Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

حاجت سے زائد وہ شئے مانگے جو اسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے عطا فرمائی ہے لیکن وہ اس پر بخل کرے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ جہنم سے ایک اژدھا نکالے گا جس کا نام شجاع ہو گا وہ منہ سے زبان نکالے ہو گا پھر وہ اس شخص کے گلے کا طوق بن جائے گا۔ ‘‘              (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۵۵۹۳،ج۴،ص۱۶۷)

{2}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اس ذاتِ پاک کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے!  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس شخص کو عذاب نہ دے گا جس نے یتیم پر رحم کیا، اس سے گفتگو میں نرمی کی اور اس کی یتیمی اور کمزوری پر ترس کھایا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے عطا کردہ مال سے اپنے پڑوسی پر فخر نہ کیا، اے امتِ محمد!  اس ذات پاک کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے!  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس شخص کا صدقہ قبول نہیں فرماتا جس کے رشتہ دار اس کے حسنِ سلوک کے محتاج ہوں اور وہ صدقہ کو دوسرے لوگوں کی طرف پھیر دے۔اس ذاتِ پاک کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے!  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔ ‘‘  (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۸۸۲۸،ج۶،ص۲۹۶)

{3}…حضرت سیدنابہزبن حکیمعلیہ رحمۃ اللہ  الکریم اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں : میں نے عرض کی، ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  میں کس کے ساتھ بھلائی کروں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اپنی ماں کے ساتھ، پھراپنی ماں ، پھر اپنے باپ ، پھر اپنے قریبی رشتہ داروں اور پھر دیگر رشتہ داروں کے ساتھ۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی برّالوالدین، الحدیث:  ۵۱۳۹،ص۱۵۹۹)

{4}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ کوئی آدمی اپنے آقا سے اس کے پاس موجود ضرورت سے زائد چیز مانگے اور وہ اس سے وہ چیز روک لے تو ضرورت سے زائد وہ چیز قیامت کے دن  ’’ اَلشُّجَاعُ الْاَقْرَع ‘‘ نامی اژدھے کی صورت میں اسے بلائے گی۔ ‘‘   (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی برّالوالدین، الحدیث:  ۵۱۳۹،ص۱۵۹۹)

                امام ابو دا ؤد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ اَقْرَع وہ سانپ ہے جس کے سر کے بال زہر کی وجہ سے جھڑ جائیں ۔ ‘‘

{5}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس شخص کے پاس اس کا چچا زاد بھائی آ کر اس کے زائد مال میں سے سوال کرے تووہ انکار کردے تواللہ  عَزَّ وَجَلَّقیامت کے دن اس سے اپنافضل روک لے گا۔ ‘‘                  (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۱۱۹۵،ج۱،ص۳۳۰)

تنبیہ:

                عنوان میں مذکور گناہ کو چند شرائط کے ساتھ کبیرہ گناہ قرار دینا بالکل واضح ہے اور اس سخت وعید کو یہ احادیثِ مبارکہ بھی شامل ہیں لیکن کسی کو ان کے ظاہری معنی کے اطلاق کا قول کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا کیونکہ اس میں اِتنا حرج اور مشقت ہے جس کی طاقت نہیں رکھی جاسکتی، بلکہ بسا اوقات اَجنبی کی نیکو کاری کی وجہ سے اس پر صدقہ کرنا قریبی رشتہ دار پر اس کے فسق کی وجہ سے صدقہ کرنے سے افضل ہوتاہے، اس میں اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ اسے اطاعت میں خرچ کرے گا جبکہ فاسق رشتہ دار اسے نافرمانی میں خرچ کرے گا۔

سوال: اگر صرف مجبور سے روکنا فرض کر لیا جائے تو اس صورت میں غلام، قریبی رشتہ داروں اور دیگر لوگوں سے روکنے کے کبیرہ گناہ ہونے میں کوئی فرق نہ ہو گا جیسا کہ ظاہر ہے؟

جواب: بات اگرچہ یہی ہے مگر اس میں فرق کی وجہ گذشتہ صفحات میں بیان شدہ اس بات سے معلوم ہو چکی ہے کہ بعض کبیرہ گناہ دیگر بعض سے زیادہ قبیح ہوتے ہیں ، لہٰذاصرف مجبور سے روکنے میں اگرچہ اس کا کبیرہ گناہ ہونا ظاہر ہے مگر غلام اور ایسے قریبی رشتہ داروں ، جن کا نفقہ اس پر لازم ہے، سے روکنا مطلق رشتہ داروں سے روکنے سے زیادہ سخت اور قبیح ہے اور اس کی چند وجوہات ہیں :  

 (۱) …اس پر نفقہ کا واجب ہونا  (۲) …تعلق کی زیادتی  (۳) …آپس کی موالات اور قرابت توڑنا (۴) …انہیں ہلاکت میں ڈالنے کی کوشش وغیرہ جبکہ اجنبی میں صرف یہی ایک آخری وجہ پائی جاتی ہے پس ان کو اس کے ساتھ مختص کرنا جائز ہے یہ خاص طور پر ذکر کرنے کی حکمت ہے جو کہ بڑی واضح اور ظاہر ہے اور  (۵) …اسی طرح ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں والدین کے حقوق کی رعایت کی تاکید اور پھر بقیہ رشتہ داروں کے حقوق کی رعایت اور اس بات پر تنبیہ ہے کہ والدین سے رشتہ توڑنا دیگر اَقرباء سے تعلق توڑنے کی طرح نہیں ۔

{6}…اسی وجہ سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے رشتہ داری کو عرش کے پائے سے معلق کر دیا ہے وہ کہتی ہے :  ’’ اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ !  جو مجھے جوڑے تو اسے جوڑ اور جو مجھے توڑے تو اسے توڑ دے۔ ‘‘ تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :  ’’ مجھے اپنی عزت کی قسم!  جو تجھے جوڑے گا میں اسے ضرور جوڑوں گا اور جو تجھے توڑے گا میں اسے ضرور توڑ دوں گا۔ ‘‘

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر135:                         

صدقہ دے کراحسان جتانا

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ (۲۶۲) قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًىؕ-وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ (۲۶۳)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ۳، البقرۃ: ۲۶۲تا۲۶۴) ترجمۂ کنز الایمان : وہ جو اپنے مال اللہ  کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر دیے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا نیگ (انعام) ان کے رب کے پاس ہے اورانہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم اچھی بات کہنا اوردرگزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد ستانا ہو اور اللہ  بے پرواہ حلم والا ہے اے ایمان والو اپنے صدقے باطل نہ کر دواحسان رکھ کر اور ایذا دے کر اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور اللہ  اور قیامت پر ایمان نہ لائے تو اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک چٹان کہ اس پر مٹی ہے۔

{1}…سرکار ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اچھائی جتلانے سے بچتے رہو کیونکہ یہ شکر کو باطل کر دیتا ہے اور اجر کو مٹا دیتا ہے۔ ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سورہ ٔبقرہ کی یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:  ’’ یٰٓاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-  ‘‘                (تفسیرقرطبی،سورۃ البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۶۴،ج۲،ص۲۳۶)

                پہلی آیتِ مبارکہ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے یہ بات بیان فرمائی :  ’’ جو شخص کسی نیک کام میں کچھ خرچ کرتا ہے وہ اپنی جان اور اہل وعیال پر خرچ کرنے والے کی طرح ہے۔ ‘‘  اور دوسری آیتِ کریمہ میں یہ بیان فرمایا :  ’’ جو شخص کسی قسم کا کوئی صدقہ کرے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے صدقہ کرنے والوں کے لئے جو عظیم ثواب تیار کر رکھا ہے اس کو پانے کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ اپنے صدقہ کو مذکورہ آیاتِ کریمہ کے مطابق اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ، اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور مؤمنین پر احسان جتلانے سے سلامت رکھے۔

                سیدنا قفال رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :  ’’ احسان نہ جتانا کبھی شرط ہوتا ہے اور یہ بات خود پر خرچ کرنے والے میں بھی معتبر ہے جیسے کوئی شخص اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی



Total Pages: 320

Go To