Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

(سنن ابی داؤد، کتاب الزکاۃ، باب ماتجوزفیہ المسألۃ ، الحدیث: ۱۶۳۹،ص۱۳۴۵)

{16}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بندہ غنی ہونے کے باوجود سوال کرتا رہتا  ہے یہاں تک کہ اپنا چہرہ بوسیدہ کر لیتا ہے پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے پاس اس کا کوئی مرتبہ نہیں رہتا۔ ‘‘

 (کنزالعمال، کتاب الزکاۃ ، قسم الاقوال، الفصل الثانی فی ذم السؤال،الحدیث ۱۶۷۳۷،ج۶،ص۲۱۵)

{17}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جو شخص خود پر سوال کا دروازہ کھول دے جبکہ وہ ابھی فاقوں کا شکارنہ ہوا ہو یااس کے اہلِ خانہ ایسے نہ ہوں جو ان فاقوں کو برداشت کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تواللہ  عَزَّ وَجَلَّاس پر ایسی جگہ سے فاقے کا دروازہ کھول دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو گا۔ ‘‘

 (شعب الایمان، باب فی الزکاۃ ، فصل فی الاستعفاف عن المسألۃ ،الحدیث:  ۳۵۲۶،ج۳،ص۲۷۴)

{18}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ فراخ دست کا سوال قیامت کے دن تک اس کے چہرے پر عیب ہو گا۔ ‘‘        (المسندللامام احمد بن حنبل،الحدیث: ۱۹۸۴۲،ج۷،ص۱۹۳)

{19}…بزارنے اس میں یہ اضافہ کیاہے :  ’’ غنی کا سوال آگ ہے اگر اسے کم مال دیا گیا تو آگ بھی کم ہو گی اور اگر زیادہ مال دیا گیا تو آگ بھی زیادہ ہو گی۔ ‘‘     (البحرالزخاربمسندالبزار ،حدیث عمران بن حصین،الحدیث: ۳۵۷۲،ج۹،ص۴۹)

{20}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے سوال کیا حالانکہ وہ سوال کرنے سے غنی تھاتو اس کا سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پر ایک عیب ہو گا۔ ‘‘   (المسندللامام احمد بن حنبل،الحدیث: ۲۲۴۸۳،ج۸،ص۳۳۱)

{21}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک شخص کا جنازہ پڑھانے تشریف لائے تو ارشاد فرمایا :  ’’  اس نے کتنا ترکہ چھوڑا ہے؟ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی، ’’ 2یا 3دینار۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اس نے 2 یا3داغ چھوڑے ہیں ۔ ‘‘  

                راوی کہتے ہیں ،پھر میری ملاقات حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے آزاد کردہ غلام حضرت سیدنا عبد اللہ  بن قاسم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے ہوئی اور میں نے انہیں یہ بات بتائی توانہوں نے کہا:  ’’ یہ شخص مال میں اضافے کی خاطر لوگوں سے سوال کیا کرتا تھا۔ ‘‘                 (شعب الایمان، باب فی الزکاۃ ، فصل فی الاستعفاف عن المسألۃ ،الحدیث:  ۳۵۱۵،ج۳،ص۲۷۱)

تنبیہ:

                مذکورہ عمل کو کبیرہ گناہ شمار کرنا بالکل ظاہر ہے اگرچہ میں نے سخت وعید پر مشتمل ان احادیثِ مبارکہ کی بناء پر کسی کو صراحت کرتے نہیں دیکھا اور حرمت کو غنا کے ساتھ مقید کرنا ہم بیان کر چکے ہیں ۔

{22}… شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جو سوال سے غنی کرنے والی شئے کی موجودگی میں سوال کرتا ہے وہ آگ میں اضافہ کرتا ہے۔ ‘‘  ایک راوی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی، ’’ غنا سے کیا مراد ہے جس کی موجودگی میں سوال نہیں کرنا چاہئے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اتنی مقدار جس سے وہ صبح اور شام کا کھانا کھا سکے۔ ‘‘  (سنن ابی داؤد، کتاب الزکاۃ، باب مایعطی من الصدقۃ الخ ، الحدیث: ۱۶۲۹،ج۳،ص۴ ۱۳۴)

{23}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جو سوال سے غنی کرنے والی شئے کی موجودگی میں سوال کرتا ہے وہ جہنم کے انگاروں میں اضافہ کرتا ہے۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی، ’’ کون سی شئے سوال سے غنی کرتی ہے؟ ‘‘ توآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس سے وہ صبح کا کھاناکھاسکے یاشام کا کھاناکھاسکے یااس کے پاس رات بسرکرنے کے لئے ایک ہزار (درہم)  موجودہوں ۔ ‘‘

 (صحیح ابن حبان ، کتاب الزکاۃ،باب المسألۃ والأخذوما یتعلق بہ الخ،الحدیث:  ۳۳۸۵،ج۵،ص۱۶۷)

{24}…ایک اور روایت میں ہے، عرض کی گئی :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  وہ غنا کیا ہے جس کی موجودگی میں سوال نہیں کرنا چاہئے؟ ‘‘  توآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اس کے پاس ایک دن اور ایک رات یا ایک رات اور ایک دن کے شکم سیرکرنے والے کھانے کا سامان موجود ہو۔ ‘‘   (سنن ابی داؤد، کتاب الزکاۃ، باب مایعطی من الصدقۃالخ ، الحدیث: ۱۶۲۹،ج۳،ص۴ ۱۳۴)

                علامہ خطابی علیہ رحمۃاللہ  الہادی فرماتے ہیں :  ’’ لوگوں کا اس حدیثِ پاک کی تاویل میں سخت اختلاف ہے بعض کہتے ہیں :  ’’ جو ایک دن صبح شام کا گزارا کرنے کی وسعت پائے حدیثِ پاک کے ظاہری معنی کے اعتبار سے اس کے لئے سوال کرناجائز نہیں ۔ ‘‘  اور بعض کہتے ہیں :  ’’ یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جو روزانہ صبح شام کے کھانے کی وسعت رکھے لہٰذا جب اس کے پاس اتنا مال موجود ہو جو طویل مدت تک اس کے گزارے کے لئے کافی ہو تو اسے سوال کرنا حرام ہے۔ ‘‘  جبکہ دیگرحضرات کا کہنا ہے :  ’’ یہ حکم ان احادیثِ مبارکہ کے ذریعے منسوخ ہے جن میں غنا کی مقدار 50درہم کی ملکیت یا اس کی قیمت یا ایک اوقیہ یا اس کی قیمت بیان کی گئی ہے۔ ‘‘

                جبکہ ہمارے نزدیک نفلی صدقہ کا سوال کرنے کی صورت میں پہلا قول راجح ہے اور اگر وہ زکوٰۃ کا سوال کرتا ہے تو اس پر سوال اسی صورت میں حرام ہو گا جبکہ اس کے پاس بقیہ عمر کے اکثر حصے کے گزارے جتنا مال موجود ہو اور نسخ کا دعوی ممنوع ہے کیونکہ اس کے لئے تاریخ کاعلم اور ناسخ کا منسوخ سے متأخر ہونے کا علم ہونا ضروری ہے اور یہ بات معلوم نہیں ۔

غناء کی مقدار میں بزرگوں کے اقوال :

                سیدناامام شافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ کبھی آدمی صحت مند ہونے کی صورت میں ایک درہم سے غنی ہو جاتا ہے اور کبھی کمزوری اور کثرتِ عیال کی وجہ سے 1000درہم بھی اسے غنی نہیں کر سکتے۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا سفیان ثوری، سیدنا عبد اللہ  بن مبارک، سیدنا حسن بن صالح، سیدنا امام احمد بن حنبل اور سیدنا اسحاق رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی رائے یہ ہے :  ’’ جس کے پاس 50درہم یا ان کی مالیت کا سونا ہو اسے زکوٰۃ میں سے کچھ نہ دیا جائے گا۔ ‘‘  

                حضرت حسن بصری اور سیدنا ابو عبیدہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہما فرمایا کرتے تھے :  ’’ جس کے پاس 40درہم ہوں وہ غنی ہے۔ ‘‘  جبکہ  احناف کا کہنا ہے :  ’’ جو نصاب سے کم مالیت رکھتا ہو اگرچہ تندرست ہو اور کمانے کی صلاحیت رکھتا ہو اسے زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ ‘‘  اوراس کے ساتھ ان کا یہ قول بھی ہے :  ’’ جس کے پاس ایک دن کی غذا موجود ہو اس کے لئے سوال کرنا جائز نہیں ۔ ‘‘

{25}…حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ ایک انصاری نے سرکار ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہو کر سوال کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّ



Total Pages: 320

Go To