Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانہیں کیوں عطا فرماتے ہیں ؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ وہ مجھ ہی سے مانگتے ہیں اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ مجھ میں بخل کو ناپسند فرماتا ہے۔ ‘‘

 (صحیح ابن حبان، کتاب الزکاۃ، باب المسألۃ والاخذ وما یتعلق بہالخ،الحدیثـ:  ۳۴۰۵،ج۵،ص۱۷۴،بتغیرٍ قلیلٍ)

{6}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ گڑ گڑاکر سوال نہ کیاکرو  کیونکہ جو شخص اس طرح ہم سے کوئی چیز لینے میں کامیاب ہو جاتا ہے اس کے لئے اس چیز میں کوئی برکت نہیں ہوتی۔ ‘‘

 (مسند ابی یعلیٰ الموصلی، مسند عبداللہ  بن عمر، الحدیث:  ۵۶۰۲،ج۵،ص۱۱۲)

{7}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ گڑ گڑا کر سوال نہ کیا کرو،خداکی قسم! تم میں سے کوئی شخص مجھ سے کچھ مانگتا ہے اورلینے میں کامیاب ہو جاتا ہے حالانکہ میں اسے ناپسندکررہا ہوتاہوں تو اس میں کیسے برکت ہوگی ۔ ‘‘            (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ ،باب النھی عن المسألۃ ، الحدیث:  ۲۳۹۰،ص۸۴۱)

تنبیہ:

                میں نے مذکورہ قید کے ساتھ سوال میں اصرار کو کبیرہ گناہ ذکر کیا ہے یہ بات بالکل ظاہر ہے اور علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا کلام اس کا انکار نہیں کرتا اگرچہ انہوں نے اس کے کبیرہ گناہ ہونے کی تصریح بھی نہیں کی اور پہلی دواحادیثِ مبارکہ کا مضمون بھی ہمارے مؤقف کی تائید کرتا ہے کیونکہ اس پر مرتب ہونے والی ناپسندیدگی اگرچہ وہ غیر کے ساتھ ہی ہو کبیرہ گناہ کی علامت یعنی لعنت کے قریب ہے، نیز تیسری اور چوتھی حدیثِ پاک میں تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصول شدہ چیز کو آگ قرار دینابھی ایک سخت وعید ہے،

                 البتہ اگرسائل مجبور ہواورمسؤل (یعنی جس سے سوال کیا جائے وہ)  ظلم کی بناء پر وہ چیز روک رہا ہو تو ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ اس کا اصرار حرام نہیں ، نیز یہ بات بھی ظاہر ہے کہ اصرار کا کبیرہ گناہ ہونا 3مرتبہ تکرار سے مقید نہیں بلکہ اسے عرفاً ایذاء سے مقید کرنا چاہئے کیونکہ ایسی حالت مسؤل کو غضب کی اِنتہاء پر اُبھارتی ہے اور اِعتدال کی راہ سے نکال کر بدترین گالی گلوچ میں ڈال دیتی ہے اور یہ ایک سخت اذیت اور بری عادت ہے اس قسم کا اصرار متعدد گناہوں کا سبب بنتا ہے لہٰذا واضح ہوا کہ ہمارے ذکر کردہ بیان کے مطابق اس صورت میں کبیرہ گناہ ہے۔

بغیر طلب و خواہش کے ملنے والا مال لینے میں حرج نہیں

                حضرت سیدنا عبداللہ  بن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  ارشاد فرماتے ہیں کہ مخزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھے عطا فرمایا کرتے، تو میں عرض کرتا:  ’’ یہ چیز اس شخص کو عطا فرما ئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا محتاج ہو۔ ‘‘ توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ لے لو!  جب اس مال میں سے کوئی چیز تمہارے پاس آئے اور تمہیں نہ اس کی خواہش ہو نہ ہی تم اس کا سوال کرو تو اسے لے لو اور جمع کر لو پھر اگر چاہو تو اسے کھا لو اور چاہو تو صدقہ کر دو اور جو مال اس طرح حاصل نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو۔ ‘‘  حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کے بیٹے حضرت سیدنا سالم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ’’ اسی وجہ سے حضرت عبد اللہ  بن عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ     ما نہ کسی سے کوئی چیز مانگتے اور نہ ہی جو چیز انہیں دی جاتی اسے واپس لوٹاتے۔ ‘‘

 (صحیح البخاری،کتاب الزکاۃ ، باب من اعطاہ اللہ  شیئاالخ،الحدیث: ۱۴۷۳،۷۱۶۳،۷۱۶۴،ص۱۱۶،ص۵۹۷)

{8}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدناعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کو کوئی چیز بھیجی تو انہوں نے اسے لوٹا دیا۔ ‘‘  توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے استفسار فرمایا:  ’’  تم نے وہ چیز کیوں لوٹا دی؟ ‘‘  انہوں نے عرض کی، ’’ کیا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں نہیں بتایا کہ آدمی کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ کسی سے کوئی چیز نہ لے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ یہ حکم تو سوال کرنے کی صورت میں ہے اور جو چیز سوال کے بغیر حاصل ہو وہ تو رزق ہے جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اسے عطا فرمایا ہے۔ ‘‘  تو حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی، ’’ اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!  میں کسی سے کوئی شئے نہ مانگوں گا اور جو چیز سوال کئے بغیر میرے پاس آئے گی اسے لے لیا کروں گا۔ ‘‘

 (کنزالعمال، کتاب الزکاۃ،قسم الافعال،باب ادب الاخذ،الحدیث:  ۱۷۱۴۷،ج۶،ص۲۶۹)

{9}…سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جسے سوال اورخواہش کے بغیر اپنے بھائی سے کوئی بھلائی پہنچے اسے چاہئے کہ وہ شئے قبول کر لے اور نہ لوٹائے کیونکہ یہ اس کا رزق ہے جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی طرف بھیجا ہے۔ ‘‘                         (المسند للامام احمد بن حنبل،الحدیث: ۱۷۹۵۸،ج۶،ص۲۷۶)

{10}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کوئی مال بن مانگے عطا فرمائے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے قبول کر لے کیونکہ یہ اسی کا رزق ہے جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے پاس بھیجا ہے۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند ابی ہریرۃ ،الحدیث:  ۷۹۲۶،ج۳،ص۱۴۵)

{11}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جسے اِس رزق سے کوئی شئے سوال اور خواہش کئے بغیر حاصل ہو اسے چاہئے کہ اس کے ذریعے اپنے رز ق کو وسیع کرے پھر اگر وہ غنی ہو تو وہ چیز ایسے شخص کو دے دے جو اس سے زیادہ اس چیز کا حاجت مند ہو۔ ‘‘     (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۳۰،ج۱۸،ص۱۹)

{12}…حضرت عبد اللہ  بن احمد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے والد گرامی سیدنا امام احمد بن حنبل رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے خواہش اور آرزو کے بارے میں دریافت کیاتو انہوں نے ارشالد فرمایا ’’ اس سے مراد یہ ہے کہ تم اپنے دل میں کہو کہ عنقریب فلاں شخص مجھے یہ چیز بھیجے گا یا فلاں چیز مجھے ملے گی۔ ‘‘   (المسند للامام احمدبن حنبل،حدیث رافع بن عمروالمزنی،تحت الحدیث: ۲۰۶۷۴،ج۷،ص۳۶۲)

{13}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مغفرت نشان ہے:  ’’ وسعت میں   عطا کرنے والا محتاجی میں قبول کرنے والے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ ‘‘   (المعجم الاوسط، الحدیث: ۸۲۳۵،ج۶،ص۱۲۷)

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر134:         

بلا عذر کسی کی حاجت برآری نہ کرنا

یعنی انسان کا اپنے قریبی عزیز یا غلام سے کسی عذر کے بغیر قدرت کے باوجود

ایسی چیز روک لیناجسے وہ سخت مجبوری کی بناء پر مانگ رہا ہو۔

{1}…