Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

(جامع الترمذی،ابواب الصوم،باب ماجاء فی فضل شہررمضان، الحدیث: ۲ ۶۸، ص۱۷۱۴)

{27}…سرکار ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب ماہِ رمضان المبارک کی پہلی رات آتی ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں پورا مہینہ اس کاایک دروازہ بھی بند نہیں ہوتا اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں پورا مہینہ اس کاایک دروازہ بھی نہیں کھولا جاتا اور سرکش جنات کو بیڑیوں میں جکڑ دیا جاتاہے۔ہر رات فجر طلوع ہونے تک ایک منادی یہ نداء دیتا رہتا ہے :  ’’ اے خیر کے طلب گار!  نیکی کو پورا کر (یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت میں آگے بڑھ)  اور خوش ہوجا اور اے بدی کے طلب گار!  برائی میں کمی کر اورعبرت حاصل کر، ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ جس کی مغفرت کی جائے؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ جس کی توبہ قبول کی جائے؟ ہے کوئی دعا مانگنے والا کہ جس کی دعا قبول کی جائے؟ ہے کوئی مراد مانگنے والا کہ جس کی مراد پوری کی جائے؟ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے رمضان المبارک کی ہرشب میں افطارکے وقت ساٹھ ہزارگنہگاروں کوجہنم سے آزادکیاجاتاہے اوراللہ  عَزَّ وَجَلَّعیدکے دن سارے مہینے کے برابرگنہگاروں کوبخشش عطافرماتاہے یعنی تیس مرتبہ ساٹھ ہزارکی بخشش ہوتی ہے۔ ‘‘                                 

 (شعب الایمان،باب فی الصیام،فضائل شہررمضان،الحدیث: ۳۶۰۶،ج۳،ص۳۰۴)

 

 

٭٭٭٭٭٭

کتاب الاعتکاف

اعتکاف کا بیان

کبیرہ نمبر145:                         

اعتکاف ترک کرنا

کبیرہ نمبر146:                         

اعتکاف توڑنا

کبیرہ نمبر147:                         

مسجد میں جماع کرنا

یعنی  (۱) اس نذر مانے ہوئے اعتکاف کو چھوڑ دینا کہ جس کو فوراً پورا کیا جانا لازمی ہو  (۲) کسی مفسدِ اعتکاف

کام کا مرتکب ہوکر اس کو توڑ دینا اور  (۳) مسجد کی حرمت کو پامال کرنا خواہ کوئی غیرِ معتکف ہی کیوں نہ ہو۔

                ان گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرناممکن ہے، ان میں سے دوگناہوں کو تورمضان المبارک وغیرہ میں گذشتہ  ’’ وجوب اور وقت کی تنگی ‘‘  کے قاعدے پر قیاس کر کے کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ تیسرے کو کبیرہ گناہ قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں اس کے مرتکب سے دین اور دینداری کو ہلکا جاننے کی شدید ترین برائی ثابت ہوجاتی ہے کیونکہ مسجدیں ایسے کاموں سے پاک ہیں اور یہ بات پیچھے بیان ہو چکی ہے کہ مساجد کو گندگی سے آلودہ کرنا کفر ہے، لہٰذا اس میں جماع کرنا کبیرہ گناہ ہونا چاہئے کیونکہ اس میں نجاست آلودہ اشیاء کومساجدکے قریب کر کے اس کی حرمت کو پامال کرنا پایا جاتا ہے۔

 

 

 

٭٭٭٭٭٭

کتاب الحج

حج کا بیان

کبیرہ نمبر148:                         

قدرت کے باوجود حج نہ کرنا

{1}…حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جو زادِ راہ اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے گھر تک پہنچانے والی سواری کا مالک ہو پھربھی حج نہ کرے توخواہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی۔ ‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

وَ  لِلّٰهِ  عَلَى  النَّاسِ   حِجُّ  الْبَیْتِ  مَنِ  اسْتَطَاعَ  اِلَیْهِ  سَبِیْلًاؕ-                    (پ۴، اٰلِ عمران: ۹۷)

ترجمۂ کنز الایمان : اور اللہ  کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے۔

 (جامع الترمذی، ابواب الحج، باب ماجاء من التغلیظ فی ترک الحج، الحدیث:  ۸۱۲،ص۱۷۲۸)

            مذکورہ حدیثِ پاک اگرچہ ضعیف ہے جیسا کہ علامہ نووی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے شَرْحُ الْمُھَذَّب میں کہا ہے،البتہ!  حضرت سیدنا عمرِ فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے یہ حدیثِ پاک صحیح سند سے مروی ہے،

{2}… اسی لئے آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا :  ’’ میں نے ارادہ کر لیاہے کہ ان شہروں میں ان لوگوں کو  (امیر بنا کر)  بھیجوں جو جا کر استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے والوں کو تلاش کر کے ان پر جزیہ لازم کریں کیونکہ وہ مسلمان نہیں ۔ ‘‘

  (تفسیر ابن کثیر،سورۃاٰلِ عمران،تحت الآیۃ : ۹۷،ج۲،ص۷۳)

                ایسی باتیں چونکہ اپنی رائے سے نہیں کہی جا سکتیں ، لہٰذا یہ مرفوع حدیث کے حکم میں ہے، اسی وجہ سے میں نے اسے صحیح حدیث قرار دیا ہے، اس حدیثِ پاک کوسیدنا امام بیہقی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے بھی روایت کیا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں :

{3}…حضرت سیدنا ابو اُمامہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ جسے کوئی ظاہری حاجت، سخت مرض یا ظالم بادشاہ نہ روکے پھر بھی وہ حج نہ کرے توچاہے یہودی ہو کر مرے یا نصرانی۔ ‘‘

 



Total Pages: 320

Go To