Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

تیار رکھوں اگر مجھ پر قرض ہو۔ ‘‘   (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ  بن عباس،الحدیث:  ۲۷۲۴،ج۱،ص۶۴۲)

{101}…حضرت سیدنا سلمان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے حضرت سیدنا ابودرداء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کو مکتوب بھیجا :  ’’ اے میرے بھائی!  دنیا کا ایسا مال جمع کرنے سے بچتے رہنا جس کا تم شکر ادا نہ کر سکو کیونکہ میں نے رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے سنا :  ’’  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں ایک ایسے مال دار کولایا جائے گا جس نے دنیا میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت  کی تھی، اس کا مال اس کے سامنے رکھا ہو گاجب بھی وہ پل صراط کوپارکرنے لگے گا تو اس کا مال اس سے کہے گا :  ’’   (پل صراط سے) گزرجا، تو نے میرے معاملے میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا حق ادا کر دیا تھا۔ ‘‘  پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں ایک ایسے مال دار کو لایا جائے گا جس نے دنیا میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت نہیں کی تھی، اس کا مال اس کے سامنے رکھا ہو گا جب بھی وہ پل صراط کو پار کرنے لگے گا اس کا مال اس سے کہے گا :  ’’ تُوہلاک وبرباد ہو!  تُو نے میرے معاملے میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا حق کیوں ادا نہ کیا۔ ‘‘  وہ اسی طرح رہے گا یہاں تک کہ اپنی ہلاکت و بربادی کی دعائیں کرنے لگے گا۔ ‘‘    (مصنف عبدالرزاق،کتاب الجامع، باب اصحاب الاموال،الحدیث:  ۲۰۹۸،ج۱۰،ص۱۳۵)

{102}…حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اُم المؤمنین حضرت سیدتنازینب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  کے پاس عطیہ بھیجا تو انہوں نے اسی وقت وہ سارا مال رشتہ داروں اور یتیموں میں تقسیم کر دیا اور دعا مانگی :  ’’ اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !  آئندہ سال عمر کا عطیہ مجھ تک نہ پہنچے، آپ نے ازواج مطہرات رضوان اللہ  تعالیٰ علیہن اجمعین میں سے سب سے پہلے وصال فرمایا۔ ‘‘

 (الطبقات الکبری لابن سعد،ذکرازواج رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمزینب بنت جحش،ج۸،ص۸۶ / ۸۷)

{103}…حضرت سیدناحسن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ خدا کی قسم!  جس کسی نے درہموں کی عزت کی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اسے ذلیل کر دیا۔ ‘‘                                  (حلیۃ الاولیاء،الحسن البصری،الحدیث: ۱۸۲۴،ج۲،ص۱۷۳)

{104}…منقول ہے کہ جب سب سے پہلے درہم و دینار بنے تو ابلیس نے انہیں اٹھا کر پیشانی تک بلند کیا اور چوم کر کہا :  ’’ جو تم سے محبت کرے گا وہ میرا حقیقی غلام ہو گا۔ ‘‘    (احیاء علوم الدین،کتاب ذم البخلالخ،بیان ذم المالالخ،ج۳،ص۲۸۸)

{105}…اسی لئے بعض بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیفرماتے ہیں :  ’’ یہ دونوں  (یعنی درہم و دینار)  منافقین کی لگامیں ہیں جن کے ذریعے انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ ‘‘                                  (المرجع السابق)

{106}…حضرت سیدنا ابن معاذ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ درہم ایک بچھو ہے، اگر تم اسے تعویذ کے بغیر پکڑو گے تو وہ تمہیں اپنے زہر سے قتل کر دے گا۔ ‘‘  پوچھا گیا :  ’’ اس کا تعویذ کیا ہے؟ ‘‘  تو آپ نے ارشاد فرمایا :  ’’ وہ یہ ہے کہ تم اسے حلال طریقے سے لو اور حق کی جگہ استعمال کرو۔ ‘‘                       (المرجع السابق)

{107}…جب حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے مرض الموت میں ان سے کہا گیا :  ’’ آپ نے اپنے تیرہ بچوں کو حالتِ فقر میں چھوڑ دیا کہ ان کے پاس نہ تو دینار ہیں نہ ہی درہم۔ ‘‘  تو آپ نے ارشاد فرمایا :  ’’ میں نے نہ ان کا حق ان سے روکا اور نہ ہی غیر کا حق انہیں دیا، میری اولاد ان دو قسموں میں سے ایک ہو گی یاتو وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی فرمانبردار ہو گی تب تو اللہ   عَزَّ وَجَلَّ انہیں کفایت کرے گا کیونکہ وہ صالحین کا والی ہے یا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمان ہو گی اس صورت میں مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ کس حال میں رہتی ہے۔ ‘‘  پوچھا گیا :  ’’ انہوں نے اپنا اتنا مال کس کے لئے خرچ کیا، اگر وہ اپنے بیٹے کے لئے جمع کر لیتے۔ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے فرمایا :  ’’ میں اسے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کے پاس اپنے لئے ذخیرہ کرنا چاہتا ہوں اور اپنی اولاد کے لئے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کو کافی سمجھتا ہوں ۔ ‘‘             (المرجع السابق،ص۲۸۸ / ۲۸۹)

{108}…حضرت سیدنا ابن معاذ رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  ’’ دو مصیبتیں ایسی ہیں جن کی مثل اگلوں پچھلوں نے نہ سنی ہوں گی جو بندے کی موت کے وقت اسے پہنچتی ہیں ایک تو یہ کہ میت کا سارا مال اس سے چھین لیا جاتا ہے دوسری یہ کہ اس سے سارے مال کا حساب لیا جاتا ہے۔ ‘‘         (المرجع السابق،ص۲۸۹)

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر129:         

قرض خواہ کا مقروض کو بلا وجہ تنگ کرنا

یعنی قرض خواہ کا تنگدست مقروض کی تنگدستی کو جاننے کے باوجود حرص کے سبب اس کے پیچھے پڑے رہنا یا اسے قید کرا دینا

{1}…حضرت سیدنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  روایت فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممسجد تشریف لائے تو اس طرح ارشاد فر مایا، پھر ابو عبد الرحمن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  نے زمین کی طرف اشارہ کیا :  ’’ جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اس کے قرض میں کمی کر دی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے جہنم کی تپش سے بچائے گا۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ  بن عباس، الحدیث:  ۳۰۱۷،ج۱،ص۷۰۰، ’’ بتقدمٍ وتأخرٍ)

{2}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمیہ ارشاد فرماتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے :  ’’ تم میں سے کسے یہ بات پسند ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے جہنم کی گرمی سے بچائے؟ ‘‘  ہم نے عرض کی، ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  ہم میں سے ہر ایک یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے جہنم کی گرمی سے بچائے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جو تنگدست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے جہنم کی گرمی سے محفوظ فرمائے گا۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ  بن عباس، الحدیث:  ۳۰۱۷،ج۱،ص۷۰۰)

{3}…مَحبوبِ رَبُّ العزت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اپنے مقروض کی پریشانی دور کرے یا اس کا قرض معاف کر دے وہ قیامت کے دن عرش کے سائے میں ہو گا۔ ‘‘   (المرجع السابق،الحدیث: ۲۲۶۲۲،ج۸،ص۳۶۷)

 تنگدست کوقرض کی ادائیگی میں مہلت دینے کی فضیلت

                قرض خواہ اگر تنگدست کو مہلت دے تو اس کے لئے عرش کے سائے میں جگہ پانے کے متعلق بہت سی احادیث آئی ہیں ، ان میں سے چند درج ذیل ہیں : ۔



Total Pages: 320

Go To