Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

اتنی مہلت دے کہ وہ قرض اُتارنے کے قابل ہو جائے یا اپنا مطلوبہ قرض اس پر صدقہ کرکے کہہ دے :  ’’ میرا تجھ پر جتنا قرض ہے وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے صدقہ ہے اور قرض کی رسید پھاڑ ڈالے۔ ‘‘                         (المرجع السابق، الحدیث:  ۶۶۷۰،ج۴،ص۲۴۱)

{7}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے کسی مسلمان کی ایک پریشانی دور کی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس کے لئے پل صراط پر نور کی ایسی دوشاخیں بنا دے گا جن سے اتنے عالم روشن ہوں گے جنہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا۔ ‘‘                              (المعجم الاوسط،الحدیث:  ۴۵۰۴،ج۳،ص۲۵۴)

{8}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو اور پریشانی دور ہو اسے چاہئے کہ تنگدست کی پریشانی دور کرے۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ  ابن عمر، الحدیث:  ۴۷۴۹،ج۲،ص۲۴۸)

{9}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے کسی مسلمان کی دنیوی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ا س کی قیامت کے دن کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور فرمائے گا اور جو شخص تنگدست کو دنیا میں سہولت فراہم کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے دنیا اور آخرت میں آسانی عطا فرمائے گا، جو کسی مسلمان کی دنیا  میں پردہ پوشی کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس وقت تک بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعا، باب فضل الاجتماع علی الخ،الحدیث:  ۶۸۵۳،ص۱۱۴۷)

{10}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جس نے تنگدست کو مہلت دی اس کے لئے مہلت ختم ہونے تک روزانہ اتنی ہی رقم صدقہ کرنے کا ثواب ہے اور قرض کی وصولی کے دن بھی اگر مزید مہلت دے دی تو اسے روزانہ اتنی ہی رقم دو مرتبہ صدقہ کرنے کا ثواب ہے۔ ‘‘

 (المستدرک،کتاب البیوع، باب من انظر معسراًالخ،الحدیث:  ۲۲۷۲،ج۲،ص۳۲۷)

{11}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جسے یہ بات پسند ہو کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے قیامت کی پریشانیوں سے نجات عطا فرمائے اسے چاہئے کہ تنگدست کی پریشانی دورکرے یااس کے قرض میں کمی کر دے۔ ‘‘       (صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ ، باب فضل انظارالمعسروالتجاوزالخ،الحدیث:  ۴۰۰۰،ص۹۵۰)

{12}…سرکار ابدِ قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تم سے پچھلی قوموں میں سے ایک شخص کے پاس فرشتہ اس کی روح قبض کرنے آیا تو اس سے کہا :  ’’ کیا تم نے کوئی نیک عمل کیا ہے؟ ‘‘  اس نے کہا ’’ میں نہیں جانتا۔ ‘‘  اس سے کہا گیا :  ’’ سوچ لو  (شاید یاد آجائے) ۔ ‘‘ تو اس نے کہا :  ’’ میں اور تو کچھ نہیں جانتا مگر میں دنیا میں لوگوں سے خرید و فروخت کیا کرتا تو خوشحال کو مہلت دیتا اور تنگدست سے چشم پوشی کیا کرتا تھا۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اسے جنت میں داخل فرما دیا۔ ‘‘

 (المسند للاما م احمد بن حنبل،حدیث حذیفہ بن الیمان، الحدیث:  ۲۳۴۱۳،ج۹،ص۹۸)

{13}… ایک اور روایت میں ہے :  ’’ میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے خدام کو حکم دے رکھا تھا کہ خوشحال افراد کو مہلت دیا کرواور تنگدستوں سے درگزر کیا کرو تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے بھی اپنے ملائکہ سے ارشاد فرمایا کہ تم بھی اس سے چشم پوشی کرو۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ ، باب فضل انظارالمعسرالخ،الحدیث:  ۳۹۹۳،ص۹۴۹)

{14}…شاہِ ابرار، غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں ایک ایسے بندے کو لایا جائے گا جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے مال عطا فرمایا تھا، تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے دریافت فرمائے گا :  ’’ تو نے دنیا میں کیا عمل کئے؟ ‘‘  پھر راوی نے یہ آیت پڑھی:

وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ (۴۲)   (پ۵، النساء ،۴۲)

ترجمۂ کنز الایمان : اور کوئی بات اللہ  سے نہ چھپا سکیں گے۔

                بندہ عرض کرے گا :  ’’ یا رب عَزَّ وَجَلَّ !  تو نے مجھے مال عطا فرمایا تھا میں لوگوں سے خرید و فروخت کیا کرتا تھا اوردرگزر کرنا  میری عادت تھی، لہٰذا میں فراخ دست کو آسانی فراہم کرتا اور تنگدست کو مہلت دیا کرتا تھا۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :  ’’ میں تجھ سے زیادہ اپنے بندے سے چشم پوشی کرنے کا حق رکھتا ہوں ۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ ، باب فضل انظارالمعسرالخ،الحدیث: ۳۹۹۶،ص۹۴۹)

{15}… ایک دوسری روایت میں ہے :  ’’ وہ اپنے خادم سے کہا کرتا تھا :  ’’ جب تیرے پاس کوئی تنگدست آئے تو اس سے چشم پوشی کیا کر شاید اللہ  عَزَّ وَجَلَّہم سے بھی چشم پوشی فرمائے۔ ‘‘  پھر جب وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ملا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اس سے چشم پوشی فرمائی۔ ‘‘    (صحیح البخاری، کتب احادیث الانبیائ،باب حدیث الغار،الحدیث:  ۳۴۸۰،ص۲۸۴)

{16}… نسائی شریف کی روایت میں ہے :  ’’ جب میں اپنے خادم کو قرض وصول کرنے کے لئے بھیجتا تو اسے کہتا :  ’’ جو خوشحال ہو اس سے لے لو اور جو تنگدست ہو اسے چھوڑ دو اور چشم پوشی کرو شاید اللہ  عَزَّ وَجَلَّہم سے بھی چشم پوشی فرمائے۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس سے ارشاد فرمائے گا :  ’’ میں نے بھی تجھ سے چشم پوشی کی۔ ‘‘   (سنن النسائی ،کتاب البیوع،باب حسن المعاملۃ والرفقالخ،الحدیث:  ۴۶۹۸،ص۲۳۹۱)

تنبیہ:

                میں نے جو بات ذکر کی کہ قرض خواہ کا اپنے مقروض سے مذکورہ سلوک کرناکبیرہ گناہ ہے تویہ بات بالکل ظاہر ہے اگرچہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس کی تصریح نہیں کی مگر یہ عمل مسلمان کو ایسی سخت ایذاء پہنچانے میں داخل ہے جس کی عموماً وہ طاقت نہیں رکھتا اور پہلی دو حدیثوں کے مفہوم یعنی  ’’ جو اپنے تنگدست مقروض کو مہلت نہ دے وہ جہنم کی گرمی سے نہ بچایا جائے گا۔ ‘‘ میں سخت وعید ہے اور اس سے اس عمل کو کبیرہ گناہ شمار کرنا مؤکد ہو جاتا ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

کبیرہ نمبر130:                                  

صدقہ میں خیانت کرنا