Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کبیرہ نمبر141:                         

ماہِ رمضان کا کوئی روزہ توڑدینا

یعنی کسی عذر مثلاًسفر اور مرض کے بغیر رمضان المبارک کا کوئی روزہ چھوڑ دینا یا کسی مفسدِ صوم چیز کے ذریعے روزہ توڑ دینا

{1}…حضرت سیدناابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے مروی ہے کہ نبی ٔکریم ،رء ُوف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اسلام کے کڑے اور دین کے 3ستون ہیں جن پر اسلام کی بنیاد قائم ہے، جس نے ان میں کسی ایک کو ترک کیا وہ کافر ہے اس کا خون حلال ہے:   (۱) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں ،  (۲) فرض نماز اور  (۳) رمضان المبارک کے روزے۔ ‘‘                      (مسند ابی یعلیٰ الموصلی ، الحدیث:  ۲۳۴۵،ج۲،ص۳۷۸)

{2}…جبکہ ایک اور روایت میں ہے :  ’’ جس نے ان میں سے کسی ایک کو چھوڑا وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا منکر ہے اور اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت مقبول نہیں اور اس کا خون اور مال حلال ہے۔ ‘‘

 (الترغیب والترہیب ، کتاب الصلوۃ ، باب الترہیب من ترک الصلوٰۃالخ ، الحدیث: ۸۲۱،ج۱،ص۲۵۹)

{3}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے کسی رخصت اور مرض کے بغیر رمضان المبارک کا ایک روزہ چھوڑا وہ ساری زندگی کے روزے رکھے تب بھی اس کی کمی پوری نہیں کر سکتا۔ ‘‘

 (جامع الترمذی،ابواب الصوم ، باب ماجاء فی الافطارمتعمداً ،الحدیث:  ۷۲۳،ص۱۷۱۸)

{4}…حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مرفوعاًروایت ہے :  ’’ جس نے رمضان المبارک کے ایک دن کا روزہ کسی عذریا مرض کے بغیر توڑ دیا اگرچہ و ہ ساری زندگی کے روزے رکھے اس کی کمی پوری نہیں کر سکتا۔ ‘‘

 (صحیح البخاری، کتاب الصوم ، باب (۲۹)  اذا جامع فی رمضان،ص۱۵۱)

{5}…حضرت سیدناعلی المرتضی  اور ابن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ جس نے رمضان المبارک کے ایک دن کا روزہ توڑ دیا ساری زندگی کے روزے اس کی کمی پوری نہیں کر سکتے۔ ‘‘  (المرجع السابق)

                سیدناامام نخعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اس میں مبالغہ کرتے ہوئے رمضان المبارک کاایک روزہ چھوڑنے والے پر 3000دنوں کے روزے واجب ہونے کاقول فرمایا، جبکہ حضرت سیدنا ابن مسیب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ اس پر رمضان المبارک کے ہر دن کے عوض 30دن کے روزے واجب ہیں ، حضرت سیدنا امام مالک رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے استاذ سیدنا ربیعہرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ ہر دن کے عوض 12دن کے روزے رکھنا واجب ہے۔ ‘‘ جبکہ اکثر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا یہ کہنا ہے :  ’’ ہر دن کے بدلے ایک ہی روزہ کافی ہے اگرچہ وہ سال کے سب سے چھوٹے دن کا روزہ ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے فرمان سے ظاہر ہے:

فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَؕ-  (پ۲، البقرۃ: ۱۸۴)

ترجمۂ کنز الایمان  : تو اتنے روزے اور دنوں میں ۔

{6}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میں سو رہا تھا اچانک میرے پا س دو شخص آئے، انہوں نے مجھے میرے بازو سے تھاما اور ایک بلند پہاڑ کے پاس لے آئے اور بولے ’’ اوپر تشریف لے چلیں ۔ ‘‘  میں نے کہا:  ’’ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ ‘‘ وہ بولے :  ’’ ہم اسے آپ کے لئے آسان کر دیں گے۔ ‘‘  لہذا میں اوپر چڑھنے لگا یہاں تک کہ جب میں پہاڑکے درمیان پہنچا تو خوفناک آوازیں آنے لگیں ، میں نے پوچھا:  ’’ یہ آوازیں کیسی ہیں ؟ ‘‘  انہوں نے جواب دیا :   ’’ یہ جہنمیوں کے چیخنے کی آوازیں ہیں ۔ ‘‘  پھر وہ مجھے لے کر ایسے لوگوں کے پاس آئے جوگُھٹنوں کے بل لٹکے ہوئے تھے، ان کے جبڑوں سے خون بہہ رہا تھا، میں نے پوچھا ’’ یہ لوگ کون ہیں ۔ ‘‘ جواب ملا :  ’’ یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ افطارکرنے کاجائز وقت ہونے سے پہلے ہی روزہ افطار کر لیتے تھے۔ ‘‘

 (صحیح ابن خزیمہ ، کتاب الصیام، باب ذکر تعلیق المفطرین قبل وقتالخ، الحدیث:  ۱۹۸۶،ج۳،ص۲۳۷)

{7}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اسلام میں 4چیزیں فرض فرمائی ہیں ، جس نے ان میں سے 3پر عمل کیا تو وہ اسے کسی کام نہ آئیں گی جب تک کہ وہ ان تمام کو ادا نہ کرے:   (۱) نماز (۲) زکوٰۃ  (۳) رمضان المبارک کے روزے اور  (۴) بیت اللہ  شریف کا حج۔ ‘‘   (المسندللامام احمد بن حنبل، الحدیث:  ۱۷۸۰۴،ج۶،ص۲۳۶)

{8}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے حضر  (یعنی قیام کی حالت)  میں رمضان المبارک کا ایک روزہ افطار کیا اسے چاہئے کہ ایک گائے قربان کرے۔ ‘‘

 (سنن الدارقطنی ، کتاب الصیام ، باب القبلۃ للصائم، الحدیث : ۲۲۸۵،ج۲،ص۲۴۲)

تنبیہ:

                علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی تصریح کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور اس کی دلیل اوپر مذکور ہو چکی ہے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ واجب جس کے وقت میں تنگی ہو یعنی جس کا کوئی مخصوص وقت مقرر ہو مثلاًمنت کا روزہ تو اسے بھی بغیر عذر توڑ دینا کبیرہ گناہ ہے۔

                یاد رکھیں !  اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کی وعیدوں کے روزے کی وعیدوں سے زیادہ آنے کی حکمت یہ ہے کہ کوئی شخص قدرت کے باوجود سستی کرتے ہوئے اسے ترک نہیں کرتا جبکہ اکثرلوگ نماز اور زکوٰۃ میں سستی کرتے ہیں حالانکہ وہی لوگ روزوں کی پابندی کرتے ہیں اس لئے آپ نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہو گا کہ وہ روزہ رکھتے ہیں مگر نماز نہیں پڑھتے اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو رمضان المبارک کے علاو ہ نماز پڑھتے ہی نہیں ۔

 

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر142:                   

ماہِ رمضان کے قَضاء روزوں میںجان بوجھ کر تاخیر کرنا

                اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا بھی بالکل ظاہر ہے اگرچہ میں نے کسی کو اس کی صراحت کرتے ہوئے نہیں پایا کیونکہ یہ بات تو ثابت ہو چکی ہے کہ جو رمضان المبارک کا روزہ جان بوجھ کر چھوڑے وہ فاسق



Total Pages: 320

Go To