Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ترجمۂ کنز الایمان : ہے کوئی جو اللہ  کو قرض حسن دے تو اللہ  اس کے لئے بہت گنا بڑھا دے۔

                دوبارہ عرض کی گئی، ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کون سا صدقہ افضل ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جو فقیر کو پوشیدہ طور پر دیا جائے یا تنگدست اپنی ممکنہ کوشش سے دے۔ ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَۚ-وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْؕ-  (پ۳، البقرۃ: ۲۷۱)

ترجمۂ کنز الایمان  :  اگر خیرات علانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگر چھپا کر فقیروں کو دو یہ تمہارے لئے سب سے بہتر ہے۔

 (المعجم الکبیرالحدیث: ۷۸۹۱،ج۸،ص۲۲۶)

{28}…سرکارِ ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے کسی مسلمان کو لباس پہنایا جب تک اس میں سے کوئی دھاگا یا لڑی اس کے بدن پر رہے لباس پہنانے والا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی حفاظت میں رہے گا۔ ‘‘

 (المستدرک ، کتاب اللباس، باب من کسامسلماً ثوباً الخ،الحدیث:  ۷۴۹۹،ج۵،ص۲۷۵)

{29}…شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو مسلمان کسی برہنہ مسلمان کو لباس پہنائے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے جنت کا سبز لباس پہنائے گا، جو مسلمان کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے جنت کے پھل کھلائے گا اور جو مسلمان کسی پیاسے مسلمان کو پلائے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے مہرلگی ہوئی عمدہ لذیذ شراب پلائے گا۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد، کتاب الزکاۃ ، باب فی فضل سقی المائ، الحدیث:  ۱۶۸۲،ص۱۳۴۸)

{30}…رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مسکین پر صدقہ کرنے میں ایک ہی صدقہ ہے جبکہ رشتہ داروں پر صدقہ کرنے میں دو صدقے ہیں ، صدقہ اور صلہ رحمی۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب الزکاۃ ، باب ماجاء فی صدقۃ علی ذی القرابۃ،الحدیث:  ۶۵۸،ص۱۷۱۱)

{31}…نبیٔ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے دریافت کیا گیا :  ’’ کون سا صدقہ افضل ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جو کینہ پرور رشتہ دار پر کیا جائے۔ ‘‘    (المسندللامام احمدبن حنبل ، الحدیث:  ۱۵۳۲۰،ج۵،ص۲۲۸)

{32}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے دودھ دینے والا جانور یا درہم ادھار دئیے یا کسی کو راستہ بتایا تو اس کا یہ عمل ایک جان آزاد کرنے کی طرح ہے۔ ‘‘  (جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی المنحۃ ، الحدیث:  ۱۹۵۷،ص۱۸۴۸)

{33}…نبی ٔکریم،رء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہر قرض صدقہ ہے۔ ‘‘

 (المعجم الاوسط،الحدیث: ۳۴۹۸،ج۲،ص۳۴۵)

{34}…رسولِ اکرم، شفیعِ معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ میں نے معراج کی رات جنت کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا : بے شک صدقہ  (کا اجر)  10گنا ہے جبکہ قرض  (کا اجر)  18گنا ہے۔ ‘‘

 (شعب الایمان للبیہقی،باب فی الزکاۃ،فصل فی القرض،الحدیث: ۳۵۶۶،ج۳،ص۲۸۵)

{35}…حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو مسلمان کسی مسلمان کو دو مرتبہ قرض دے تو وہ دونوں قرض اس کے لئے ایک مرتبہ صدقہ کرنے کی مثل شمار ہوتے ہیں ۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجہ، ابواب الصدقات، باب القرض ،ا لحدیث:  ۲۴۳۰،ص۲۶۲۲)

{36}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِالْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے تنگدست پر نرمی کی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ دنیا وآخرت میں اس پر نرمی فرمائے گا۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعا،باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآنالخ ، الحدیث:  ۶۸۵۳،ص۱۱۴۷)

کھاناکھلانے،پانی پلانے اور سلام کو عام کرنے کی فضیلت:

{37}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے دریافت کیا گیا :  ’’ کون سا اسلام افضل ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ یہ کہ تم بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور جسے جانتے ہو یا نہ جانتے ہو سب کو سلام کرو۔ ‘‘

 (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب اطعام الطعام من الاسلام ، الحدیث:  ۱۲،ص۳)

{38}…حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ میں نے دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ اقدس میں عرض کی، ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  مجھے ہر شئے کی حقیقت کے بارے میں بتائیے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ ‘‘  میں نے پھر عرض کی، ’’ مجھے ایسا کام بتائیے جسے کرنے سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں ۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا ’’ کھانا کھلاؤ، سلام عام کرو، صلہ رحمی کرو اور رات میں جبکہ لوگ سو رہے ہوں نماز ادا کیا کرو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ ‘‘

 (المستدرک ، کتاب البر والصلۃ ، باب ارحموا اھل الارض یرحمکمالخ، الحدیث: ۷۳۶۰، ج۵، ص۲۲۲ (

{39}…حضرت عبد