Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا؟ اے ابنِ آدم!  میں نے تجھ سے کھانا مانگا مگر تُو نے مجھے نہیں کھلایا۔ ‘‘  بندہ عرض کرے گا:  ’’ یا رب عَزَّ وَجَلَّ !  میں تجھے کھاناکیسے کھلاتا توُتو رب العالمین ہے؟ ‘‘  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا:  ’’ کیا تُو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا مگر تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا؟ کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اس کا اَجر میرے پاس پاتا؟ اے ابنِ آدم!  میں نے تجھ سے پانی مانگامگر تُونے مجھے نہیں پلایا۔ ‘‘  بندہ عرض کرے گا:  ’’ یا رب عَزَّ وَجَلَّ !  میں تجھے پانی کیسے پلاتا توتو رب العالمین ہے؟۔ ‘‘  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا:  ’’ کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا مگر تو نے اسے نہیں پلایا؟ کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اسے پانی پلاتا تو اس کا ثواب میرے پاس پاتا؟ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب البر،باب فضل عیادۃ المریض، الحدیث:  ۶۵۵۶،ص۱۱۲۸)

{43}…حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کی والدہ محترمہ جہانِ فانی سے کوچ فرما گئیں تو انہوں نے مَحبوبِ ربُّ العٰلمین، جنابِ صادق وامین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  میری والدہ محترمہ وصیت کئے بغیر وفات پا گئی ہیں ، اگر میں ان کی طرف سے ایصالِ ثواب کروں تو کیا وہ صدقہ انہیں نفع دے گا؟ ‘‘  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا ’’ ہاں اور تمہیں چاہئیے کہ پانی صدقہ کرو۔ ‘‘                          (المعجم الاوسط،الحدیث:  ۸۰۶۱،ج۶،ص۷۷)

{44}…حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اللّٰہکے محبوب،دانائے غیوب ،منزہ عن العیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ بابرکت میں عرض کی، ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کون سا صدقہ افضل ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ پانی پلانا۔ ‘‘     (صحیح ابن حبان،کتاب الزکاۃ،باب صدقۃ التطوع ،الحدیث: ۳۳۳۷،ج۵،ص۱۴۵)

{45}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے کنواں کھدوایااس میں سے جوپیاسے جگروالاجن،انسان یاپرندہ پئے گااللّٰہعَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اسے اَجرعطافرمائے گا۔ ‘‘

 (صحیح ابن خزیمہ، کتاب الصلاۃ،باب فی فضل المسجدالخ،الحدیث: ۱۲۹۲،ج۲،ص۲۶۹)

 {46}…ایک شخص نے حضرت عبد اللہ  بن مبارک رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے اپنے گھٹنے پرموجود7سالہ ناسور کے بارے میں پوچھا کہ میں بہت سے طبیبوں سے علاج کرا چکا ہوں تو آپ نے اسے ایسی جگہ کنواں کھدوانے کا حکم دیا جہاں لوگ پانی کے محتاج ہوں اور اس سے ارشاد فرمایا:  ’’ مجھے اُمید ہے کہ جیسے ہی اس سے چشمہ پھوٹے گا تمہارا خون بند ہو جائے گا۔ ‘‘

 (شعب الایمان،کتاب الصلاۃ،باب فی الزکاۃ،فصل فی اطعام الطعامالخ،الحدیث: ۳۳۸۱،ج۳،ص۲۲۱)

{47}…سیدناامام بیہقی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہروایت کرتے ہیں کہ میرے استاذ حاکم ابو عبد اللہ  ’’ صَاحِبُ الْمُسْتَدْرِک ‘‘ کے چہرے پر ایک پھوڑا نکل آیا، سال بھر علاج معالجہ جاری رہا مگر کوئی فائدہ نہ ہواتوعاجزآکراستاذابوعثمان صابونی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسے درخواست کی کہ وہ جمعہ کے دن اپنی مجلس میں میرے لئے دعا فرمائیں ، آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے دعا فرمائی توکافی لوگوں نے اس پر  آمین کہی، اگلے جمعہ کو ایک عورت نے مجلس میں ایک خط بڑھایا اس میں لکھا تھا کہ میں نے گھر لوٹنے کے بعد اس رات حاکم کے لئے خوب دعاکی تو خواب میں مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو گویا ارشاد فرماتے ہوئے سنا :  ’’ ابو عبد اللہ  سے کہو کہ وہ مسلمانوں پر پانی کی وسعت کرے۔ ‘‘  پھر وہ رقعہ حاکم کے پاس لایا گیا تو انہوں نے اپنے گھر کے دروازے پر حوض بنانے کا حکم دیا جب مزدور اس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اس میں پانی بھرکر برف ڈال دی اور لوگ اس میں سے پینے لگے ابھی ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ شفاء کے آثار ظاہر ہونے لگے اور وہ ناسور ختم ہو گیا اور ان کا چہرہ پہلے سے زیادہ خوب صورت ہو گیا اس کے بعد آپ کئی سال تک زندہ رہے۔      (المرجع السابق،ج۳،ص۲۲۲)

{48}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ 7عمل ایسے ہیں جو بندے کی موت کے بعد بھی جاری رہتے ہیں جبکہ وہ اپنی قبر میں ہوتا ہے:   (۱) جس نے علم سکھایا  (۲) نہر جاری کی  (۳) کنواں کھدوایا  (۴) درخت لگایا  (۵) مسجد بنائی (۶) ترکے میں قرآن یا (۷) نیک بچہ چھوڑا جو اس کی موت کے بعد اس کے لئے دعائے مغفرت کرتا رہے۔ ‘‘   (مجمع الزوائدو منبع الفوائد، کتاب العلم، باب فیمن سن خیراًاو غیرہ الخ، الحدیث:  ۷۶۹،ج۱،ص۴۰۸)

{49}…حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  میری والدہ محترمہ فوت ہو گئی ہیں لہٰذا کون سا صدقہ افضل ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ پانی۔ ‘‘  تو انہوں نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا:  ’’ ھٰذِہٖ لِاُمِّ سَعْدٍیعنی یہ کنواں سعد کی والدہ ماجدہ  (کے ایصالِ ثواب )  کے لئے ہے۔ ‘‘    ([1])    (سنن ابی داؤد، کتاب الزکاۃ ، باب فی فضل سقی الماء ، الحدیث:  ۱۶۸۱،ص۱۳۴۸)

{50}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ کوئی صدقہ پانی سے زیادہ اجر والا نہیں ۔ ‘‘

 (شعب الایمان، باب فی الزکاۃ ، فصل فی اطعام الطعام وسقی المائ، الحدیث:  ۳۳۷۸،ج۳،ص۲۲۱)

                یعنی جس جگہ پانی کی احتیاج زیادہ ہو وہاں پانی سے زیا دہ اجر والا کوئی صدقہ نہیں ۔یہ مضمون دیگر احادیثِ مبارکہ سے لیا گیا ہے اور اگر وہاں پانی سے زیادہ کسی اور چیز کی حاجت ہو تو اسے صدقہ کرنا افضل ہے۔

 

 

 

٭…٭…٭…٭…٭…٭

کتاب الصیام

روزوں کا بیان

کبیرہ نمبر140:                         

ماہِ رمضان کا کوئی روزہ چھوڑدینا

 



[1] ۔۔۔۔ امیر اہلِ سنت امیر دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطاؔرقادری دامت برکاتہم العالیہ اپنی مایہ ناز کتاب’’ نماز کے احکام ‘‘میں یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں :’’ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  سیدنا سعد