Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

اور فضل و جود کے ذریعے مخلوق کو اپنا قرب بخشتا ہے، پھر اپنی شرمگاہ کے ذریعے کمانے والی اور ٹیکس وصول کرنے والے کے علاوہ ہر بخشش چاہنے والے کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر،الحدیث:  ۸۳۷۱،ج۹،ص۵۴)

{7}…سیدنا ابو الخیر رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ امیرِمصر مسلمہ بن مخلد نے حضرت سیدنا رویفع بن ثابت رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کو ٹیکس وصول کرنے کا والی بننے کی پیش کش کی تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا کہ میں نے مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا ہے :  ’’ ٹیکس لینے والا جہنم میں ہو گا۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث رویفع بن ثابت، الحدیث:  ۱۶۹۹۸،ج۶،ص۴۹)

{8}…اُم المؤمنین حضرت سیدتنا اُم سلمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  ارشاد فرماتی ہیں کہ رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صلَّی اللہ  تعالیٰ لیہ وآلہ وسلَّم صحراء میں تھے کہ کسی نے پکارا:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ‘‘  آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممتوجہ ہوئے لیکن کوئی نظر نہ آیا، پھر توجہ فرمائی تو ایک ہرنی کو جال میں بندھا ہوا پایا اس نے عرض کی، ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! میرے قریب تشریف لائیے۔ ‘‘  آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کے قریب ہو گئے اور دریافت فرمایا :  ’’ تجھے کیا حاجت ہے؟ ‘‘  اس نے عرض کی ’’ اس پہاڑ پر میرے دوبچے ہیں ، آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممجھے آزاد فرما دیں تا کہ میں انہیں دودھ پلا کر آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے پاس لوٹ آؤں ۔ ‘‘  تو آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اس سے ارشاد فرمایا :  ’’ کیا تم ایسا ہی کرو گی؟ ‘‘  اس نے عرض کی ’’ اگر میں ایسا نہ کروں تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ مجھے وہی عذاب دے جو عشر (یعنی10%ٹیکس)  لینے والوں کو دے گا۔ ‘‘ تو آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اسے آزاد کر دیا، وہ چلی گئی اور اپنے بچوں کو دودھ پلا کر لوٹ آئی، تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے دوبارہ باندھ دیا، اعرابی یہ دیکھ کر بڑا متاثر ہوا اور عرض گزار ہوا :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو کوئی حاجت ہے؟ ‘‘  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ہاں !  اسے آزاد کردو ‘‘  تو اس نے ہرنی کو آزاد کر دیااور وہ دوڑکر جاتے ہوئے پڑھ رہی تھی:  ’’ اَشْھَدُاَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَانَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ ‘‘                  (المعجم الکبیر،الحدیث: ۷۶۳،ج۲۳،ص۳۳۱)

 بد ترین شخص کون ؟

{9}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ کیا میں تمہیں سب سے بُرے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟جو اکیلا کھائے اور اپنے مہمانوں کو کھانے سے روک دے اور تنہا سفر کرے اور اپنے غلام کو مارے۔ کیا میں تمہیں اس  سے بھی بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟جو لوگوں سے بغض رکھے اور لوگ اس سے بغض رکھیں ۔کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟جس کے شر سے ڈرا جائے اوراس سے بھلائی کی امید نہ ہو۔کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟جو غیر کی دنیا کے لئے اپنی آخرت بیچ دے۔ کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو دین کے ذریعے دنیا کھائے۔ ‘‘     (کنزالعمال، کتاب المواعظالخ، قسم الاقوال،الحدیث:  ۴۴۰۳۸، ج۱۶، ص۴۰)

{10}…اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  ارشاد فرماتی ہیں کہ میں نے مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:  ’’ منصب چاہنے والوں کے لئے ہلاکت ہے، ذمہ داروں کے لئے ہلاکت ہے، قیامت کے دن کچھ قومیں ضرور تمنا کریں گی کہ ان کی پیشانیوں کے بال ثریا ستاروں سے لٹکے ہوتے اور وہ زمین و آسمان کے درمیان لٹکے ہوتے اور کسی چیز کے ذمہ دار نہ بنتے۔ ‘‘   (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند ابوہریرہ ، الحدیث:  ۸۶۳۵،ج۳،ص۲۶۷)

{11}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اُمراء کے لئے ہلاکت ہے، منصب چاہنے والوں کے لئے ہلاکت ہے، قیامت کے دن کچھ قومیں ضرور یہ تمنا کریں گی کہ ان کی پیشانیاں ثریا ستارے سے معلق ہوتیں اور وہ زمین و آسمان کے درمیان لٹک رہے ہوتے اور انہیں کسی کام کا والی نہ بنایا جاتا۔ ‘‘

 (المستدرک،کتاب الاحکام،باب قاضیان فی الناروقاضالخ،الحدیث:  ۷۰۹۹،ج۵،ص۱۲۳)

{12}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جہنم میں ایک پتھر ہے جسے وَیْل کہا جاتا ہے، منصب کے طلب گار لوگ اس پر چڑھیں گے اور نیچے اتریں گے۔ ‘‘

 (الترغیب والترہیب ، کتاب الصدقات،باب الترغیب فی العمل علی الصدقۃ الخ،الحدیث: ۱۱۸۵،ج۱،ص۳۸۲)

{13}…حضرت انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قریب سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اگر یہ رئیس نہیں تھا تو سعادت مند ہے۔ ‘‘

 (مسند ابی یعلی الموصلی، الحدیث:  ۳۹۲۶،ج۳،ص۳۵۸)

{14}…حضرت سیدنا مِقدام بن معدیکرب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے میرے کندھوں پر دستِ مبارک مار کر ارشاد فرمایا :  ’’ اے قُدَیْم! اگر تم اَمیر، کاتب اور نگران نہ بنو تو فلاح پا جاؤ گے۔ ‘‘                                            (سنن ابی داؤد، کتاب الخراج، باب فی العرافۃ ،الحدیث:  ۲۹۳۳،ص۱۴۴۲)

{15}…سیدناامام طبرانی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے راوی کا نام ذکر کئے بغیر روایت کیا ہے کہ میرے دادا جان نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  بنی تمیم کا ایک شخص میرا سارا مال لے گیا۔ ‘‘  تو شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشاد فرمایا :  ’’ میرے پاس تمہیں دینے کے لئے کچھ نہیں ۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں اپنی قوم کا امیر بنا دیا جائے؟ ‘‘  یا یہ ارشاد فرمایا :  ’’ کیا میں تمہیں تمہاری قوم کا سردار نہ بنا دوں ؟ ‘‘  میں نے عرض کی، ’’ نہیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ سردار کو تو سختی سے جہنم میں پھینکا جائے گا۔ ‘‘   (المعجم الکبیر،الحدیث:  ۶۴۶،ج۲۲،ص۲۴۸)

{16}…ابو داؤد شریف کی روا یت میں ہے کہ  ’’ ایک قوم کسی گھاٹ پر رہتی تھی، جب انہیں اسلام کی دعوت پہنچی تو پانی کے مالک نے اپنی قوم کو اس شرط پر 100اونٹ دئیے کہ وہ اسلام لے آئیں ، پس وہ قوم مسلمان ہو گئی اور انہوں نے وہ اونٹ آپس میں تقسیم بھی کر لئے، پھر اسے وہ اونٹ واپس لینے کا خیال آیا تو اس نے اپنے بیٹے کورسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں بھیجا، اور پھر یہی حدیث ذکر کی جس کے آخرمیں یوں ہے کہ اس کے بیٹے نے عرض کی، ’’ میرے والد عمر رسیدہ اور ضعیف ہو چکے ہیں اور وہ پانی کے نگہبان ہیں اور وہ آپصَ



Total Pages: 320

Go To