Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

رضاکے لئے نبی ٔ کریم ، رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی معیت میں جہاد کے دوران خود پر خرچ کرے اور اس کی وجہ سے نبی ٔپاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور مؤمنین پر احسان نہ جتائے اور نہ ہی اس قسم کی باتوں سے کسی مؤمن کو ایذاء دے کہ اگر میں حاضر نہ ہوتا تو یہ کام پورا نہ ہوتا یا کسی سے یہ نہ کہے کہ تم توکمزور ہو جہاد میں تمہاری وجہ سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ‘‘

                اِحسان جتانے سے مراد یہ ہے :  ’’ لینے والے کو اپنے احسان گنوانا یا ایسے شخص کے سامنے اس احسان کا تذکرہ کرنا جس کا آگاہ ہونا صدقہ لینے والے کو ناپسند ہو۔ ‘‘  ایک قول یہ ہے :  ’’ انسان احسان کی وجہ سے خود کو اس شخص سے افضل سمجھے جس پر صدقہ کیا جا رہا ہے۔ ‘‘  اس لئے اسے چاہئے کہ نہ تو ا سے دعا کے لئے کہے اور نہ اس کی طمع رکھے، کیونکہ یہ بعض اوقات اس کے احسان کا عوض ہو جاتی ہے اس طرح اس کا اَجرسا قط ہو جاتا ہے۔

                من ّ یعنی احسان جتانے کی اصل قطع کرنا (یعنی جڑکاٹنا) ہے،اسی لئے اس کا اطلاق نعمت پر ہوتا ہے کیونکہ دینے والا اپنے مال میں اس کے لئے حصہ کاٹتا ہے جس کو مال دیاجارہاہے اور ’’ المنَّۃُ ‘‘ نعمت یابڑی نعمت کوکہتے ہیں ،اسی لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے اسے ’’ مَنَّان ‘‘ یعنی ’’ مُنْعِم  ‘‘ کے لفظ سے متصف فرمایاہے اورمندرجہ ذیل آیتِ مبارکہ،

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ (۳)   (پ۲۹،القلم: ۳)

ترجمہ کنزالایمان: اور ضرور تمہارے لئے بے انتہا ثواب ہے۔

بھی اسی سے ہے۔ ’’ مَمْنُوْن  ‘‘  کامعنی ہے نہ ختم ہونے والااور موت کو ’’ منون ‘‘ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ زندگی کو کاٹ دیتی ہے جبکہ اَذٰی سے مراد کسی کو جھڑکنا،عار دلانا یا گالی دیناہے، یہ بھی احسان جتانے کی طرح اجر و ثواب کو ساقط کر دیتا ہے جیساکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ان آیات میں بیان فرمایاہے۔

                احسان جتانااللہ  عَزَّ وَجَلَّکی اعلیٰ صفات جبکہ ہماری مذموم صفات میں سے ہے کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکااحسان جتانامہربانی ہے اور مخلوق کو اس کا واجب کردہ شکر ادا کرنے کی یاد دہانی ہے جبکہ ہمارا احسان جتانا عار دلاناہوتا ہے کیونکہ صدقہ لینے والا مثال کے طور پر غیر کا محتاج ہونے کی وجہ سے شِکستہ دل ہوتا ہے اور اس کے ہاتھ کے اوپر ہونے کا اعتراف کرتا ہے، لہٰذا جب دینے والا اپنی نعمت کا اظہار کرے یا برتری جتائے یا اس احسان کے عوض کوئی خدمت یاشکر کا مطالبہ کرے تو یہ چیز لینے والے کے نقصان، شِکستہ دلی، عار محسوس کرنے اور دل کے ٹوٹنے میں اضافہ کرتی ہے جو کہ عظیم قباحتیں ہیں کیونکہ اس میں احسان جتانے والے کے لئے ملکیت، فضل اور اس مالکِ حقیقی عَزَّ وَجَلَّ  سے غفلت پائی جاتی ہے جو کہ عطا فرما کر خوش ہوتا ہے اور اس عطا وبخشش پر سب سے بڑھ کرقادر ہے۔

                لہٰذا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ کو پیشِ نظر رکھنا اور اس کا شکر ادا کرتے رہنا واجب ہے نیز اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل و جود میں اس سے جھگڑنے کی طرف لے جانے والی چیزوں سے بچنا بھی واجب ہے کیونکہ احسان وہی جتاتا ہے جو اس بات سے غافل ہوتا ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّہی عطا کرنے والا اور فضل فرمانے والا ہے۔

                حضرت عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں کہ میرے والد گرامی فرمایا کرتے تھے :  ’’ جب تم کسی شخص کو کوئی چیز دو اور دیکھو کہ تمہارا سلام کرنا اس پر گراں گزرتا ہے مثلاً وہ تمہارے احسان کی وجہ سے تمہارے لئے کھڑا ہونے کا تکلُّف کرتا ہے تو اسے سلام کرنے سے رُک جاؤ۔ ‘‘

                سیدناامام ابن سیرین علیہرحمۃاللہ  المبین نے ایک شخص کو سنا کہ وہ دوسرے سے کہہ رہا تھا :  ’’ میں نے تیرے ساتھ بھلائی کی اور یہ کیا، وہ کیا۔ ‘‘  تو آپ رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس شخص سے فرمایا:  ’’ خاموش ہو جاؤ، جب نیکی کو شمار کیا جائے تو اس میں کوئی بھلائی نہیں رہتی۔ ‘‘         (تفسیرقرطبی،سورۃ البقرۃ تحت الآیۃ: ۲۶۴،ج۲،ص۲۳۶)

{2}…حضرت سیدنا ابو ذر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان  ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن تین شخصوں سے نہ کلام فرمائے گا، نہ ان پر نظرِ رحمت فرمائے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہو گا۔ ‘‘  راوی کہتے ہیں کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بات 3مرتبہ ارشادفرمائی تو میں نے عرض کی، ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ذلیل و رسوا ہونے والے وہ لوگ کون ہیں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’  (۱) کپڑا لٹکانے والا  (۲) احسان جتانے والا اور  (۳) جھوٹی قسم اٹھا کر مال بیچنے والا۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم اسبال الازارالخ،الحدیث: ۲۹۳،ص۶۹۶)

{3}…ایک اور روایت میں ہے :  ’’ وہ احسان جتانے والا جو احسان جتائے بغیر کچھ نہیں دیتا۔ ‘‘

 (المرجع السابق،الحدیث: ۲۹۴،ص۶۹۶)

{4}…جبکہ دوسری روایت میں ہے ’’ اپنا تہبند لٹکانے والا۔ ‘‘          (المرجع السابق،الحدیث: ۲۹۴،ص۶۹۶)

{5}…نبی ٔ کریم،رء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن 4افراد پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا:   (۱) اپنے والدین کا نافرمان (۲) مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی مردانی عورت  (۳)  شراب کا عا دی اور  (۴) تقدیر کا منکر۔ ‘‘                              (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۷۹۳۸،ج۸،ص۲۴۰)

{6}…رسولِ اکرم، شفیعِ معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ احسان جتانے والا، والدین کا نافرمان اور شراب کا عادی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ ‘‘  (سنن النسائی ، کتاب الاشربۃ، باب الروایۃ فی المدمنین فی الخمر،الحدیث:  ۵۶۷۵،ص۲۴۴۹)

{7}…حضور نبی ٔ کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن 3افراد پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا:   (۱) احسان جتلانے والا  (۲) اپنا تہبند لٹکانے والا اور  (۳)  شراب کا عادی ۔ ‘‘  (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۱۳۴۴۲،ج۱۲،ص۲۹۸)

{8}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِالْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن3افراد پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا:   (۱) اپنے والدین کا نافرمان  (۲)  مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی مردانی عورت اور  (۳) دیُّوث۔اور تین افراد جنت میں داخل نہ ہوں گے:   (۱) والدین کا نافرمان  (۲)  شراب کا عا دی اور  (۳) دے کر احسان جتانے والا۔ ‘‘     (سنن النسائی،کتاب الزکاۃ،باب المنان بمااعطیٰ،الحدیث: ۲۵۶۳،ص۲۲۵۳)

{9}…