاح کرانے اور ہر اس چیز کا معاملہ ہے جس میں عدالت شرط ہے کیونکہ قدرت کے سالوں میں سے آخری سال میں اس کے عمل کا باطل ہونا اس کی موت کے سبب ظاہر ہو جاتا ہے اور یہ وہ عظیم فوائد ہیں جو وضاحت کے محتاج ہیں ۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

کبیرہ نمبر149:       

احرام کھولنےسے پہلے اپنے اختیار

سے جماع کرنا

یعنی حج یا عمرے کے دوران احرام کھولنے سے پہلے جان بوجھ کر اپنے اختیارسے جماع کرنایعنی عضوتناسل

کی سپاری یا اس کی مقدار، اگرچہ کٹے ہوئے عضو سے ہو، کسی (انسان یاچوپائے) کی فرج میں داخل کرنا ([1])

                اگرچہ میں نے اس کے بارے میں نہ تو کوئی وعید دیکھی ہے نہ ہی کسی کو اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کرتے ہوئے پایا  ہے، مگر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک جماع کے ذریعے روزہ توڑنے کو کبیرہ گناہ قرار دینے پر قیاس کی وجہ سے، جماع کے ذریعے حج کے اَرکان فاسد کرنے کا حکم بھی یہی ہونا چاہئے بلکہ اس کا کبیرہ ہونا اولیٰ ہے کہ روزہ دار جب جماع کے علاوہ کسی اور ذریعے سے روزہ فاسد کرے تو اس پر گناہ اور روزہ قضاء کرنے کے علاوہ کوئی اور چیزلازم نہیں ہوتی جبکہ یہاں اس پر گناہ اور فاسد کردہ عمل کی قضاء کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی لازم ہوتا ہے اور وہ کفارہ ایکاونٹ ذبح کرنا ہے جوکہ پورے پانچ سال کا ہوتا ہے اگر وہ اس سے عاجز ہو توثنیہ گائے ذبح کرے جو کہ پورے دوسال کی ہوتی ہے اگر اس سے بھی عاجز ہو تو سات جذعہ بکریاں ذبح کرے جذعہ ایک سالہ بکری کو کہتے ہیں ، جبکہ ثنیہ دو سالہ بکری کو کہتے ہیں ، اگر اس سے بھی عاجز ہو تو ایک بدنہ (یعنی قربانی کے جانور) کی قیمت سے اتنی گندم خریدے جتنی فطرے میں کفایت کرتی ہے اور اسے صدقہ کر دے اور اگر اس سے بھی عاجزہو تو ہر مد یعنی تقریباََ2کلو 25گرام کے عوض میں ایک روزہ رکھے اور فساد پورا کرے اور حرم میں روزہ رکھنا زیادہ بہتر ہے۔

 



[1] ۔۔۔۔ صدرالشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ  القوی’’ بہارشریعت‘‘ میں اس مسئلہ کی چندجزئیات نقل فرماتے ہیں ،جو یہ ہیں :’’جانور یا مردہ یا بہت چھوٹی لڑکی سے جماع کیا تو حج فاسد نہ ہو گا انزال ہو یا نہیں مگرانزال ہواتودم لازم…عورت نے جانور سے وطی کرائی یا کسی آدمی یا جانور کا کٹاہوا آلہ اندر رکھ لیاحج فاسد ہو گیا…وقوفِ عرفہ سے پہلے جماع کیا توحج فاسدہو گیا اسے حج کی طرح پورا کر کے دم دے اور سالِ آئندہ ہی میں اس کی قضا کرلے، عورت بھی احرام حج میں تھی تو اس پر بھی یہی لازم ہے…وقوف کے بعد جماع سے حج تو نہ جائے گا مگر حلق وطواف سے پہلے کیاتوبَدَنہ دے اور حلق کے بعد(کیا) تودم اور بہتراب بھی بدنہ ہے اور دونوں کے بعد کیا توکچھ نہیں ،طواف سے مراداکثرہے یعنی چار پھیرے ہیں ۔‘‘ (بہارِشریعت،حصہ۶،ص۷۴،۷۵)



Total Pages: 320

Go To