Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کی مقدار خندق کھوددے گا۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب فضائل الجھاد، باب ماجاء فی فضل الصوم فی سبیل اللہ  ،الحدیث:  ۱۶۲۴،ص۱۸۱۹)

{16}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے ایک دن راہِ خد ا عَزَّ وَجَلَّ  میں روزہ رکھا جہنم اس سے 100سال کی مسافت تک دور ہو جاتا ہے۔ ‘‘   (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۳۲۴۹،ج۲،ص۲۶۸)

                یہاں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی راہ کے لشکر جہاد کے ساتھ مخصوص ہیں جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ اس سے مراداللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اخلاص ہے۔

{17}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ 3شخصوں کی دعانہیں لوٹائی جاتی  (ان میں سے ایک)  افطار کرتے وقت روزہ دار بھی ہے۔ ‘‘

{18}… ایک اور روایت میں ہے :  (۱) روزہ دار یہاں تک کہ وہ افطارکر لے  (۲) انصاف پسند بادشاہ اور  (۳) مظلوم کی دعا کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ بادل سے اوپر اٹھا لیتا ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور رب عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرماتا ہے :  ’’ مجھے اپنی عزت کی قسم!  میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ دیر بعد۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، کتاب الدعوات، باب سبق المفردونالخ،الحدیث: ۳۵۹۸،ص۲۰۲۲)

{19}…سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو ایمان اوراحتساب کے ساتھ رمضان المبارک کے روزے رکھے  (یعنی وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت کی تصدیق کرتااور اس کے ثواب کی امید رکھتا ہو نیز اس کی رضا اور اس کے عظیم  انعامات کا طلب گار ہو)  اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے اور جو شخص شبِ قدر میں ایمان واحتساب کے ساتھ قیام کرے اس کے بھی پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ ‘‘  (صحیح البخاری، کتاب الصوم ، باب من صام رمضان ایمانا الخ،الحدیث: ۱۹۰۱،ص۱۴۸،بتقدمٍ وتأخرٍ)

                جبکہ ایک اورروایت میں اگلے پچھلے گناہوں کی مغفرت کا تذکرہ ہے۔

 (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند ابی ہریرۃ،الحدیث:  ۹۰۱۱،ج۳،ص۳۳۳)

{20}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے اور اس کی حدود کی حفاظت کی  (یعنی اس کی حرمت کا خیال رکھا)  اور جن کاموں سے بچنا چاہئے ان سے بچتا رہا تو اس کے پچھلے گناہ مٹا دئیے جائیں گے۔ ‘‘                                (تاریخ بغداد، باب الدال، دجی بن عبداللہ  ، الحدیث:  ۴۴۹۶،ج۸،ص۳۸۷)  

{21}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ 5نمازیں ، جمعہ اگلے جمعہ تک اور رمضان المبارک اگلے رمضان المبارک تک درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں جب تک کبیرہ گناہوں کے ارتکاب سے بچا جائے۔ ‘‘          (صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ ، باب الصلوٰات الخمس والجمعۃ الخ،الحدیث:  ۵۵۲،ص۷۲۰)

{22}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ منبر کے قریب آجاؤ۔ ‘‘  تو ہم منبر کے قریب حاضر ہو گئے، پھر جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پہلے زینے پر قدم رکھا تو فرمایا:   ’’ آمین۔ ‘‘  جب دوسرے زینے پر قدم رکھا تو فرمایا:   ’’ آمین۔ ‘‘  جب تیسرے زینے پر قدم رکھا تو فرمایا:  ’’ آمین۔ ‘‘  جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممنبر سے نیچے تشریف لائے تو ہم نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  آج ہم نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ایسی بات سنی ہے جو پہلے کبھی نہ سنی تھی۔ ‘‘  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’  جبرائیل  (عَلَیْہِ السَّلَام)  نے میرے پاس حاضر ہو کر عرض کی :  ’’ جو رمضان المبارک کو پائے پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہو تو وہ ہلاک ہولہذا میں نے آمین کہی، جب میں نے دوسرے زینے پر قدم رکھا تواس نے عرض کی :  ’’ جس کے سامنے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذکر ہو اور وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درودِ پاک نہ پڑھے وہ ہلاکت میں مبتلا ہو تو میں نے کہا:  آمین، جب میں نے تیسرے زینے پر قدم رکھا تو اس نے عرض کی:  ’’ جس نے اپنے والدین یا ان میں سے ایک کو بڑھاپے میں پایا پھر بھی انہوں نے اسے جنت میں داخل نہ کرایاتو وہ ہلاکت میں مبتلا ہو۔ ‘‘  تو میں نے آمین کہی۔ ‘‘

  (المستدرک،کتاب البر والصلۃ،باب لعن اللہ  العاق لوالدیہالخ،الحدیث: ۷۳۳۸،ج۵،ص۲۱۲)

ہزار مہینوں سے افضل رات

{23}…حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے شعبان المعظم کے آخری دن ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’ اے لوگو!  برکتوں اور عظمتوں والا مہینہ آگیا ہے، وہ مہینہ کہ جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار 1000مہینوں سے بہتر ہے ،وہ مہینہ کہ جس کے روزے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے فرض فرمائے ہیں اور اس کی رات میں قیام کو نفل  (یعنی سنت)  فرمایا ہے، جس نے اس مہینے میں کوئی نیک کام کیا گویا اس نے دیگر مہینوں میں فرض ادا کیا اور جس نے اس مہینے میں ایک فرض ادا کیا گویا اس نے دیگر مہینوں میں 70فرائض ادا کئے، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے، یہ غمگساری کا مہینہ ہے، اس مہینے میں مؤمن کے رزق میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، اس مہینے میں جو کسی مسلمان کو روزہ افطار کرائے گا تو وہ اس کے گناہوں کی مغفرت کا باعث ہو گا اور اس کی گردن  (جہنم کی)  آگ سے آزاد کر دی جائے گی، نیز اسے اس روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا اور روزہ دار کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی۔ ‘‘

                راوی فرماتے ہیں ، ہم نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ہم میں سے ہر ایک روزہ دار کو افطار کرانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ یہ ثواب اسے عطا فرمائے گا جو روزہ دار کو ایک کھجور، ایک گھونٹ پانی یا دودھ کے ایک گھونٹ سے افطار کرائے گا، اس مہینے کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے نجات کا ہے، جو اس مہینے میں اپنے غلام پر تخفیف کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کی مغفرت فرما کر اسے جہنم سے آزاد فرما دے گا، اس مہینے میں 4کاموں کی کثرت کرو: 2خصلتیں ایسی ہیں کہ جن کے ذریعے تم اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کو راضی کر سکتے ہو اور 2خصلتیں ایسی ہیں کہ جن سے تم بے نیاز نہیں ہو سکتے،وہ 2خصلتیں جن کے ذریعے تم اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو راضی کرسکتے ہو:  وہ (۱) لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی گواہی اور  (۲) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے استغفار ہے، جبکہ وہ 2خصلتیں جن سے تم بے نیاز نہیں ہو سکتے:  وہ  (۱) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے جنت کا سوال کرنا اور  (۲) جہنم سے اس کی پناہ چاہنا ہے اور جو شخص اس مہینے میں کسی روزہ دار کو سیراب کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے میرے حوض سے ایسا شربت پلائے گا جس کے بعد وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا۔ ‘‘   (صحیح ابن خزیمۃ،کتاب الصیام،باب فضائل شہررمضانالخ،الحدیث: ۱۸۸۷،ج۳،ص۱۹۱)