Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

شخص نے عرض کی، ’’ میں ایک درہم میں خریدتا ہوں ۔ ‘‘  شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے 2یا3مرتبہ ارشاد فرمایا :  ’’ کون ایک درہم سے زیادہ کرتا ہے۔ ‘‘  ایک شخص نے عرض کی، ’’ میں 2درہم میں خریدتا ہوں ۔ ‘‘  تو رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وہ دونوں چیزیں اسے عطا فرما کر 2درہم لے لئے اور اس انصاری کو عطا فرما تے ہوئے ارشاد فرمایا :  ’’ ایک درہم سے اپنے گھر والوں کو کھانا کھلاؤ اور دوسرے درہم سے ایک کلہاڑی خرید کر میرے پاس لے آؤ۔ ‘‘

                 وہ انصاری کلہاڑی لے کر حاضر ہوا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس میں لکڑی کا دستہ لگایا اور ارشاد فرمایا :  ’’ جاؤ، لکڑیاں کاٹ کر بیچو اور میں 15دن تک تمہیں نہ دیکھوں ۔ ‘‘  اس نے ایسا ہی کیا پھر حاضر ہوا تو 10درہم کما چکا تھا، اس نے کچھ رقم سے کپڑے اور کچھ سے کھانا خریدا تو نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ یہ تمہارے لئے اس بات سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن تمہارے چہرے پرسوال کرنے کا داغ ہو، کیونکہ سوال کرنا 3شخصوں کے علاوہ کسی کے لئے درست نہیں :   (۱) ذلت آمیز فقر والا  (۲) قباحت میں حد سے بڑھے ہوئے قرض میں گھِرا ہوا شخص اور  (۳) مجبور کردینے  والے خون میں پھنساہوا شخص۔ ‘‘   (سنن ابی داؤد،کتاب الزکاۃ،باب ماتجوزفیہ المسئلۃ، الحدیث: ۱۶۴۱،ص۵ ۱۳۴)

{26}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جسے اسلام کی ہدایت دی گئی اور اس کا رزق حاجت کے مطابق ہو او روہ اس پرقناعت کرے۔ ‘‘

 (المسند للاما م احمد بن حنبل، مسند فضالۃ بن عبید الانصاری، الحدیث:  ۲۳۹۹۹،ج۹،ص۲۴۶)

{27}…حضرت سیدنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ نبی کریم، رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے ارشاد فرمایا:  ’’ اے ابو ذر! کیا تم مال کی کثرت ہی کو غنا سمجھتے ہو؟ ‘‘  میں نے عرض کی، ’’ جی ہاں ، یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ کیا تم مال کی قلت ہی کو فقر سمجھتے ہو؟ ‘‘  میں نے عرض کی، ’’ جی ہاں ، یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ غنا تو دل کی غنا ہے اور فقر تو دل کا فقر ہے۔ ‘‘

 (المستدرک ،کتاب الزکاۃ،باب انما الغنی غنی القلب الخ،الحدیث:  ۷۹۹۹،ج۵،ص۴۶۶)

{28}…رسول اکرم، شفیع معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مسکین وہ نہیں جسے ایک یا دو لقمے اور ایک یا دو کھجوریں دربدر کر دیں بلکہ مسکین تو وہ ہے جونہ تو ایسی غنا پائے جو اسے بے نیاز کر دے اور نہ کسی کو اپنی مجبوری سمجھا سکے کہ وہ اس پر صدقہ کرے اور نہ ہی کھڑا ہو کر لوگوں سے سوال کر سکے، غنا مال کی کثرت سے نہیں ہوتی بلکہ غناتو نفس کی غنا کا نام ہے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ ،باب المسکین الذی الخ،الحدیث: ۲۳۹۳ / ۲۳۹۴،ص۸۴۱،بد ون ’’ لیس الغنی عن کثرۃ العرض  ‘‘ )

{29}…ایک شخص نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عرض کی ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمائیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا ’’ لوگوں کے مال سے خود پر مایوسی لازم کر لو اور لالچ سے بچتے رہو کیونکہ یہ فورًا لاحق ہونے والا فقر ہے اور ایسے کام سے بچتے رہو جس کا عذر پیش کرنا پڑے۔ ‘‘

 (المستدرک ، کتاب الرقاق، باب ایاک والطمع فانہالخ،الحدیث:  ۷۹۹۸،ج۵،ص۴۶۵)

{30}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوبعَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ قناعت لازوال خزانہ ہے۔ ‘‘  (الترغیب والترہیب،کتاب الصدقات،باب الترہیب من المسألۃ الخ،الحدیث: ۱۲۳۹،ج۱،ص۳۹۸)

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر133:                                         

سوال میں اصرار کرنا

یعنی سوال میں اتنا اصرار کرنا جو مسؤل یعنی جس سے سوال کیا جا رہا ہے اس کو سخت تکلیف پہنچائے۔

{1}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سوال میں اصرار کرنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے۔ ‘‘

 (کشف الخفاء ومزیل اللباس،حرف الھمزۃ مع النون،الحدیث:  ۷۴۳،ج۱،ص۲۱۸)

{2}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے پڑوسی کو اپنی شرارتوں سے محفوظ نہ رکھے۔جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اوریوم ِآخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ بردبار، پاکدامن اور غنی سے محبت فرماتا ہے اور بداخلاق، فاجر اور اصرار کرنے والے سائل کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘

 (مجمع الزوائد،کتاب الادب، باب فی الشیخ المجھولالخ،الحدیث:  ۱۳۰۲۷،ج۸،ص۱۴۵)

{3}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ کوئی شخص میرے پاس حاضر ہو کر سوال کرتا ہے تو میں اسے کچھ عطا فرما تا ہوں وہ اسے لے کر چلا جاتا ہے حالانکہ وہ اپنی جھولی میں آگ ہی لے کر جاتا ہے۔ ‘‘

 (الترغیب والترہیب ، کتاب الصدقات، باب الترہیب من اخذمادفعالخ،الحدیث:  ۱۲۵۱،ج۱،ص۴۰۱)

{4}…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسونا تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کی، ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  مجھے بھی عطا فرمائیں ۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے بھی عطا



Total Pages: 320

Go To