Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کھلاہے۔ ‘‘  حضرت خضر (عَلَیْہِ السَّلَام )  نے ارشاد فرمایا ’’ میں یہ چاہتا ہوں کہ تم مجھے جانے دو تا کہ میں اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کی عبادت کر سکوں ۔ ‘‘  تو اس نے آپ (عَلَیْہِ السَّلَام ) کو رخصت کردیا، آپ نے دعا فرمائی:  ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَوْثَقَنِیْ فِی الْعُبُوْدِیَّۃِ ثُمَّ نَجَانِیْ مِنْھَا یعنی تمام تعریفیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی کے لئے ہیں جس نے مجھے غلامی میں ڈالا پھر اس سے نجات عطا فرمائی۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۷۵۳۰،ج۸،ص۱۱۳)

تنبیہ:

                ان دونوں گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنے کی وجہ صحیح حدیثِ پاک میں ان پر وارد لعنت ہے اور دوسرا یہ کہ جس سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نام پر سوال کیا جائے اور وہ عطا نہ کرے تو وہ لوگوں میں بدترین شخص ہے جیسا کہ بعد والی حدیثِ پاک میں ہے، مگر ہمارے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس سے استدلال نہیں کیا بلکہ ان دونوں کاموں کو مکروہ قرار دیا ہے اور کبیرہ تو درکنار انہیں حرام بھی نہیں قراردیا اور حدیثِ پاک میں  ’’ سائل کو نہ دینے ‘‘  پرواردوعیدکو اس پر محمول کرنا بھی ممکن ہے کہ یہاں مراد وہ سائل ہے جو انتہائی مجبور ہو۔

                اس پر نص وارد کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نام پر سوال کرنا اور مجبور ہونے کے باوجودسائل کو نہ دینا قبیح  ترین اَمر ہے اورحکمِ منع کوسوال پر محمول کرنا بھی ممکن ہے جبکہ وہ مانگنے میں اصرار کرے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نام پر کثرت سے سوال کرے یہاں تک کہ جس سے سوال کیا جائے وہ مجبور ہو جائے اور اسے تکلیف دے تو اس صورت میں دونوں پر لعنت ہو گی اور دونوں کا کبیرہ ہونا ظاہر ہے اور ہمار ے اصحابِ شوافع رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے بھی اس کا انکار نہیں کیا بلکہ ان کا کلام محض اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نام پر سوال کرنے اور اس طرح سوال کرنے والے کو کچھ نہ دینے کے بارے میں ہے، حالتِ اضطرار کی قید نہیں اور اس سے ہمارے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے کلام اور گذشتہ احادیثِ پاک میں تطبیق واضح ہو جاتی ہے۔

                سیدنا حلیمی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاپنی کتاب  ’’ مِنْھَاج  ‘‘ میں لکھتے ہیں :  ’’ کوئی گناہ ایسا نہیں جس میں صغیرہ اور کبیرہ نہ ہو اور کبھی کسی قرینہ کے ملنے سے صغیرہ کبیرہ بن جاتاہے اور کبھی کبیرہ فاحشہ کسی قرینہ کے ملنے کی وجہ سے صغیرہ بن جاتاہے، مگر یہ کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی ذات کے ساتھ کفر نہ ہو کیونکہ یہ کبیرہ ترین ہے اور اس نوع کا کوئی گناہ صغیرہ نہیں ۔ ‘‘ پھر فرماتے ہیں :  ’’ زکوٰۃ ادانہ کرنا کبیرہ گناہ ہے اور سائل کو عطا نہ کرنا صغیرہ ہے اور اگر سائل کو نہ دینے اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے کو جمع کر دیا جائے یا پھر دینا ایک کی طرف سے ہو لیکن وہ روکنے میں سختی اور جھڑکی سے کام لے تو یہ بھی کبیرہ ہوگا،اسی طرح اگر محتاج نے کسی آدمی کو دیکھا جو کھانے پر وسعت رکھتا ہو پس اس نے اس کی طرف اپنے آپ کو مائل کیا اور اس سے مانگا لیکن اس نے نہ دیا تو یہ بھی کبیرہ گناہ ہے۔

اعتراض:  علامہ اذرعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اس کلام کہ ’’ سائل کو لوٹانا صغیرہ گناہ ہے اور محتاج کے مانگنے پر خوشحال کا نہ دینا کبیرہ گناہ ہے۔ ‘‘ پراعتراض کرتے ہوئے فرمایا:  ’’  ان دونوں میں اشکال ہے مگر یہ کہ ان کی تاویل کی جائے اور سیدنا حلیمی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کے کلام میں تاویل کی گنجائش نہیں ۔ ‘‘

جواب: سیدنا جلال بلقینی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس کا جواب یہ دیاکہ میں کہتا ہوں :  ’’ دوسرا کلا م مجبور کے بارے میں ہے اور پہلا کلام ایسے شخص سے مانگنے والے کے بارے میں ہے جس پر زکوٰۃ فرض ہے،اوروہ ایسے شہر میں ہو جس کے فقراء قیدمیں ہوں ۔ ‘‘  پس سیدنا حلیمی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کے کلام کی تاویل کرتے ہوئے سیدناجلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے جو ذکر کیا وہ میرے مؤقف کی تائید میں واضح ہے۔

                ہاں !  سیدناجلال بلقینیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا اطلاق یہ ہے کہ جو بعد میں مذکور ہوا وہ صغیرہ ہے یہ تودیکھنے میں بھی ظاہرہے،بے شک جب انہوں نے ان کو تین قسموں میں شمار کیا تو سب سے کم درجہ ان لوگوں کا ہے جو مکمل طور پر زکوٰۃ کے مالک ہو گئے لہٰذااس صورت میں ان میں سے کسی کا نہ دینا بلاشبہ کبیرہ ہے اور اگراس میں حصرکریں تویہ مالک پرتمام کوگھیرنے کے وجوب کا تقاضا کرتا ہے کہ و ہ مال پورااداکرے غورکروکہ اس وقت روکنا صغیرہ ہو گا کیونکہ عمومی طور پر اس پر واجب ہے لیکن وہ مکمل طور پر مالک نہیں ہوتے  لہٰذا نہ دینا صغیرہ ہو گا کبیرہ نہیں اور علامہ جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا کلام اسی حالت کے بارے میں ہے۔

صدقہ کے فضائل،اَحکام اوراقسام

                میں نے اس سلسلے میں ایک کتاب تالیف کی ہے اس میں درج فضائل، احکام، فوائد اور فروع سے بے نیازی نہیں برتی جا سکتی، لہٰذا آپ پر اس کو اختیار کرنا لازم ہے۔ جان لیجئے کہ میں نے اس خاتمہ میں جو احادیثِ مبارکہ درج کی ہیں وہ تمام صحیح ہیں مگر کچھ احادیث حسن ہیں لہذا میں نے مُخْرِجِیْن کا ذکر بھی نہیں کیا۔

{7}…حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے حلال کمائی سے کھجور کے برابر صدقہ کیا اور چونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ حلال ہی قبول فرماتا ہے لہٰذا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے بھی برکت کے ساتھ قبول فرماتا ہے اور صدقہ کرنے والے کے لئے اس کی اسی طرح نشوونما فرماتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے  (یعنی گھوڑی کے بچے) کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑکی مثل ہوجاتاہے۔ ‘‘  (صحیح البخاری، کتاب الزکوٰۃ ، باب الصدقۃ من کسب طیب ، الحدیث:  ۱۴۱۰،ص۱۱۱)

{8}… ایک اور روایت میں ہے :  ’’ جیسا کہ تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ ایک لقمہ اُحد پہاڑ کی مثل ہو جاتا ہے،اور اس کی تصدیق اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی کتاب میں اس طرح ہے:

{۱}

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ  (پ۱۱، التوبۃ: ۱۰۴)

ترجمۂ کنز الایمان : کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ  ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے خود اپنے دست ِقدرت میں لیتاہے۔

{۲}

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ-  (پ۳، البقرۃ: ۲۷۶)

ترجمۂ کنز الایمان : اللہ  ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو۔

 (الترغیب والترہیب ، کتاب الصدقات ، باب ترغیب فی الصدقۃالخ، الحدیث:  ۱۲۷۱،ج۱،ص۴۰۷)

{9}…رحمتِ عالم ،نورِمجسم ،شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ صدقہ مال میں کوئی کمی نہیں کرتا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ عفو کے بدلے بندے کی عزت میں اضافہ فرما دیتا ہے اور جو شخص اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے عاجزی کرتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرما تا ہے۔ ‘‘     (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ ، باب استحباب العفووالتواضع ، الحدیث:  ۶۵۹۲،ص۱۱۳۰)

{10}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور  بندہ جب صدقہ کرنے کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہے تو سائل کے ہاتھ میں جانے سے پہلے ہی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے راضی ہو کر اسے قبول فرما لیتا ہے۔ ‘‘                         (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۱۲۱۵۰،ج۱۱،ص۳۲۰)

{11}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو بندہ غنی ہونے کے باوجود اپنے لئے سوال کا دروازہ کھولتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ ‘‘  



Total Pages: 320

Go To