Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

(سنن ابن ماجہ، ابواب الرھون، باب المسلمون شرکاء فی ثلاث، الحدیث: ۲۴۷۴،ص۲۶۲۵)

{6}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مسلمان تین چیزوں پانی، گھاس اور آگ میں شریک ہیں اور ان کی قیمت  (یعنی انہیں بیچ کرلی گئی رقم )  حرام ہے۔ ‘‘

 ( سنن ابن ماجہ، ابواب الرھون، باب المسلمون شرکاء فی ثلاث، الحدیث: ۲۴۷۲،ص۲۶۲۵)

                حضرت سیدنا ابو سعید رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’  اس سے مراد جاری پانی ہے۔ ‘‘

تنبیہ:

                شیخین کی تصریح کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا بالکل صریح ہے، پہلی حدیثِ پاک میں تو سخت وعید آئی ہے اور ایک جماعت نے اس کی تصریح کی ہے، جن میں سیدنا جلالُ الدِّین بُلْقِینِْیُّ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہبھی شامل ہیں ، انہوں نے بھی اس شرط کو معتبر قرار دیا ہے جو ہم نے عنوان کے تحت ذکر کی ہے۔

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر137                       

مخلوق کی ناشکری کرنا

                        یعنی مخلوق کی ایسی ناشکری کرناجس سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی ناشکری لازم آئے۔

{1}…حضرت سیدنا عبد اللہ  بن عمررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے مروی ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دو، جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نام پر تم سے سوال کرے اسے دیا کرو، جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نام پر تم سے فریاد رسی چاہے اس کی مدد کرو، جو تم سے بھلائی کے ساتھ پیش آئے تو اسے اچھا بدلہ دو اور اگر تم اس کی استطاعت نہ رکھو تو اس کے لئے اتنی دعا کروکہ تمہیں یقین ہو جائے کہ اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔ ‘‘

 (سنن النسائی، کتاب الزکاۃ ، باب من سال باللہ  عَزَّ وَجَلَّ، الحدیث:  ۲۵۶۸،ص۲۲۵۴)

{2}…ایک اورروایت میں ہے :  ’’ پھر اگر تم اس کا بدلہ دینے سے عاجز رہو تو اس کے لئے اتنی دعائیں مانگو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ اس کا شکریہ ادا کر چکے ہو کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّشاکر  (یعنی شکر قبول کرنے والا)  ہے اور شکر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ ‘‘

 (المعجم الاوسط،الحدیث:  ۲۹،ج۱،ص۱۸)

{3}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جسے کچھ عطا کیا گیا اگر وہ وسعت پائے تو اس کابدلہ ضرور دے اور اگر وسعت نہ پائے تو اس کی تعریف ہی کر دے کیونکہ جس نے تعریف کی اس نے شکر ادا کیا اور جس نے چھپایا اس نے ناشکری کی۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ ، باب ماجاء فی المتشبعالخ، الحدیث:  ۲۰۳۴،ص۱۸۵۵)

{4}…سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس کے ساتھ بھلائی کی گئی اوراُس نے تعریف کے علاوہ کوئی جزاء نہ پائی تب بھی گویا اس نے شکر ادا کیا اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی اور جو کسی باطل شئے سے مزین ہو وہ جھوٹ کا لبادہ پہننے والے کی طرح ہے۔ ‘‘

 (صحیح ابن حبان، کتاب الزکاۃ،باب المسالۃ والاخذوما یتعلق بہ الخ، الحدیث:  ۳۴۰۶،ج۵،ص۱۷۵)

{5}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس پر احسان کیا جائے اور وہ اسے یاد رکھے توگویا اس نے اس کا شکر ادا کیا اور اگروہ اسے چھپائے تو اس نے ناشکری کی۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی شکر المعروف، الحدیث:  ۴۸۱۴،ص۱۵۷۷)

{6}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ بے شک لوگوں میں اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کا سب سے زیادہ شکر گزار بندہ وہی ہے جو ان میں سے لوگوں کا زیادہ شکر گزار ہے۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث الاشعث بن قیس الکندی،الحدیث:  ۲۱۹۰۵،ج۸،ص۱۹۷)

{7}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا شکر گزار نہیں ہو سکتا۔ ‘‘                  (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی شکر المعروف، الحدیث:  ۴۸۱۱،ص۱۵۷۷)

{8}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے اسے چاہئے کہ اسے یاد رکھے کیونکہ جس نے احسان کو یاد رکھاگویا اس نے اس کا شکر ادا کیا اور جس نے اسے چھپایا بے شک اس نے ناشکری کی۔ ‘‘                    (المعجم الکبیر، الحدیث: ۲۱۱،ج۱،ص۱۱۵)

{9}…حضرت سیدنا عبد اللہ  بن احمد رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو تھوڑی چیز کا شکر ادا نہ کرے وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا شکرادا نہیں کر سکتااور جو لوگوں کا شکر ادا نہ کرے وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادانہیں کر سکتا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کا تذکرہ کرنا بھی اس کا شکر ادا کرنا ہی ہے جبکہ اس کی نعمتوں کا اظہار نہ کرنا کفرانِ نعمت (یعنی نعمتوں کی ناشکری)  ہے۔ ‘‘   (المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث النعمان بن بشیر،الحدیث:  ۱۸۴۷۷، ج۶، ص۳۹۴)

{10}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصلَّی ا للہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس کے ساتھ بھلائی کی گئی اور اس نے بھلائی کرنے والے کو جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْراً  (یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّتجھے بہترین جزاء دے)  کہا تووہ ثناء کو پہنچ گیا۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ ، باب ماجاء فی الثناء بالمعروف، الحدیث:  ۲۰۳۵،ص۱۸۵۵)

تنبیہ:

Total Pages: 320

Go To